تیرہ کی لڑکی نہ سولہ کا لڑکا


تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے برطانوی قانون کے تحت چرچ آف انگلینڈ نے برصغیر پاک و ہند میں کرسچن میرج ایکٹ 1872 اور کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 متعارف کروائے۔ 1947 میں پاکستان کے علیحدہ ملک بننے کے بعد بھی وطنِ عزیز میں یہی قانون رائج رہے۔ 2011 میں قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے ایک انتہائی سنجیدہ کاوش کے تحت مسیحی وکلاء اور آمادہ فرقوں کی مذہبی قیادت کی مشاورت سے بوسیدہ کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 میں شق وار ترمیمات کر کے اسے پارلیمان میں پیش کرنے کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے یہ مجوزہ بل ٹیبل ہی نہ ہو سکا۔

2019 میں جب ڈاکٹر شیریں مزاری انسانی حقوق کی وزیر تھیں تو انھوں نے وسیع تر مشاورت کے بعد کرسچن میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ کا ایک مسودہ اپنی وزارت کی طرف سے تیار کروایا۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی اسے چند سفارشات کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ کمیونٹی ورلڈ سروس (CWS) ، نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) اور سنٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) نے اس پر رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ایڈووکیسی کی لیکن کیتھولک چرچ کی مخالفت سے یہ بل پاس نہ ہو سکا۔ انھیں بل کے طلاق والے حصے پر اعتراضات تھے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ جب چرچ آف انگلینڈ کے اپنے قانون بدل چکے ہیں۔ برطانیہ میں یہ مذہبی قانون کی بجائے سول لاء بن چکے ہیں تو پھر پاکستان جو ایک نو آبادی تھا وہاں کیوں ان بوسیدہ قوانین کو اپنائے رکھے جانے پر اصرار ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر 2022 میں اس وقت کے سینیٹر کامران مائیکل، ممبر نیشنل اسمبلی نوید عامر جیوا اور اقلیتی/پنجاب ممبر قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی نے یک نکتہ ایجنڈا کو سامنے رکھتے ہوئے صرف شادی کے لئے بچوں کی عمر بڑھانے پر کام شروع کر دیا۔ انھوں نے کرسچن میرج ایکٹ 1872 کی شق 60 میں ترمیم کے لئے حکمتِ عملی بنائی جس کے مطابق بچیوں کو تیرہ سال اور بچوں کو سولہ سال اور اس سے اوپر شادی کی اجازت ہے۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھر پور لابنگ کی گئی۔ سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت سے رجوع کیا گیا۔ اقلیتی بچوں کے وفود کی اس وقت کی کنوینر پارلیمنٹری کا کس آن چائلڈ رائٹس، مہناز اکبر عزیز؛چیئر مین سینٹ، صادق سنجرانی؛سپیکر قومی اسمبلی، راجہ پرویز اشرف؛گورنر پنجاب، بلیغ الرحمن سے ملاقات کروائی گئی جہاں بچوں نے اپنے حقوق کا چارٹر پیش کرتے ہوئے بچپن کی شادی کی ممانعت کے حق کو ترجیحی بنیاد پر رکھا۔

آخرکار ستائیس فروری کو اس وقت کے سینیٹر کامران مائیکل کے پیش کرنے پر کرسچن میرج (ترمیمی) ایکٹ 2024 سینٹ سے منظور ہو گیا۔ دس جولائی کو یہ ممبر قومی اسمبلی نوید عامر جیوا کی قیادت میں قومی اسمبلی سے پاس ہوا اور تئیس جولائی کو صدرِ پاکستان، جناب آصف زرداری نے بچوں کے وفد کی موجودگی میں اس پر دستخط ثبت کیے۔ یقیناً اس بل کے آنے سے پاکستان میں بچپن کی شادیوں میں کمی آئے گی۔ پاکستان 1990 سے بین الاقوامی معاہدہ برائے حقوقِ اطفال کا رکن ملک ہے جس کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد بچے ہوتے ہیں اور ان کی شادی نہیں ہو سکتی۔

