ارشد ندیم کی کامیابی: کریڈٹ بزدار حکومت کے وزیر کھیل تیمور بھٹی کا
مہنگائی کے عذاب اور ظالم حکومت کے مصیبتوں کے موسم میں ارشد ندیم کی پیرس اولمپکس میں ریکارڈ کامیابی نے عوام کو جینے کی اُمید دلائی ہے، ارشد ندیم سے 2019 ءسے تعلق ہے جب اس نے ساؤتھ ایشیئن گیمز میں 86.29 میٹر تھرو کر کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیتا، ارشد نے جیولن میں اپنے کیریئر کا آغاز 2015 ءسے کیا تھا، ساؤتھ ایشیئن گیمز میں ریکارڈ بنانے کے بعد اس وقت کے پی ٹی آئی کی پنجاب اور مرکز میں حکومت تھی اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ کے وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی تھے، اس ریکارڈ کے بعد رائے تیمور بھٹی نے ارشد ندیم کی بھرپور سرپرستی کی
وطن واپسی پر اس کی بھرپور پذیرائی کی اور انعامات دیے، کامن ویلتھ گیمز 2022 ءمیں بھی ارشد ندیم نے 90.17 میٹر تھرو کر کے نیا ریکارڈ بنایا تھا، رائے تیمور بھٹی نے ارشد ندیم کا ٹیلنٹ دیکھتے ہوئے اس کے خوابوں کی تعبیر کے لئے اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا اور ہر طرح کی سہولت فراہم کی، ٹوکیو اولمپکس 2021 ءکی تیاری کے لئے پنجاب سٹیڈیم لاہور میں ہر طرح کی سہولت دی جن میں رہائش، کھانا، کوچنگ، جیولن و دیگر چیزیں شامل تھیں اس کے ساتھ ارشد کا مورال بلند رکھنے کے لئے وقتاً فوقتاً میڈیا کے سامنے بھی لاتے رہے جس سے ارشد ندیم کے حوصلے بلند ہوئے
ارشد ندیم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے تیمور بھٹی نے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ارشد ندیم کی فیملی کے ساتھ ملاقات کرائی، یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی، ملاقات میں ارشد کی فیملی میں ان کے والدین بچے اور دیگر شامل تھے، یہی وہ موقع تھا جب ارشد نے اولمپکس میں ریکارڈ بنانے کا عہد کر لیا تھا کیونکہ ایک غریب خاندان کو شاہی عزت بخشی گئی تھی، ایک بیٹے کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے غریب والدین کا فخر بن گیا تھا پھر اس نے قوم کا فخر بننے کا تہیہ کر لیا
ٹوکیو اولمپکس 2021 ءکی تیاری کے لئے ارشد ندیم نے جان توڑ محنت کی اور اس کو رائے تیمور بھٹی کی جانب سے ہر آسائش فراہم کی گئی، مالی تعاون بھی کیا گیا اور جب ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے لئے روانگی کا وقت آیا تو رائے تیمور بھٹی نے پنجاب سٹیڈیم میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا، میڈیا کو بھی مدعو کیا گیا جس میں ارشد ندیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پنجاب کے سپوت سے بہت امیدیں ہیں، دہائیوں سے پاکستان نے اولمپکس میں کوئی بھی تمغہ نہیں جیتا، اولمپکس کا میڈل ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور اب ارشد ندیم اس خواب کی تعبیر بنے گا اور میڈل جیت کر لائے گا، اس کے ساتھ رائے تیمور بھٹی نے اس کو ایک لاکھ روپے اور ان کے کوچ کو پچاس ہزار روپے نقد دیے
اس موقع پر ارشد ندیم نے اعتراف کیا اور کہا کہ میں بزدار حکومت اور وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی کا بہت مشکور ہوں جنہوں نے مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے ورنہ شاید میں ہمت ہار جاتا اس موقع پر ارشد ندیم نے اپنے شہر میاں چنوں میں جیولن سٹیڈیم بنانے کی فرمائش کی جس کو رائے تیمور بھٹی نے فوراً منظور کر لیا جس پر بعد میں کام بھی شروع ہو گیا مگر بزدار حکومت جانے کے بعد وہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہوسکا۔
ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کے مقابلے کو براہ راست دکھانے کے لئے وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی نے جمنیزیم ہال میں شاندار اہتمام کرایا، تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل سکرین لگائی، ڈھول والے بلائے گئے، کھلاڑیوں کے رش سے جمنیزیم مکمل بھر گیا تھا، جب مقابلہ شروع ہوا تو جمنیزیم ہال نعرہ تکبیر سے گونج اٹھتا تھا، بدقسمتی سے ارشد ٹوکیو اولمپکس میں فٹنس کے مسائل سے دوچار ہو گیا اور مقابلے کے وقت کچھ نروس ہو گیا جس کی وجہ سے وہ میڈل کی دوڑ میں تو شامل نہ ہوسکا مگر ٹاپ فائیو میں شامل ہو گیا، ٹاپ فائیو میں دہائیوں بعد شامل ہونا بھی کسی میڈل سے کم نہ تھا، واپسی پر رائے تیمور بھٹی نے ارشد ندیم کی ہمت بندھائی اور اس کو محنت جاری رکھنے کی ہدایت کی
پھر حکومت تبدیل ہو گئی، نگران حکومت میں ایک تحفہ نگران وزیر کھیل کرکٹر وہاب ریاض کا دیا گیا، پھر 8 فروری کو 2024 کو عام انتخابات کے نتیجہ میں مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت بن گئی، موجودہ عوامی حکومت کی وزیراعلیٰ پنجاب مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف ہیں ان کی کابینہ میں نوجوان کو وزیر کھیل مقرر کیا ، امید تو تھی کہ نوجوان سپورٹس کے فروغ کے لئے بہت پرجوش ہو گا مگر افسوس یہ امیدیں جلد ہی ٹوٹ گئیں
فیصل ایوب کھوکھر کی سپورٹس سے دلچسپی کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ارشد ندیم پیرس اولمپکس کی تیاری کئی مہینوں سے کر رہا تھا، ایک دو بار اس نے وزیر کھیل سے ملاقات بھی کی مگر کوئی خاطر خواہ سہولت حاصل نہ کر سکا، اولمپکس سے چار ماہ قبل میاں چنوں میں ایک ایونٹ میں میڈیا نے ارشد سے اولمپکس کی تیاری کے حوالے سے پوچھا تو ارشد نے کہا کہ میرے پاس تو پیرس اولمپکس میں استعمال ہونے والی جدید جیولن ہی نہیں ہے، پرانی جیولن سے ہی پریکٹس کر رہا ہوں، اس کا انٹرویو میڈیا پر چلا تو بھارت کے جیولن تھرو کے ٹوکیو اولمپک کے چیمیئن نیراج چوپڑا نے شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان پر حیرانی ہے کہ وہ اپنے کھلاڑی کو سپورٹس کا سامان بھی مہیا نہیں کر سکتی جو اولمپک کی تیاری کر رہا ہے۔
نیراج کے ان کمنٹس پر ہمارے وزیراعظم شہباز شریف نے سپیڈ پکڑ لی اور ارشد ندیم کو اسلام آباد بلوا کر جیولن خریدنے کے لئے کچھ رقم دی جس کے بعد ارشد ندیم اچھے انداز میں ٹریننگ کرنے لگا، پھر رفتہ رفتہ اولمپکس کی تاریخ نزدیک آنے لگی مگر وزیر کھیل پنجاب کی سرد مہری نے ارشد ندیم سمیت دیگر کھلاڑیوں کو بھی مایوس کیا، وزیرصاحب ارشد سے ملنا ہی گوارا نہیں کرتے تھے، پھر ارشد نے پریکٹس کے لئے سپورٹس بورڈ پنجاب سے جگہ مانگی تو اسے پنجاب سٹیڈیم لاہور دیدیا اور ساتھ ہی سپورٹس بورڈ پنجاب نے سمر کیمپس بھی شروع کرا دیے جس سے سٹیڈیم میں صبح شام سو سے زائد کھلاڑی موجود رہتے
جیو کے سپورٹس رپورٹر سہیل عمران ارشد ندیم کی پریکٹس کی خبر بنانے کے لئے پنجاب سٹیڈیم پہنچے اور پوچھا ارشد تیاری کیسی ہو رہی ہے تو ارشد نے کہا کہ یہاں رش دیکھ لیں میں نے نیزہ پھینکنا ہو تو کئی کئی منٹ کھلاڑیوں کی منتیں کرتا ہوں کہ ”پیچھے ہٹ جائیں میں نے تھرو پھینکنی ہے، کہیں نیزہ نہ لگ جائے“ ، ان حالات میں کیا پریکٹس کروں گا، جیو پر خبر چلنے کے باوجود وزیر کھیل پنجاب فیصل ایوب کھوکھر اور ڈی جی سپورٹس پنجاب نے کوئی نوٹس نہ لیا اور ان حالات میں ہی ارشد پریکٹس کرتا رہا، افسوس تو یہ ہے وزیر کھیل فیصل کھوکھر نے ارشد کی اولمپکس کے لئے روانگی کے موقع پر کوئی تقریب منعقد نہ کی۔
محکمہ سپورٹس پنجاب کی سپورٹس سے لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ ارشد ندیم کے فائنل مقابلہ براہ راست پیرس سے دکھانے کے لئے بڑی سکرین ہی نہ لگائی، جیسا کہ تیمور بھٹی نے لگائی تھی، افسوس ہے کہ پنجاب کا بیٹا دنیا کا ایک معرکہ سر کر کے تاریخ رقم کرنے والا تھا مگر وزیرکھیل پنجاب اور سپورٹس بورڈ پنجاب کے لئے اس کی کوئی اہمیت نہ تھی، اہل کراچی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جہاں کے میئر مرتضیٰ وہاب نے شہر بھر میں ارشد ندیم کی بڑی بڑی سکرینیں لگائیں اور مقابلہ براہ راست دکھانے کے لئے ٹی وی سکرینیں لگا کر عوام میں جوش و جذبہ پیدا کیا
اولمپکس کا تاریخی ریکارڈ بنانے کے بعد ارشد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا میں اس سے بھی زیادہ لمبی پھینک سکتا تھا، یہ فقرہ پنجاب حکومت اور وزیر کھیل پنجاب کے منہ پر طمانچہ تھا کیونکہ یہ چند لوگ ہی جانتے تھے کہ ارشد نے کن حالات میں پنجاب سٹیڈیم میں تیاری کی تھی، ارشد کے ریکارڈ توڑنے اور پاکستان کو چالیس سال بعد گولڈ میڈل دلانے پر سب سے پہلی مبارک وزیرکھیل پنجاب نے ہی دی تھی کیونکہ اس کو علم ہے کہ یہ وقت اب ملائی کھانے کا ہے۔


