ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں
رانڈ رہے جو رنڈوے رہنے دیں
رنڈی کس کی جورو، بھڑوا کس کا سالا
زیرِ نظر مضمون کا موضوع کوئی رنڈی، بھڑوا یا سالا نہیں بلکہ ہندوستانی خطیب مولوی عقیل الغروی کا شاعر میر انیس کے فن پر وہ تبصرہ ہے جو پاک و ہند کے بعض عوامی اور علمی و ادبی حلقوں میں شدت کے ساتھ محل نزاع ہے، چند ثانیوں پر مشتمل موردِ بحث مقتبس ویڈیو کا پس منظر بتاتا ہے کہ یہ ادبی نشست انجمن ترقی اردو پاکستان کے زیر سایہ تشکیل پائی۔ اس مقتبس ویڈیو میں مولوی عقیل الغروی کے میر انیس پر تبصرے کی تحریری صورت ملاحظہ فرمائیے :
”انیس بھی کچھ الفاظ ترک کر دیتے تو بہت اچھا ہوتا، تقدیسی ادب اور تقدیسی شاعری پر تو بعد میں بات ہو گی خود انیس کو اتنا مقدس بنا دیا ہے کہ ان کے خلاف ایک کلمہ نہیں سننا چاہتے۔ اچھا، انیس پر جو میں کہہ رہا تھا کہ بہت سی باتیں انیس کو ترک کر دینی چاہیے تھیں ؛ انیس کی زبان، انیس کی زبان، انیس کی زبان، کیا انیس کی زبان! جب وہ بیوہ کو رانڈ کہتے ہیں تو کیسا برا لگتا ہے! کتنی بار دہرایا ہے انھوں نے یہ کلمہ۔“
مذکورہ بالا تبصرے میں محل نزاع لفظ ’رانڈ‘ کے تہذیبی تجزیے سے قبل چند نکات کا ذکر ناگزیر ہے۔
1۔ خوش فکر و نکتہ سنج قارئین اس تحریر کے بے باک ضرب الامثال پر مبنی آغاز کی منطق بھانپ چکے ہوں گے کہ لفظ ’رانڈ‘ کے تاریخی و تہذیبی معانی کے تعین کے لیے اس کے مشتقات و محاورات موضوعِ بحث رہیں گے کیونکہ مولوی عقیل الغروی کے اعتراض کی نوعیت سے گفتگو منبر و محراب سے کو چۂ و بازار میں آ گئی ہے اور مشاہدۂِ حق کی گفتگو اب بہ طریق اولیٰ بادۂ و ساغر کہے بغیر بننے سے رہی۔
2۔ لفظ ’رانڈ‘ کے معروضی تجزیے میں، مخل ہو سکنے والی جانبداری اور جذباتیت و حساسیت کا راستہ روکنے کا پہلا بندوبست، جہاں بے باک ضرب الامثال پر مبنی آغاز ہے ؛ وہیں ان کے سدِّ باب کے لیے ہمارا دوسرا اقدام، بے جا اور بجا القابات کے بغیر ’مولوی عقیل الغروی‘ اور ’شاعر میر انیس‘ کہنے پر اکتفا کرنا ہے تا کہ بطور تجزیہ نگار انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے لہذا فریقین ہماری نظر میں مدعی (مولوی معترض) اور مدعا علیہ (میر انیس) سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ یہی مولوی معترض کے اس قول کا منشا ہے : ”خود انیس کو اتنا مقدس بنا دیا ہے کہ ان کے خلاف ایک لفظ نہیں سننا چاہتے۔“
3۔ واضح رہے کہ اگر مولوی عقیل الغروی کا اعتراض درست ثابت ہوتا ہے تو میر انیس کی زبان دانی اور شاعرانہ عظمت پر حرف آ کے رہے گا اور معترف انیس (جس پر زبان و ادب کی پاسداری لازم ہے کہ یہی میر انیس کا منشا ہے ) کو مولوی معترض کی تنقید اور اعتراض کو وقعت دینا ہو گی۔
اور اگر میر انیس پر اعتراض درست ثابت نہیں ہوتا، تو مولویِ معترض کو اپنے اعتراض سے نہ صرف رجوع کرنا، بلکہ فریفتگان انیس اور شیفتگانِ زبان و ادب کی دل آزاری پر ان کی معذرت؛ ان کی اپنی تہذیبی شرافت کی غماز ہو گی۔
مولوی عقیل الغروی کے اعتراض کی نوعیت کی چند ممکنہ صورتیں درج ذیل ہیں۔
1۔ اعتراض کی سب سے بظاہر زوردار صورت جو غالباً معترض کا مطمحِ نظر بھی ہے، یہ ہے کہ موردِ بحث لفظ برے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے لہذا یہ مذموم لفظ ہے جو مثبت معنوں میں اپنے ممدوح اور محبوب کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ مولوی ِ معترض کا تاکیدی لہجے کے ساتھ ’کیسا بُرا لگتا ہے‘ کہنا اس ممکنہ صورت کی دلیل ہے۔
2۔ اعتراض کی ایک ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لفظ ’رانڈ‘ متروک لفظ ہے اور اس کا استعمال میر انیس کے شایانِ شان نہ تھا۔ اعتراض کی اس ممکنہ صورت پر مولویِ معترض کا یہ جملہ شاہد ہو سکتا ہے کہ ”انیس بھی کچھ الفاظ ترک کر دیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ اس صورت میں اعتراض کے درست ہونے کے لیے لفظ ’رانڈ‘ کا میر انیس کے اپنے یا ما قبل زمانے میں متروک ہونا لازم ہے۔ واضح رہے کہ مولوی معترض کے زمانے میں موردِ بحث لفظ کا متروک ہونا میر انیس پر حجت نہیں بن سکتا۔
3۔ اعتراض کی ایک موہوم صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لفظ ’رانڈ‘ میں مولویِ معترض حرف ’ڈ‘ کی بنا پر صوتی ثقالت محسوس کرتے ہوں اور اسے لفظ ’بیوہ‘ سے بدلنا ضروری سمجھتے ہوں کیونکہ فعل کے وزن پر آنے میں دونوں لفظ یکساں ہیں۔ البتہ اس قسم کے اعتراضات ذوق پر منحصر ہیں اور ذوق ایک امرِ اضافی ہے بطورِ مثال اگر کوئی ”اس بے نصیب رانڈ کو لے آؤ لاش پر “ میں ’رانڈ‘ کو ’بیوہ‘ سے بدلنا چاہے، تو نصیب کی ’ب‘ اور بیوہ کی ’ب‘ کے التقا سے تنافرِ حروف لازم آ جائے گا، اور عیب تنافر کا گوارا یا ناگوار ہونا خود ذوق فرد پر منحصر ہے ؛ اس لیے اس اعتراض کی چنداں اہمیت نہیں۔
اب ہم اعتراض کی ممکنہ صورتوں پر ترتیب معکوس کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں تا کہ ہم آخر میں اصل اعتراض پر قدرے تفصیل سے بات کر سکیں۔
3۔ بحث کی ضرورت نہیں ہے۔
2۔ لفظ ’رانڈ‘ غیر فصیح اور متروک ہے یا نہیں اس کی بابت مہذب لکھنوی متوفی 1985 سے واضح رہنمائی ملتی ہے وہ اپنے لغت میں مورد بحث لفظ کو نہ صرف فصیح اور رائج بتاتے ہیں بلکہ اپنے کلام میں برت کر اس کا عملی ثبوت دیتے ہیں :
دار جہاں سے حق کا فدائی گزر گیا
تم رانڈ ہو گئیں مرا بھائی گزر گیا
1۔ اب مورد نظر لفظ کے تہذیبی سفر کے معروضی تجزیے کی نوبت آتی ہے لیکن اس سے قبل مولوی معترض کے بیان کا تلخ انداز ملاحظہ فرمائیے۔
”انیس کی زبان، انیس کی زبان، انیس کی زبان؛
کیا انیس کی زبان!
جب وہ بیوہ کو رانڈ کہتے ہیں تو کیسا برا لگتا ہے!
کتنی بار دہرایا ہے انہوں نے یہ کلمہ! ”
ان کے آخری جملے میں ’مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات‘ کے مصداق ایک ظریف نکتے کا بیان ضروری ہے کہ مولویِ معترض جس لفظ ’رانڈ‘ کو از حد برا، ، معیوب اور مذموم سمجھتے ہیں اسے لفظ کے بجائے ’کلمہ‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ جب کہ کلمے کا لفظ ہر چند با معنی لفظ، سخن، شبد وغیرہ کے معنوں میں بولا جاتا ہے، لیکن کلمہ لفظ کی طرح مثبت اور منفی استعمال میں یکساں نہیں ؛ بلکہ کلمے کا مفرد و بسیط حالت اور محاورے میں، مثبت اور مستحسن استعمال کی طرف رجحان واضح ہے اور اصطلاحی معنوں میں اس سے کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت مراد لیے جاتے ہیں۔ کلمے کے استعمال کے لیے اشعار ملاحظہ فرمائیے :
نظیر
جو اہل فضل عالم و فاضل کہلاتے ہیں
مفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیں
جرآت
کلمہ بھرے ترا جسے دیکھے تو بھر نظر
کافر اثر ہے یہ تری کافر نگاہ کا
بحر
کلمہ پڑھوں میں یار کا بعد وفات بھی
طوطی ہو میری گور کا سبزہ کسی طرح
اقبال
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
لفظ ’کلمہ‘ کا دوسرا حرف لام متحرک ہے لیکن شعرا اسے سکون کے ساتھ فعلن کے وزن پر باندھتے رہے ہیں درج بالا اشعار میں اس کے دونوں عروضی استعمال موجود ہیں۔
اب لفظ کا استعمال بھی ملاحظہ فرما لیجیے :
منیر
چبا کر ہونٹ غصے میں، غضب کی بد زبانی کی
عقیق لب پہ ان کے کھد گیا ہر لفظ گالی کا
ناسخ
ہے طلب سے اس قدر نفرت کہ رہتا ہے خیال
آ نہ جائے لفظ لب پر باب استفعال کا
غالب
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنی
کہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
جگر
دفتر ہے ایک معنی بے لفظ و صوت کا
سادہ سی جو نگاہ کیے جا رہا ہوں میں
اقبال ساجد
لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسے
پیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی
فاضل مولوی ایک نا اہل وکیل کی طرح اپنے دعوے کی عبارت میں لفظ کلمہ کا ویسا استعمال کر بیٹھے ہیں کہ جس کی معکوس صورت کو اپنے دعوے میں غلط کہہ رہے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ اگر ہم مولوی معترض کا دعویٰ من و عن قبول کر لیں کہ لفظ ’رانڈ‘ برا لفظ ہے کیونکہ اس کا ایک معنی برا ہے اور اس کا مثبت استعمال کسی کو زیب نہیں دیتا تو اسی دعوے میں اسی نازیبا لفظ (بقول مولوی معترض) ’رانڈ‘ کے لیے کلمے جیسا مثبت و مستحسن لفظ استعمال کر کے اپنے دعوے کی تردید کر رہے ہیں، قصہ مختصر فاضل مولوی اپنے دعوے میں میر انیس کے جس فعل (اچھے مقام پر برا لفظ لانا) پر معترض ہیں نفس دعویٰ میں خود اسی فعل کی معکوس صورت (برے مقام پر اچھا لفظ لانا) کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔
ناسخ کے جس مصرعے کے غالب بھی قائل ہیں، ’آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں‘ یہاں کیسی نئی معنویت کا حامل ہو چلا ہے۔
مولوی معترض خود کو نقاد اور شاعر کہتے ہیں لیکن ان کی تنقید اور سخن شناسی اس مقام پر آ چکی ہے جہاں درج ذیل اشعار بر محل ہو رہے ہیں :
شیخ نے اور بڑھائے ہیں مقامات انیس
نفی کرتے ہوئے کر بیٹھا ہے اثبات انیس
لکھنؤ دلی کی تہذیب گنے گی صاحب
لغزش شیخ بھی من جملہ کرامات انیس
اگر آپ لفظ ’کلمہ‘ کی ظرافت سمجھنے سے قاصر ہوں یا آپ کو اسے درست ماننے میں تامل ہو تو ہم اپنی بات دو سادہ مثالوں کے ذریعے اور واضح کر دیتے ہیں، آپ خطیب ہونے کے ناتے اپنی ہر گفتگو اور مجلس میں لفظ ’حضرت‘ اور لفظ ’صلوات‘ کو مقدس اور پاکیزہ معنوں میں بہ کثرت زبان پر لاتے ہوں گے ان دونوں الفاظ کے معانی بالترتیب جہاں کلمۂ تعظیم اور درود و برکات کے ہیں وہیں بطور دشنام اور گالی بھی مستعمل ہیں اور صلوات، رحمتوں، برکتوں، دشنام اور گالی کے ساتھ ساتھ باز آنے اور دست بردار ہونے کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔
لفظ ’حضرت‘ کے استعمالات ملاحظہ فرمائیے حضرت:
انشا اللہ خاں انشا
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر
مومن
ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار
ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں
اقبال
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں
اقبال
میں بھی حاضر تھا وہاں، ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرت ملا کو ملا حکم بہشت
عرض کی میں نے، الہی! مری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لب کشت
نہیں فردوس مقام جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کنشت!
داغ
جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو
چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
جون
ہے عرض ”حضرت غائب دماغ“ بندی کی
کہ اپنے عیب کی حالت کو غیب میں رکھنا
لفظ صلوات کے استعمالات بھی پیش خدمت ہیں :
ذوق
اٹھیں گے یار کی ٹھوکر سے لے چلو تشریف
نہیں تو پھر کوئی صلوات سن کے جاتے ہو
ظفر
دل بتوں کو دے کے دیں کا دھیان بھی جاتا رہا
دین کو صلوات ہے ایمان بھی جاتا رہا
حضرت گزشتہ را صلوات آئندہ را احتیاط پر عمل کرتے ہوئے لغت اور عجلت پر مبنی لغو اعتراضات سے باز آئیے اور آئندہ کے لیے دامن احتیاط تھام لیجیے۔ کیونکہ آپ کا لفظ ’رانڈ‘ پر سطحی اعتراض بعینہ ’حضرت اور‘ صلوات ’پر بھی وارد ہے اور آپ کا دعویٰ خود آپ پر دائر ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہم اس نوعیت کے اعتراض کو ابلیسی وسوسہ سمجھتے ہیں اور سیاق و سباق اور موقع و محل کے مطابق الفاظ کے معانی پر ایمان رکھتے ہیں اور لفظ حضرت کو سیاق و سباق کے مطابق کلمۂ تعظیم سمجھتے ہیں اور صلوات ہمارا محبوب ذکر ہے کہ یہ تو ذکر محبوب ہے اور ہم گناہ گاروں کے لیے بخشش اور شفاعت کا سامان ہے۔
یہاں ایک وضاحت ازحد ناگزیر ہے کہ مندرجہ بالا دو الفاظ (حضرت اور صلوات) جب بھی مقدس اور پاکیزہ معنوں میں بولے جاتے ہیں، تو کسی کو بھی ان لفظوں کے مذموم معانی کا خیال تک نہیں آتا کیونکہ یہ تبادر کے خلاف ہے اور اگر اس وقت ان الفاظ کے مذموم معانی کا کوئی قصد کرے تو اس کے خبث باطن کی دلیل ہو گی اور لفظ ’رانڈ‘ کا معاملہ بھی بعینہ ایسا ہے جو اس کے تاریخی اور تہذیبی تناظر میں خالق لوح و قلم کی توفیق سے روشن ہو جائے گا۔
جب لغت جھاڑنا یا چھانٹنا علمیت نہیں، تو محض لغت خوانی زبان دانی کے مترادف کیسے ہو سکتی ہے۔
قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
لفظ کی نفسیات اور مزاج شناسی محض لغات کی ورق گردانی سے ہاتھ نہیں آتی بلکہ مختلف ادوار کے فصحا اور ادبا کے گوناگوں استعمالات لفظ کی جملہ نزاکتوں کا پتا دیتے ہیں اور اجتماعی دانش کی کوکھ سے جنم لیتے ضرب الامثال لفظ کے معانی کی حتمی صورت گری کرتے ہیں۔
اب لفظ ’رانڈ‘ کے تاریخی اور تہذیبی سفر کو طے کرتے ہیں تا کہ واضح ہو کہ اردو تہذیب میں یہ لفظ پاکیزہ معانی و مصادیق کے لیے استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔
فضل علی فضلی کی کتاب ’کربل کتھا‘ میں ہمیں یہ لفظ ملتا ہے، جو ’روضۃ الشہداء‘ کے ترجمہ و تلخیص کی کوئی صورت ہے اور یہ غالباً شمالی ہند کی پہلی نثری کتاب ہے جو 1731عیسوی میں مکمل ہوئی، صفحہ 46 پر اس کی عبارت ملاحظہ فرمائیے :
”حضرت فاطمہ نے کہا: یا رسول اللہ ایک عرب دروازے پر کھڑا ہے، بصورت مہیب و بشکل عجیب، رخصت مانگتا کہ اندر آوے، ہر چند عذر چاہا، نہیں مانتا، حضرت نے فرمایا، یا فاطمہ، جانتی ہو یہ کون ہے، توڑنے والا لذتوں کا اور کاٹنے والا آرزوؤں کا ، جدا کرنے والا جمعیتوں کا ، رانڈ کرنے والا عورتوں کا ، یتیم کرنے والا فرزندوں کا ، ایسا حریف کہ بغیر کونجی دروازہ کھولے الخ۔
انیس سے قبل سودا کے ہاں اس لفظ سے تشکیل پانے والی ترکیب کا درد مند اظہار ملاحظہ فرمائیے :
دلہن کو بدل جوڑے کے رنڈ سالہ پہنایا
ہے خلعت نوشہ کے لیے فکر کفن کا
ماں کہتی تھی دلہن کی یہ رو رو کے ہر اک دم
بیٹی کے رنڈاپے سے بھی ہے مجھ کو بڑا غم
مولوی محمد جمال الدین صاحب بہادر بھوپال کی کتاب ’تبعید الشیطان بہ تقریب اغاثۃ اللہفان‘ کہ جو ابن قیم جوزی کی کتاب ’اغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان‘ کی تلخیص و تسہیل ہے، کے اردو ترجمے ’تہذیب الایمان‘ میں مولوی احسن صدیقی نانوتوی صفحہ 72 پر لکھتے ہیں :
”اور جو لوگ اس آیت کو منسوخ کہتے ہیں اس آیت سے و انکحوا الایامی منکم (بیاہ دو رانڈوں کو اپنی) ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کچھ مخالفت نہیں، بلکہ ایک میں خدا تعالیٰ نے رانڈوں کے نکاح کر دینے کا حکم کیا ہے۔“
زیر نظر تحریر کی طوالت سے گریز کی خاطر میر انیس کے معاصرین و متاخرین کے چند شعری استعمالات پے در پے ملاحظہ فرمائیے :
تعشق
رانڈیں تمھیں پکار رہی ہیں جواب دو
قلق
سارا اپنا اتار کر گہنا
جوڑا رنڈ سالے کا غرض پہنا
دبیر
شبیر کھڑے روتے تھے فرزند حسن کو
سیدانیاں رنڈ سالا پنہاتی تھیں دلہن کو
تعشق
بیوہ مجھے سب کہتے ہیں جو آئے گئے ہیں
کپڑے مجھے رنڈسالے کے پہنائے گئے ہیں
الطاف حسین حالی
آٹھ پہر کا ہے یہ جلاپا
کاٹوں گی کس طرح رنڈاپا
مہذب لکھنوی
دار جہاں سے حق کا فدائی گزر گیا
تم رانڈ ہو گئیں مرا بھائی گزر گیا
کوثر خیر آبادی
فقیروں کا تکیہ غریبوں کا ماویٰ
یتیموں کا مسکن تو رانڈوں کا ملجا
نہیں دوسرا بیکسوں کا ٹھکانا
رہے مامن و منزل شاہ بطحا
عجب خوش نما ہیں مدینے کی گلیاں
حریم خدا ہیں مدینے کی گلیاں
درگا سہائے سرور
کبھی شکوہ مقدر کا ، کبھی رونا ہے قسمت کا
رنڈاپے کا بھی صدمہ اف، ہے صدمہ کس قیامت کا
اٹھاؤں کس طرح کم بخت ٹوٹا ہے فلک سر پر
کیفی اعظمی
امڈی ہے کالی گھٹا دنیا ڈبونے کے لیے
یا چلی ہے بال کھولے رانڈ رونے کے لیے
پنجابی اور سرائیکی زبان میں واقعہ کربلا بیان کرنے والے کئی ذاکرین اور نوحہ خوان شہزادہ قاسم کی شہادت کی مناسبت سے ایک نوحہ پڑھتے ہیں جس کا شاہد مثال مصرع ملاحظہ فرمائیے :
کوئی دسیں ہا رنڈیپے دا چالا
یعنی
کاش یہ بتا جاتے کہ رنڈاپا کیسے کاٹنا ہے۔
لفظ ’رانڈ‘ کی بابت نگفتہ نماند کہ اسے ایک ایسا ما بہ الامتیاز حاصل ہے جو اردو میں نایاب نہیں تو بہت ہی کم یاب ہو گا جس کی بابت برج موہن دتاتریہ کیفی توجہ دلاتے ہیں ان کی بحث کا درج ذیل خلاصہ کیا جا سکتا ہے :
ادھر حیوان ناطق کی ذیل میں سب سے پہلے حضرت آدم کا اور ادھر برہما جی کا ظہور لازم گرداننا تھا کہ عربی اور سنسکرت میں الفاظ عموماً مذکر سے مؤنث بننے لگے۔ مرد کی سبقت عورت پر مذکر سے مؤنث کی ساخت کی منتج ہوئی۔ یہی حالت اردو میں ٹھیٹھ ہندوستانی اسموں کی ہے۔ لیکن اردو کے دو یا تین ہی لفظ ہوں گے جو مونث سے مذکر بنے ہیں جیسے رانڈ سے رنڈوا، وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لفظ کی صرف ادبی یا صرفی تاریخ نہیں ہوتی بلکہ سماجی اور نفسیاتی تاریخ بھی ہوتی ہے۔
مورد بحث لفظ کی سماجی اور نفسیاتی حیثیت سمجھنے کے لیے پاکستانی روزنامے ’ایکسپریس نیوز‘ میں جمعہ 6 اکتوبر 2023 کی رئیس فاطمہ کی ایک تحریر سے رجوع کرتے ہیں جس میں وہ سفر نامۂ ابن بطوطہ (مترجم مولوی محمد حسین) سے اقتباس نقل کرتی ہیں :
ایک لڑائی میں سات ہندو مارے گئے، ان میں سے تین کی عورتیں تھیں، انھوں نے ستی ہونے کا ارادہ کیا، ستی ہونا ہندوؤں میں واجب نہیں لیکن رانڈیں اپنے خاوند کے ساتھ جل کر مر جاتی ہیں، ان کا خاندان معزز سمجھا جاتا ہے اور وہ خود اہل وفا گنی جاتی ہیں اور جو ستی نہیں ہوتیں ان کو موٹے کپڑے پہننے پڑتے ہیں اور ہر طرح کی خواری میں زندگی بسر ہوتی ہے۔ ”
شاید اسی لیے اردو کہاوت ہے کہ رانڈ بیٹی مر گئی، جنم سدھر گیا،
اب کتاب بنام ’خواتین کربلا کلام انیس کے آئینے میں‘ کی مصنفہ ڈاکٹر صالحہ عابد حسین سے رجوع کرتے ہیں کہ وہ میر انیس کی نفسیات اور شرافت کو کیسے دیکھتی ہیں، کتاب کے صفحہ نمبر 4 پر لکھتی ہیں :
”میر انیس کی ذات میں ہمیں جو خودداری اور شرافت، بلند اخلاق، مذہب سے گہری عقیدت نظر آتی ہے وہ شہادت دیتی ہے کہ جس گود میں انھوں نے پرورش اور جس ہستی کی تربیت پائی، وہ اونچے اخلاق اور کردار والی ہو گی۔ بے شک ہمارے پاس اس بارے میں تفصیلی معلومات موجود نہیں لیکن عورت کا جو گہرا احترام اور اس کی عظمت کا جو نقش ہمیں کلام انیس میں نظر آتا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بچپن ہی سے ان کے دل میں عورت کی عزت کا احساس تھا۔“
صفحہ نمبر 4 اور 5 پر مزید لکھتی ہیں :
”میر انیس کے کلام سے جس میں سینکڑوں مرثیے اور ہزاروں اشعار ہیں، ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں عورت کا درجہِ بہت بلند ہے۔ عام طور پر وہ عورت کو محبت کی دیوی، حیا کی کان، ایمان کی جان، شرافت و نیکی کی تصویر، قربانی و ایثار کی مورتی سمجھتے ہیں۔“
اسی صفحے پر مزید لکھتی ہیں :
”میر انیس کے کلام کی ایک حیرت ناک خوبی یہ ہے کہ وہ عورت کی نفسیات، جذباتی کشمکش اور سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اس قدر سمجھتے اور اس کے احساسات و جذبات کی اس خوبی سے ترجمانی کرتے ہیں کہ تصویریں منہ سے بولنے لگتی ہیں۔“
مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی چشتی نظامی رسائل محرم مجلے کے صفحہ 322 پر اسیران کربلا کی جناب رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ اقدس پر حاضری کے وقت ان کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”آپ کی دکھیاری رانڈیں، آپ کی غم نصیب بیٹیاں، آپ کے یتیم بچے بڑے بڑے دکھ اور درد آپ کی امت کے ہاتھوں سہ کر آپ تک پہنچے ہیں۔ آپ سے فریاد کر رہے ہیں اے ضعیفوں کے مولا۔“
تفسیر سراج البیان میں سورۂ نور کی آیت 32 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے :
”اور اپنی رانڈوں اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرا دو ، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انھیں تونگر کر دے گا، اور اللہ سمائی والا جاننے والا ہے۔“
امین اصلاحی کا مندرجہ بالا آیت کا ترجمہ پیش خدمت ہے :
”اور اپنی رانڈوں اور رنڈووں اور ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے۔“
درج بالا شواہد مورد بحث لفظ کی تہذیبی حیثیت و فصاحت اور یہ نکتہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں، کہ لفظ ’رانڈ‘ نہ صرف یہ کہ غلط العام نہیں کہ جو فصیح ہوتا ہے، بلکہ اصح و افصح الفصحا ہے اسے غلط العوام مت بنائیے کہ عوام مغالطے میں جا پڑیں اور قول فیصل یہ ہے کہ اس کہاوت ’رانڈ رہے جو رنڈوے رہنے دیں‘ کے بقول رانڈ بس دکھیاری بیوہ ہے اور اس سے اپنا مطلب نکالنا بد بخت رنڈووں کا کام ہے شرفا کا نہیں۔


