ادب اور اخلاقیات


ادب کی باقاعدہ اور مربوط تعریف عموماً نہیں کی جا سکتی البتہ ادب کو زندگی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ گویا ادب ایک ایسا جہاں تخلیق کرتا ہے جہاں زندگی کے ادھورے خواب پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انسان جس منظم اور اخلاقی زندگی کا خواب سجائے رہتا ہے اس کی تعبیر اسے ادبی شہ پاروں میں مل جاتی ہے۔

ادب چونکہ زندگی کے ان پہلوؤں کو روشن کرتا ہے جو اب تک قاری کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ لہذا اگر یہ پہلو غیر اخلاقی کڑواہٹ سے لتھڑے ہوں گے تو قاری کے لیے ناقابلِ قبول ہوں گے۔

داستان سے ناول تک اور جدید سے قدیم تک ہر معاشرے میں اخلاقی اقدار غیر متغیر رہی ہیں۔ حق گوئی، بہادری، دلیری اور خیر و شر کی کشمکش کسی بھی معاشرے کی اخلاقی اقدار ہو سکتی ہیں۔ لہذا ادیب یا شاعر ان اقدار سے صرفِ نظر کرے گا تو ایسا ادب تادیر قائم نہیں رہ سکے گا۔

جدیدیت کی رو میں بہتے ہوئے ادیبوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بیان کرنا شروع کیا تو ادب کا دائرہ جنس نگاری اور فحش نویسی کی طرف مڑ گیا۔ زندگی سے جنسیت کی اہمیت یا حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ادیب کو محض جنسی حظہ اندوزی کے لیے ادب تخلیق کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بے لگام عریاں نویسی ہی کی وجہ سے آج لکھنوی ادب کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ادب میں اخلاقی روایات کو مجروح کر کے یا پس پشت ڈال کر اعلیٰ فن پارے تخلیق نہیں کیے جا سکتے۔ ادیب یا شاعر کو واعظ نہیں بننا چاہیے بلکہ نہایت فن کاری اور فنی چابک دستی سے کام لیتے ہوئے ہیئت کے ساتھ ساتھ موضوع کی عمدگی کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ جس طرح الفاظ کی رنگینی اپنا جادو جگاتی ہے۔ اس رنگینی ہی میں اخلاقی رنگ بھی سمویا ہوا ہونا چاہیے۔

اخلاقی پہلو تحریر کا نمایاں وصف نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے گہرائی میں پنہاں ہونا چاہیے۔ جسے قاری خود تلاش کر سکتا ہے۔ دنیا کا ہر بڑا ادب اپنے اندر اخلاقی پہلو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ جس میں اخلاقی اقدار کا بیان سطح آب پر تیرتی کشتی کی طرح بیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ گہرائیوں میں گوہر آبدار کی طرح پردہ نشین ہوتا ہے۔ قاری تحریر کے سمندر میں غوطے لگا کر خود اس گوہر آبدار تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ بڑا ادیب پند و نصائح سے اپنی تحریر کو بوجھل نہیں ہونے دیتا بلکہ حظ اندوزی کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ اقبال کی شاعری اس کی عمدہ مثال ہے جس میں اخلاقی پہلو ہوتے ہوئے بھی ہیئت کی جمالیات سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں بھی خوبصورت تشبیہات و استعارات کے ریشمی پردوں میں اخلاقی درس ملتا ہے۔

ڈرامہ نگاری میں خیر و شر کی کشمکش کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ جس میں انجام عموماً خیر کے غالب آنے پر ہوتا ہے اور ناظر یا قاری کی جمالیاتی حس کو ٹھیس پہنچائے بغیر روحانی تربیت کا کام سر انجام پاتا ہے۔ شیکسپئر اور آغا حشر کاشمیری اس سلسلے میں نمایاں نام ہیں جو ہیئت اور موضوع میں توازن برقرار رکھتے ہیں۔
تاریخ پر مبنی ترک سیریز ”ارطغرل غازی“ اور ”کورولس عثمان“ میں بھی یہ وصف نمایاں نظر آتا ہے۔

ادیب معاشرے کا پروردہ ہوتا ہے اور معاشرہ ادیب کا پروردہ ہوتا ہے۔ ادیب ایک پھول کی طرح معاشرے کے اجڑے ہوئے چمن سے ابھرتا اور اپنی تخلیقات کی خوشبوؤں سے فضاؤں کو معطر کرتا ہوا تازگیاں بکھیرتا چلا جاتا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اس کی ادبی تخلیقات میں اخلاقیات کی چاشنی رس گھولتی ہو۔ ادب ہی سے معاشرے پروان چڑھتے ہیں لہذا ادبی فن پاروں میں اخلاقی اقدار کا فقدان معاشروں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ اخلاقیات سے انحراف کرنے والا فنکار کبھی بھی بام عروج پر فائز نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS