لیفٹیننٹ ضرار شہید کی یاد میں
وہ دوپہر سرگودھا شہر کے لحاظ سے موسم گرما کی ایک عام سی دوپہر تھی، عام سی دوپہر کہ درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کو پہنچا تھا۔ گلیاں سنسان تھیں اور تمام ذی روح سایوں میں دبک کر بیٹھے تھے، مگر سول ہسپتال سرگودھا کی سٹاف کالونی کے درمیان واقع میدان میں کچھ بچے اپنے ماں باپ سے نظر بچا کر اُس تپتی دوپہر میں جمع تھے۔
سول ہسپتال کی سٹاف کالونی میں داخل ہوں تو پہلے ڈاکٹروں کی رہائش آتی ہے۔ سرخ اینٹوں کے قطار میں بنے بنگلوں کی ساخت ایک ہے۔ اس قطار سے آگے نکلیں تو بائیں جانب پیلے چونے میں لپٹے نرسوں اور ڈسپنسروں کے مکانات ہیں جن کے سامنے ایک میدان ہے۔ میدان کی دوسری جانب چار دیواری میں نرسنگ ہوسٹل ہے۔ میدان کو عبور کر کے چلیں تو آگے پانی کی بلند ٹینکی ہے جس کے ساتھ ایک نالہ بہ رہا ہے۔ نالے کے پار لوئر سٹاف کے کوارٹر ہیں۔ ان میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر، لیبارٹری ٹیکنیشن، وارڈ بوائے اور سویپر اپنے اپنے عہدے کی مناسبت سے کوارٹر میں رہائش پذیر ہیں۔
گو سٹاف کالونی میں رہائش طبقاتی فرق سے ہے، مگر کھیل کے میدان میں بچے کسی طبقاتی فرق کے بغیر کھیلتے تھے۔ کرکٹ ٹیم میں سول ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر اعظم کا بیٹا اگر اوپنر تھا تو اکرم وارڈ سرونٹ کا بیٹا چھیما فاسٹ بالر تھا، ڈسپنسر بادشاہ خان کا بیٹا امجد ٹیم کا بنیادی سپن بالر اور سسٹر ایف سی خان کے بیٹے راجو اور پپو بنیادی بلے باز تھے۔
گرمیوں کی وہ ایک عام سی دوپہر تھی۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں اور چرند پرند سایوں میں دبکے تھے، مگر سول ہسپتال سرگودھا کی سٹاف کالونی کے درمیان واقع میدان میں وہ بچے جمع تھے۔ میدان کے درمیان میں بنی پچ پر وکٹیں گڑی تھیں۔ وہ پچ ان بچوں نے خود بنائی تھی۔ مٹی وہ نالے کے ساتھ سے ٹینکی آپریٹر صدیق کی گدھا گاڑی پر لاد کر لائے تھے۔ صدیق کی گدھا گاڑی پر اُن کی ہمیشہ نظر رہی تھی، کتنی دفعہ موقع پا کر وہ گدھا گاڑی لے اڑے تھے۔ کوارٹر کے سامنے باہر لگے نلکے سے پانی پلاسٹک کے شاپرز میں بھر بھر کر پچ کو دیتے تھے۔ انہوں نے ہسپتال کے مالیوں سے بھاری رولر لے کر پھیر پھیر کر پچ کو ایک شکل دی تھی۔
پچ پر وکٹیں گڑی تھیں، مگر وہ کھیل نہیں رہے تھے بلکہ میدان کے ایک جانب لگے شہتوت کے درخت کے نیچے اکٹھے تھے۔ فضا میں سکوت تھا، بچے آپس میں دبے دبے لہجوں میں بات کر رہے تھے۔ کبھی کبھی وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا بھی دیتے تھے۔ گرمیوں کی وہ عام سی دوپہر ان کے لیے عام نہ تھی۔ فضا کا سکوت غیر معمولی تھا۔
آخرکار وہ لمحہ آن پہنچا جس کا انہیں انتظار تھا۔ مخالف سمت سے ایک اور ٹیم آتی نظر آئی۔ درخت کے نیچے کھڑے لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ایک واضح اضطراب ان میں محسوس کیا جاسکتا تھا۔