اس لئے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ ملک میں بچپن کی شادیوں کی قانونی ممانعت ہو۔ پاکستان نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) میں بھی اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ 2030 تک ملک میں اٹھارہ سال سے کم افراد کی شادیوں کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس لئے ریاست اس بات کی پابند ہے کی تمام ملکی قوانین کا اس طرح جائزہ لے کہ بچپن کی شادیوں کی قانونی ممانعت ہو۔

اس ایکٹ کے منظور ہونے سے پاکستان میں مسیحی بچے اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کے نام پر جنسی زیادتی کا شکار نہیں ہوں گے۔ انھیں پائیدار ترقی کے اہداف میں 3 SDG# کے مطابق اچھی صحت اور خیرو عافیت کے مواقع ملیں گے۔ بچپن کی شادی جب بچوں کے جسم کی پوری نشوونما نہیں ہوئی ہوتی ان کی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوٹی عمر کی مائیں زچگی کی پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور ان کے نومولود بھی مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے شادی شدہ جوڑوں کی ذہنی پختگی بھی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ شادی شدہ زندگی کے تقاضوں کو صحیح طور پر نبھا سکیں اس لئے ان کے درمیاں لڑائی جھگڑے اور گھریلو تشدد کی صورتحال رہتی ہے۔

اس قانون کے پاس ہونے سے مسیحی بچوں کے لئے SDG# 4 کے مطابق تعلیم کا حصول ممکن ہو گا اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے بہتر معاشی مواقع ملیں گے جس سے 1 SDG#کے پیشِ نظر غربت میں کمی واقع ہوگی۔ جب لڑکی کی شادی کی عمر تیرہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال اور لڑکے کی عمر سولہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال کر دی گئی ہے تو اس سے بچوں میں عمر کی بنیاد پر امتیاز کا خاتمہ ہوا ہے۔ SDG# 5 کے مطابق یہ صنفی برابری کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔

جہاں کرسچن میرج (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے پاکستان کے بچوں پر دوررس نتائج مرتب ہوں گے وہاں اس سے آگے بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ یہ قانون قومی اسمبلی میں پاس ہوا ہے اس لئے اس کا دائرہ کار صرف اسلام آباد تک محدود ہے۔ تمام صوبائی اسمبلیوں کو چاہیے کہ وہ فی الفور آئین پاکستان کے آرٹیکل 144 کے مطابق اپنی اسمبلی میں قرار داد پیش کر کے اسے اپنے متعلقہ صوبے میں اپنا لیں۔ مینارٹی پرسنل لاز کیونکہ متعلقہ ملکی قانون کو سپرسیڈ (Override) کرتے ہیں اس لیے جہاں جہاں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں بچی کی عمر سولہ سال بھی ہے وہ مسیحی بچیوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ کرسچن میرج ایکٹ 1872 میں کئی اور خامیاں بھی ہیں جو اسی طرح سے کرسچن میرج (ترمیمی) ایکٹ 2024 میں بھی موجود ہیں جنھیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً نکاح پڑھنے والے پادریوں سے متعلقہ بے قاعدگیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھایا جائے اور خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانہ ہو۔ دن نکلنے کے بعد اور ڈوبنے سے پہلے نکاح پڑھنے کی شرط ان دنوں غیر ضروری ہے۔ نکاح رجسٹریشن کو یونین کونسل اور نادرا میں آسان اور یقینی بنایا جائے۔ نکاح کی کارروائی کا ترجمہ مادری زبان میں سمجھایا جائے۔ نکاح کے وقت کسی فریق کی دماغی بیماری یا ذہنی خلل کو چھپایا نہ جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ مسیحی بہن بھائیوں کی بہتری کے لئے کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 کا بھی جائزہ لینے اور اسے آج کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ طلاقیں تو ہو رہی ہیں اور غلط طریقوں سے ہو رہی ہیں۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS