چائے کی معنویت


دنیا کارگہِ مجموعہ ہائے حقیقت ہے اور اس کارخانہِ قدرت میں بہت سی سچائیاں پائی جاتی ہیں۔ اکثر سچائیوں کا تعلق کسی خاص علاقے یا کلچر سے ہے جب کہ چند ایک سچائیاں ایسی ہیں جنہیں عالمگیری سچائیاں کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ کتاب کی افادیت، زمین کا گھومنا، وہموں کا پایا جانا، اور چائے کا کسی نا کسی صورت میں عالم کے تمام ممالک میں موجود ہونا۔

جہاں تک چائے کی بات ہے چائے کتاب اور موسم ایک ایسی تکون ہے جس کا دوسرا دریچہ شاید کسی حسیں جنت میں کھلتا ہے۔ چائے کے بہت سے حوالے اور معنی خیز روایات ہمارے یہاں پائی جاتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی افسانہ ناول یا ڈرامہ ایسا نہیں لکھا گیا ہو گا جس میں چائے یا چائے کی کسی معنوی ترکیب کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ یہی معاملہ چائے اور شاعری کا ہے کہ اگر شاعر کا دل رومان سے لبریز ہو تو کوئی بعید نہیں کہ اس کے ہونٹ چائے سے لبریز ہوں۔

آج یہ دیکھتے ہیں کہ شعرائے کرام نے چائے کو کب کب کس کس نظر یا زاویے سے دیکھا؟

امجد اسلام امجد کو چائے پینے سے زیادہ چائے پلانے میں دلچسپی ہے اور وہ بھی عین اس وقت پگھل جاتے ہیں جب محبوب چمچے سے چینی کو کپ میں گول گول گھماتا ہے

چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا

بھائی واہ۔ چائے نہ ہوتی تو چینی کو یہ مقامِ کبریائی کب میسر آتا۔
اب آگے دیکھیے تو کوئی ذیابیطس کا شکار شاعر چائے کو کسی اور پیرائے میں دیکھتا ہے۔
بشیر بدر کے ہاں یا تو محبوب کو ذیابیطس ہے یا پھر ”عاشقِ نامٹھاس“ کو شاید شوگر ہے۔ فرماتے ہیں

چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی
سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی

یہاں نیلی ٹیبلٹ سے مراد مصنوعی شکر کی گولی ہے جو کہ شوگر کے مریض استعمال کرتے ہیں۔ مگر علالتِ دیرینہ، عمرِ پارینہ اور چائے کے آبگینہ کا کیا درد انگیز امتزاج تخلیق کیا ہے۔

عصر حاضر کے سخن نگار منور رانا نہایت مہارت کے ساتھ چائے اور شعر کی ترتیب کو ترکیب میں ڈھالتے ہیں

شعر جیسا بھی ہو اس شہر میں پڑھ سکتے ہو
چائے جیسی بھی ہو آسام میں بک جاتی ہے

دہلی کے متعلق صراحت کی کہ ہر طرح کا شعر یہاں پڑھا جا سکتا ہے بلکہ سب غزل سازوں کو دہلی اپنی پناہ میں لے لیتی ہے اور آسام اور کینیا چائے کے گھر ہیں تو لہذا چائے جیسی بھی ہو آسام میں لازمی بک جائے گی۔ مجھے تو کہنے دیجیے کہ چائے جیسی بھی ہو پاکستان میں بِک جاتی ہے۔

تازہ لہجے کے مالک شاہین عباس لکھتے ہیں

چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھی
یوں چلے جانے سے مہمان کہاں جاتا ہے

جس سے قلبی واردات کا تعلق ہو وہ چلا جائے بھی تو دل سے کہاں جاتا ہے؟ چائے کی پیالی میں عاشقِ نامراد کو اس کی تصویر نظر آتی رہتی ہے۔

شمیم عباس جدید ہندوستانی شہر ممبئی کے رہنے والے ہیں مابعد جدید اردو غزل کے رجحان سے ان کا تعلق ہے۔ ما بعد جدید ادبی تناظر میں الفاظ کو باریک بینی اور سماجی بُنت کی مناسبت سے برتتے ہیں۔ ان کا شعر ملاحظہ کیجیے کہ

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے
زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے

دوڑتی بھاگتی زندگی کو صرف چائے کی دعوت نہیں دے رہے اس پورے مصرعے میں ”بیٹھ“ لفظ نے کیا تاکید اور معنویت پیدا کی ہے۔ چائے نوشی اور اس کی سماجی مقامیت کو کتنے متنوع سلیقے اور دلچسپ پیرائے میں ڈھال کر شعری شکل میں پیش کیا گیا۔

جہاں چائے میں محبوب کی تصویر نظر آتی ہے چینی ملانے سے نفسیاتی تسکین پہنچتی ہے وہیں ندا فاضلی نے چائے کے وسیلے سے حالاتِ حاضرہ کا ایسا نوحہ پڑھا ہے کہ یا اللہ۔

گھی مصری بھی بھیج کبھی اخباروں میں
کئی دنوں سے چائے ہے کڑوی یا اللہ

جب ہر روز اخبارات میں مہنگائی، لوٹ مار، قتل و غارت گری کی خبریں شائع ہوں گی تو فاضلی ایسے صاحب درد انسان کی چائے کڑوی ہی رہے گی۔

ختمِ مضمون سے قبل ایک شعر پہ نکتہ چینی بھی کر لی جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ ترونا مشرا نے شعر لکھا کہ

آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا
آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے

جب مشرا جی کو چائے بناتے ہوئے اس کی یاد آ گئی تو بھولے سے چائے میں پتی نہیں ڈالی۔ بھلے سے آپ کو یاد جس کی بھی آئی مگر یاد رکھیے کہ جب آپ نے پتی ہی نہیں ڈالی تو پھر وہ چائے تو نہ رہی کوئی شوریدہ آبی ہے مگر چائے نہیں۔ لہذا اگر آپ چائے بنا رہی ہیں تو جس کو مرضی یاد کیجیے پتی ڈالیے ورنہ اس آبِ سوختہ جاں کو چائے مت کہیے۔

چائے کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟

یہ بات مکمل وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ چین کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں چائے کی پہلی پیالی ”سُڑکنے“ کا اعزاز کسی چینی کو حاصل ہے مگر یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چشئیوں (چائے کے نشئ) کو آخری سانس تک چائے چاہیے اور عاقبت بھی اگر سنوری تو اس صورت میں کہ وہاں اگر چائے دستیاب ہو گی۔

Facebook Comments HS