مصنوعی قحط سالی
پرانے زمانے میں قحط سالی کی وجہ خشک سالی، پانی کی کمی یا فصل پر کسی مضر کیڑے کا شدید حملہ ہوتا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مجبوری یا بہادری سے اس قحط کا مقابلہ کرتے تھے۔ وہ ایک وقت کی روٹی کھا کر رات کو بھنے ہوئے دانے کھا کر اور گھاس، جنگلی جڑی بوٹیاں وغیرہ ابال کر گزارہ کرتے سال چھ مہینے بعد دوسری فصل ہونے پر قحط سالی کا خاتمہ ہو جاتا۔
آج کل ایک طرح کی مصنوعی قحط سالی آ گئی ہے کیونکہ اب کسی علاقے میں خوراک کی قلت دوسرے علاقے یا ملک سے غلہ لے کر پوری کر لی جاتی ہے چنانچہ اب یوں قحط سالی لائی جاتی ہے کہ پورے علاقے یا ملک میں کسی خاص ضرورت کی شے جیسے پیاز، ٹماٹر وغیرہ کی زیادہ قیمت رکھ دی جاتی ہے۔ اور اسی وجہ سے ضرورت کی بنیادی اشیاء کی قلت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
آج کل لوگوں پر مصنوعی کھادیں دے کر بڑے بڑے پھل حاصل کرنے کا جنون ہو گیا ہے لیکن اس سے پھلوں کا ذائقہ ماند پڑ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ فصل حاصل کرنے کے لالچ میں پیداوار پر اتنے مضر صحت کیمیائی مادے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ جس سے زمینیں جلد ہی بنجر ہو جاتی ہیں۔ پہلے زمانے میں ایسی کھاد ہوتی تھی جو زمین کو نقصان نہیں دیتی تھی۔ مثلاً پہلے مٹی میں گل سٹر جانے والی اشیاء ہی استعمال ہوتی تھیں اور ناکارہ ہونے پر انہی کو زمینوں میں گلنے سڑنے کے لیے پھینک دیا جاتا تھا جہاں وہ کھاد بن کر زمین کی زرخیزی بڑھاتیں۔ آج کل پلاسٹک اور دیگر مصنوعی و زہریلے مادوں سے بنی اشیاء استعمال ہوتی ہیں اور جب وہ ناکارہ ہو جاتی ہیں تو گلتی سڑتی نہیں ہیں، لیکن زیادہ تر ممالک میں ان کو گلنے والے کوڑے کے ساتھ ہی پھینک دیا جاتا ہے چنانچہ اس وجہ سے گلنے سڑنے والی اشیاء کھیتوں میں استعمال نہیں کی جا سکتی ہیں۔ بلکہ اب تو زہریلی کھادوں اور مادوں کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کو ڈبوں میں زیادہ عرصے تک محفوظ کرنے کے لیے ان پر ایسا مادہ چھڑک دیا جاتا ہے کہ اُن کی سطح سفید نظر آنے لگتی ہے۔ ماہرین بس عوام کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ ایسے پھلوں، سبزیوں کو اچھی طرح دھو لیا جائے۔ لیکن انگور، آلو بخارے، فالسے، جامن اور ایسے دیگر کئی پھل اتنے نازک ہوتے ہیں کہ انہیں رگڑ کر یا بار بار دھویا نہیں جا سکتا۔
دھونے سے یاد آیا کہ ایک بار ہم کراچی کمپنی (جی نائن مرکز اسلام آباد) گئے تو دیکھا کہ وہاں کچھ خوانچہ فروش آڑوؤں کو بڑے سے ٹب میں سرف کے پانی سے دھو رہے ہیں، ہم نے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو تو خوانچہ فروش نے فخریہ بتایا کہ ہم اپنے پیسوں سے سرف سے آڑو و دیگر پھل دھو رہے ہیں تاکہ یہ دکھنے میں اچھے نظر آئیں کیونکہ میلے آڑو عوام نہیں خریدتے۔ ہمیں یہ دیکھ کہ سخت دھچکا لگا کہ اب لوگ اس حد تک حسن پرست ہو گئے ہیں کہ کھانے پینے کی اشیاء کو سرف جیسے زہریلے مادے سے دھونے پر خوش ہو کر خریدتے ہیں۔ کیونکہ وہ سرف سے دھوئے گئے پھلوں کو عام پانی سے دوبارہ صاف بھی نہیں کر رہے تھے کہ مبادا کہیں اُن کی ”چمک“ ماند نہ پڑ جائے، جس کی وجہ سے سرف کا زہر پھلوں کے اندر سرایت کر رہا تھا۔ جب ہم یہ پوچھ گچھ کر رہے تھے تو ساتھ کھڑے دیگر افراد نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