وہ لڑکے درخت کے سائے سے نکل کر پچ پر پہنچ کر رک گئے۔ دوسری ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔ دونوں ٹیموں میں بات چیت شروع ہوئی۔ آوازیں آہستہ آہستہ بلند ہوتی چلی گئیں۔ غصہ ان آوازوں میں ظاہر تھا۔ یکایک ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر گڑی وکٹوں میں سے ایک وکٹ اکھاڑ لی۔ عمل کی گھڑی آن پہنچی تھی۔
دونوں ٹیمیں بدست و گریباں تھیں۔ پتلونوں پر بندھی چمڑے کی بیلٹیں کُھل گئی تھیں۔ وکٹوں اور بیٹ کا آزادانہ استعمال شروع تھا۔
گرمیوں کی اُس دوپہر جب دونوں ٹیمیں پچ کے تنازعے پر لڑ رہی تھیں تو ضرار اور میں ساتھ تھے۔ ہم ساتھ تھے جب امجد کا سر پھٹا تھا، ہم ساتھ تھے جب ڈاکٹر اعظم کا لڑکا میدان چھوڑ کر بھاگا تھا۔ ہم ساتھ تھے جب چھیمے کو وکٹوں سے ضربیں لگ رہی تھیں۔ ہم ساتھ تھے جب طوفی نے اپنے کرتے کی جیب سے تیز نوک کی سائیکلوں کی تاریں نکالی تھیں جو اُس نے لڑائی کی تیاری میں بنائی تھیں۔
مگر دس اگست انیس سو ننانوے کے دن میں اُس کے ساتھ نہ تھا جب اُس کے ہوائی جہاز کو بھارتی جنگی جہازوں نے گھیرا تھا۔ مگر مجھے معلوم ہے جب اُس نے دیکھا ہوگا کہ اس کے جہاز کے آگے پیچھے جنگی جہازوں کا گھیرا ہے تو اُس نے جان لیا ہوگا کہ وہ لمحہ آن پہنچا ہے جس کا اس کو عرصے سے انتظار تھا۔ وہ بھاگنے والوں میں سے نہ تھا بخدا میں جانتا ہوں کہ وہ بھاگنے والوں میں سے نہ تھا بلکہ وہ اسی لمحے کا منتظر تھا، وہ لمحہ جو صرف خوش نصیبوں کے حصے آتا ہے، وہ لمحہ کہ قطرے کو گہر کر دیتا ہے۔ اس میں وہی جوش ہوگا جو گرمیوں کی اُس بے نام دوپہر سٹاف کالونی کے میدان میں اُس میں تھا جب باقی لڑکے بھاگ نکلے تھے، صرف وہ، میں اور چھیما تھے جو آخر تک لڑے تھے۔ خون آلود کپڑوں اور پھٹے سروں سے اُس وقت تک لڑے تھے جب تک شور سے کالونی کے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر لڑکوں کو علیحدہ کر رہے تھے۔
ہم دونوں بھائی مختلف تھے؛ وہ عمل ہی عمل اور میں خواب ہی خواب، وہ پریکٹیکل ہی پریکٹیکل، میں تھیوری ہی تھیوری، وہ کام ہی کام۔ متوسط طبقے میں جہاں ماں اور باپ دونوں کام کرتے ہوں، بڑے بچے کو باقی بچوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ شاید ضرورت بھی ہے کہ ماں باپ کی عدم موجودگی میں گھر بڑے بچے نے دیکھنا ہوتا ہے، ایسے میں دروازہ کھولنے کی عام سی بات سے لے کر مہمان آنے کی صورت میں بساط کے مطابق میزبانی کی ذمہ داری اُس پر ہوتی ہے۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی شکایت بھی لگانی ہوتیں۔ سروسز ہسپتال کی سٹاف کالونی میں دو منزلہ کوارٹر تھے اور اُن کے پچھلی جانب پرنالے اوپر تک جاتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دن دیکھا کہ وہ ایک پرنالے سے چھت پر جا چڑھا تھا۔ اس وقت اس کی عمر نو برس کے لگ بھگ ہوگی۔ مجھے ماں باپ کو اس کی اطلاع دینی پڑی۔ شاید انہی گرمیوں کی چھٹیوں کی بات ہے کہ ہم بچے گھر پر اکیلے تھے اور ایک فقیر گھر کے دروازے کو لگاتار کھٹکھٹا رہا تھا۔ ہم نے کھڑکی کی کونے سے اُس عجیب الخلقت شخص کو دیکھا تو ڈر گئے۔ وہ تھا کہ دروازہ مسلسل کُوٹ رہا تھا۔ بچوں کے اغوا کی کہانیاں شاید ہمیں ڈرانے کے لیے سنائی جاتی تھیں کہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔ ہم پریشان ہو گئے کہ وہ ہمیں فقیر کی روپ میں اغواکار لگ رہا تھا۔ پریشانی کا عالم تھا کہ اتنے میں ضرار گھر کے کسی صندوق میں چھپا ابا کا پستول نکال لایا۔ دلاسہ دیا کہ فکر نہ کریں اگر یہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا تو اسے گولی مار دوں گا۔ گھر آنے پر ماں باپ کو اس واقعہ کا بتایا تو پستول گھر سے نکال دیا گیا۔
بڑے بھائی ہونے کی بنا پر میں حکم دینے والا تھا؛ ایسے کرو، ویسے نہ کرو، اِدھر آؤ، اُدھر نہ جاؤ۔ ’’بڑا بھائی باپ کی جگہ ہوتا ہے‘‘، ایسے جملوں کے اپنے اثرات ہوتے ہیں، کہا نہیں جاتا مگر ایک فاصلہ کہیں سے چپ چاپ در آتا ہے۔
میں بیرونِ ملک پڑھنے چلا گیا۔ گھر کے معاملات اُس پر آ گئے، مگر مجھے احساس تھا کہ وہ انہیں مجھ سے بہتر دیکھ رہا ہوگا۔ عمل اور تھیوری کا فرق ہمیشہ ہوتا ہے۔ وہ جہاز اڑاتا تھا جبکہ میں تحقیقی مقالے لکھتا تھا، جو شاید باتیں ہی باتیں تھیں۔ ہماری ملاقات میں تین سال کا فاصلہ تھا۔
وہ مجھ سے چار سال چھوٹا تھا۔ ہم دونوں ایک سائیکل پر سکول جاتے تھے۔ دو بھاری بستے پیچھے کیرئیر پر رکھے، سرگودھا کی گرمی میں سول ہسپتال کی سٹاف کالونی سے ایر بیس انٹر کالج کا چند کلومیٹر کا سفر لمبا ہو جاتا تھا۔ ہم باری باری سائیکل چلاتے، کبھی ان باریوں پر لڑائی ہو جاتی، ایسے میں اب ایک فٹ پاتھ پر پیدل جا رہا ہوتا، اور دوسرا اُسے منانے کی کوشش کر رہا ہوتا۔
تین دفعہ اُس نے موت کو قریب سے دیکھا، تینوں دفعہ میں اُس کے ساتھ تھا۔
سول ہسپتال سرگودھا کے پیچھے فیکٹری ایریا سے ایک شارٹ کٹ تھا جس سے ہو کر جیل روڈ پر نکل جاتے تھے جس پر ہمارا سکول واقع تھا۔ اس پر ریلوے لائن آتی تھی اور کوئی کراسنگ نہ تھی۔ سائیکل کو بستوں سمیت اٹھا کر دو ریلوے لائنیں پار کرنا پڑتی تھیں۔ ایک دن ہم دونوں سائیکل اٹھا کر لائن پار کر رہے تھے کہ ریل گاڑی آ گئی۔ کچھ پریشانی، کچھ تیزی، کچھ ریل گاڑی کے ڈرائیور کا دیا گیا تیز ہارن، سب کے اثر سے سائیکل کا پچھلا پہیہ ہاتھ سے چھوٹ کر پٹری سے جا ٹکرایا۔ پہیے کا رم پٹری سے ٹکراؤ کی وجہ سے ٹیڑھا ہوگیا۔ دونوں بستے کیرئیر سے گر کر زمین پر پڑے تھے۔ ریل گاڑی کا ہارن بج رہا تھا اور ہم دونوں لنگڑی سائیکل کو پٹری سے گذارنے اور بستوں کو بچانے میں کوشاں تھے۔ ایسے میں ضرار کا پاؤں پٹری میں پھنس گیا۔ اس لمحے میں نے اس کو دوسری جانب دھکا دیا۔ بعض دھکے زندگی بچا بھی لیتے ہیں۔ اس کا پیر اس دھکے کی وجہ سے پٹری سے نکل گیا۔ سائیکل ایک جانب جا گری تھی جس کے ساتھ میں تھا۔ وہ دوسری جانب جا پڑا تھا، اور ہارن بجاتی ریل گاڑی درمیان سے گذر رہی تھی۔ ہمارے لیے اُس دن کے بعد سے وہ شارٹ کٹ ممنوع تھا۔
سردیوں کے دن تھے، رات کی بارش سے سڑک گیلی تھی۔ ہم سائیکل پر صبح سکول جا رہے تھے۔ آگے ایک تانگہ سکول کے بچوں کو لے کر جا رہا تھا۔ تانگے کو عبور کرتے سائیکل پھسل گئی۔ سائیکل پر آگے بیٹھا ضرار سڑک پر گرا تو تانگہ کے آگے تھا۔ وہ پھرتی سے ہٹا مگر پھر بھی اس کے ہاتھ پر سے تانگے کا پہیہ گذر گیا۔ یہ حادثہ کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔
ماں جی کی پوسٹنگ رحیم یار خان تھی۔ چھٹی کے ایک دن ہم پنجند ہیڈ ورکس پر پکنک کے لیے گئے۔ ہیڈ ورکس سے نکلتی ایک نہر پر ایک کشتی بندھی تھی۔ کشتی والے نے خاردار تاروں سے اسے باندھا تھا کہ کوئی اسے اپنی طرف نہ کھینچ لے۔ ضرار نے موقع جانا تو کنارے پر لگے درخت پر جا چڑھا کہ اس کی نہر پر نکلی شاخ سے اس کشتی میں جا اُترے۔ اب جب وہ شاخ پر پہنچ کر لٹکا تو پانی کے بہاو نے کشتی کو دوسری جگہ کو کر دیا تھا۔ اب وہ تیز بہتی نہر کے اوپر شاخ پر لٹکا تھا۔ اس کے شور پر میں وہاں پہنچا۔ سخت پریشانی میں میں نے خاردار تار کو کھینچا، ہاتھ زخمی تھا، مگر کشتی کو شاخ کے نیچے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ وہ اس طرح کشتی میں اتر گیا۔
10 اگست 1999 کو مگر میں اس کے ساتھ نہ تھا جب پاکستان نیوی کے تربیتی مشن پر نہتے اٹلانٹک جہاز کو بھارتی جنگی جہازوں نے میزائل کا نشانہ بنایا تھا، مگر عجب بات تھی کہ جہاز کے ملبے سے ملے چھوٹے بھائی کے بٹوے میں ماں کی تصویر کے ساتھ بڑے بھائی کی تصویر بھی تھی۔
ایک ہجوم تابوت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مناظر کی قطار ہے جو میرے سامنے چل رہی ہے۔ ان مناظر کا ایک کردار رخصت ہوا، ہمیشہ کے لیے رخصت ہوا، ایسے کہ مناظر بے رنگ ہو گئے۔ اس سے میری ملاقات میں تین سال کا وقفہ تھا۔اس وقفے میں سات سمندر کا فاصلہ تھا۔ سات سمندر پار جب میں پڑھائی کے سفر پر نکلا تھا تو علم نہ تھا کہ واپسی پر اُسے نہ پاؤں گا جس کے بھروسے پر عازمِ سفر ہوا تھا۔یہ سفر بھی عجیب ہیں۔ انجانی منزلیں آپ کو پکارتی ہیں، راہ کی بے یقینی،روح کی اداسی، آنکھوں کی نمی سب ساتھ چلتے ہیں۔ منزل کی کشش آدمی کو کھینچتے چلی جاتی ہے،پھر جدائی کا دکھ یک دم آن پہنچتا ہے، کاندھوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ایسا بوجھ جو کوشش کے باوجود بھی نہ اتارا جائے، بس ایک ڈھارس کہ جانے والا ایسا ہی چاہتا تھا، اور ہواباز کی قبر پر کندہ شعر حوصلہ دیتا ہے۔
جہاں میں لذتِ پرواز حق نہیں اُس کا
وجود جس کا نہیں جذبِ خاک سے آزاد





اللہ تعالٰی مرحوم اور جہاز میں موجود دوسرے عملے کی شہادت کو قبول کرے۔
اس حادثہ کے پیچھے ایک تیکنیکی معاملہ بھی درپیش تھا جس کے سبب حادثے سے بچا جاسکتا تھا۔
بہر حال انڈیا کے جنگی جہازوں نے پاکستانی حدود میں آکر اس جہاز کو تباہ کیا تھا اور کارگل میں نک چیتا کے فائر کا بدلہ قرار دیا تھا۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