نور پور تھل بھکر کے ایک بزرگ نے ہمیں اپنے گاؤں میں آنے والے مقامی قحط کی تفصیلات بتائیں۔ سنہ 61 کے آس پاس اس علاقے میں مقامی سطح پر قحط سالی آئی۔ اُس زمانے میں امداد نہیں ملتی تھی تو لوگ اپنی مدد آپ کرتے۔ وہاں ایسے تربوز ہوتے تھے، جن کا اپنا حجم تو چھوٹا ہوتا تھا لیکن اُن کے بیج زیادہ بڑے ہوتے تھے۔ یہ بیج الگ کر کے سُکھا کر عام طور پر گندم چنے اور گڑ کا شیرہ بنا کر اُس میں ایک میٹھی سوغات تیار کرتے جسے مقامی زبان میں ”مرونڈے“ کہا جاتا تھا۔ یہ بارانی زمینوں کا علاقہ تھا چنانچہ وہاں سردی کے موسم میں تربوز بوئے جاتے تھے۔ جن کو ”پتے“ کہتے تھے۔ قحط سالی آنے پر وہ ان بیجوں کو آٹا مشین سے پسواتے اور پھر اس میں تھوڑی سی گندم ڈال کر روٹی پکاتے تھے۔ یہ آٹا باریک نہیں ہوتا تھا کیونکہ بیجوں کی وجہ سے تیل بھی نکل جاتا تھا جو آٹا مشین کو جام کر دیتا۔ اس طرح کی روٹی کو چائے یا لسی کے ساتھ ہی نگلا جا سکتا تھا لیکن ہر ایک کے پاس لسی یا مکھن یا چائے کی استطاعت نہیں ہوتی تھی اور یہ آٹا بھی زیادہ مقدار میں نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ رات کو کچھ بھنے ہوئے چنے اور ثابت بیج کھا کر سو جاتے۔ کسی کے پاس اگر گڑ والی چائے پکانے کی استطاعت نہ ہوتی تو گڑ کی ایک ڈلی لے کر چائے کی چسکیوں کے درمیان کبھی کبھار چکھ لیتے۔ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔
وہاں قصائی کی دکانیں بھی نہیں تھیں چنانچہ کچھ لوگ اکٹھا ہو کر جانور ذبح کر لیتے۔ یوں ہر ایک کے حصے میں دو چار کلو گوشت آ جاتا۔ وہاں کے تقریباً ہر گھر کی اپنی زرعی زمین تھی لیکن برے وقتوں کے لیے پیسا بچا کر رکھنے پر یقین رکھتے تھے اس لیے عام طور پر ہر فرد زیادہ سے زیادہ تین جوڑے لباس استعمال کرتا تھا جن میں سے ایک بہت کمزور ہوتا تھا جسے وہ اسی وقت استعمال کرتے کہ جب نئے دو جوڑوں کو مرمت کی ضرورت پڑتی تھی۔ عام طور پر ایک میلے جوڑے کو دھونے پر دوسرا جوڑا پہنا جاتا۔
ہر ایک کے گھر کا اپنا جانور ہوتا جس کا دودھ استعمال کرتے، کسی کا جانور بیمار ہوتا تو وہ دوسروں سے دودھ مانگ لیتا۔ اسی طرح ہر گھر کے اندر اپنا باغیچہ ہوتا کہ وہ اپنی سبزیاں اور پھل اسی میں بوتے اور اُن کو استعمال کرتے۔ اسی طرح مرغیاں بھی پالتے۔ اگر کسی کے پاس مرغی یا بکری خریدنے کی استطاعت نہ ہوتی تو وہ کسی دوسرے سے ”آدھے“ پر بکری یا مرغیاں مانگ لیتے۔ یعنی بڑا ہونے پر آدھی مرغیاں اور بکریاں مالک کو واپس کر دی جاتیں۔ کچھ لوگ دودھ کے لیے جانور مانگ بھی لیتے اور جب اس کا دودھ ختم ہو جاتا تو مالک کو واپس کر دیتے۔ اس وقت وہاں ایک لڑکوں کا پرائمری سکول ہوتا تھا جس کی عمارت بھی نہیں تھی، لڑکے درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے۔ پانچویں کے بعد نور پور یا سرگودھا جانا پڑتا۔ آج وہاں اسی گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ کالج تک ہیں۔ علاقے میں نہروں کا پانی آنے سے زمینیں اب بارانی کی بجائے مکمل زرعی بن گئی ہیں۔
آج کے زمانے میں لوگ بُرے وقتوں کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھتے اور جھوٹی شان و شوکت دکھانے کے لیے اخراجات بڑھا لیتے ہیں۔ یوں جب سیلاب یا قحط سالی آتے ہیں تو لوگ حکومت یا مخیر افراد کی طرف امداد کے لیے دیکھتے ہیں۔ یہاں ہمیں پشتو کی ایک کہاوت یاد آ جاتی ہے۔ ”سدھو پور غوشتئے، بدھو لا نور غوشتئے“ ۔ تفصیل یہ ہے کہ سدھو نے بدھو کو کچھ رقم ادھار دی۔ ایک دن وہ اپنا قرض مانگنے کے لیے بدھو کے پاس گیا تو بدھو نے اُسے دیکھتے ہی مزید قرض کا مطالبہ کر دیا۔


