بنگلہ دیش میں تبدیلی


ماہر معاشیات پروفیسر محمد یونس، 1940 میں جنوبی بندر گاہی شہر چٹاگانگ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1965 میں معاشیات میں پی ایچ ڈی کے لیے فلبرائٹ اسکالرشپ پر ریاست ہائے متحدہ کی وینڈربلٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، انہوں نے 1969 میں تعلیم مکمل کی۔ وہ مڈل ٹینیسی اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے۔ 1972 میں، یونس ایک آزاد بنگلہ دیش واپس آئے، اور ملک کے نئے پلاننگ کمیشن میں ایک مختصر مدت خدمات انجام دینے کے بعد ، چٹاگانگ یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات کا حصہ بن گئے۔ 1976 میں، پروفیسر محمد یونس نے یونیورسٹی میں اپنے فیلڈ ورک کے حصے کے طور پر چٹاگانگ کے قریبی دیہات کا دورہ کیا جو چند سال قبل قحط سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے گاؤں کے 42 لوگوں کو 27 ڈالر کا قرض دیا اور پتہ چلا کہ ان میں سے ہر ایک نے شیڈول کے مطابق رقم واپس کی۔ یہ گرامین بینک (گاؤں کا بینک) کا آغاز تھا جس نے غریب لوگوں کو نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے مائیکرو کریڈٹ کی فراہمی کا آغاز کیا۔ یونس کو ”غریبوں کا بینکر“ کے طور پر جانا جانے لگا کیونکہ انہوں نے اپنے بینک کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں مدد کی۔ اگر چہ اس میں سود شامل تھا۔ بنک نے ٹیکسٹائل سے لے کر موبائل ٹیلی کام اور براڈ بینڈ جیسے بڑے شعبوں سمیت زندگی کے ہر شعبے میں سرمایہ لگایا۔ رفتہ رفتہ عالمی شہرت پروفیسر یونس کا پیچھا کرنے لگی۔ 2006 میں، پروفیسر محمد یونس اور گرامین بینک کو ”نچلی سطح پر معاشی اور سماجی ترقی“ کے لیے کام کرنے پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ اس وقت تک ان کا ماڈل ترقی پذیر دنیا میں بھی مشہور ہو چکا تھا۔ بینک نے تقریباً 100 فیصد کی واپسی کی شرح کے ساتھ، 70 لاکھ سے زائد قرض دہندگان، جن میں 97 فیصد خواتین تھیں، کو 7 بلین ڈالر سے زیادہ کا قرض دے چکا تھا۔

پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ ”میں دیکھ رہا ہوں کہ غریب لوگ ہر روز غربت سے باہر نکل رہے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم غربت سے پاک دنیا بنا سکتے ہیں۔ جہاں ہمیں غربت نظر آنے والی واحد جگہ عجائب گھروں، میں ہوگی۔ نوبل انعام پانے کے چند ہی ماہ بعد پروفیسر محمد یونس نے سیاست میں قدم رکھا۔ 2007 میں محمد یونس نے ’ناگرک شکتی‘ (عام شہری کی طاقت) کے نام سے سیاسی تحریک پر کام شروع کیا جو ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بنانے کی کوشش تھی۔ اس وقت دو جماعتوں شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا غلبہ تھا۔ پروفیسر محمد یونس کو حسینہ واجد نے سیاسی خطرہ سمجھا اور انہیں گرامین بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا، اور انہیں غریبوں کا “ خون چوسنے والا قرار دیا۔

’طاقت کی رسہ کشی اور سیاسی رقابتوں سے مایوس ہونے کے بعد محمد یونس جلد ہی سیاسی میدان سے پسپا ہو گئے۔ تاہم اس اعلان کے باوجود حکومت سے ان کے تعلقات بہتر نہ ہو سکے۔ پروفیسر محمد یونس اور حکومت کے درمیان چپقلش بڑھتی چلی گئی۔ یکم جنوری 2024 کو ملک کے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے الزام کے تحت گرامین ٹیلی کام کے تین ساتھیوں سمیت پروفیسر یونس کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ انھوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی اور پھر ضمانت پر رہا ہوئے تو بیرون ملک چلے گئے۔

شیخ حسینہ واجد چوتھی بار انتخابات جیت کر ملک کی وزیراعظم بنیں تو انھیں جنوبی ایشیا کی آہنی خاتون کہا گیا، لیکن بنگلہ دیش میں سیاسی بساط اگلے سات ماہ میں یوں پلٹی کہ محمد یونس عبوری حکومت کے نگران سربراہ بن چکے ہیں جبکہ انھیں ’عوامی دشمن‘ قرار دینے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ چکا ہے۔ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے مطالبے پر عبوری سربراہ بننے والے 84 سالہ معیشت دان کو ان کی قسمت چھ ماہ میں اقتدار کی دہلیز پر لے آئی۔

وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے، جن پر احتجاج کرنے والے طلبہ اعتماد کرتے دکھائی دیے۔ پروفیسر یونس نے حسینہ حکومت کے خلاف ہفتوں جاری رہنے والے طلباء کی زیر قیادت مظاہروں کو سراہا، وہ حسینہ کی 15 سالہ آہنی ہاتھوں والی حکمرانی کے ناقد رہے۔ ان کے بقول "یہ ہمارا خوبصورت ملک ہے جس میں بہت سارے دلچسپ امکانات ہیں۔ ہمیں اس کی حفاظت، اسے اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک شاندار ملک بنانا چاہیے۔

پروفیسر محمد یونس نے تاریخ کے مہلک ترین مظاہروں کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالی، جس میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ انہیں ان بڑے چیلنجز کا سامنا ہو گا :

• امن و امان قائم کرنا۔ •معیشت کو بحال کرنا۔ •آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی راہ ہموار کرنا۔ •سول سروس، پولیس اور عدلیہ سمیت ملک کے اداروں کی سیاست کاری کا سد باب کرنا۔

شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پروفیسر یونس نے بیان دیا تھا کہ ’بنگلہ دیش آزاد ہو گیا ہے۔ ‘ ملک بھر میں لوگ جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب تک وہ (شیخ حسینہ) موجود تھی ہم مقبوضہ ملک تھے۔ وہ کسی آمر، فوجی جنرل کی طرح حکومت کر رہی تھی اور ہر چیز پر کنٹرول رکھ رہی تھی۔ آج بنگلہ دیش کے سب لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں۔ ”ہم ایک نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لیے ایک خوبصورت ملک بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ وعدہ ہے جو ہم طلبہ اور نوجوانوں سے کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے مستقبل کے رہنما ہیں۔“ تجزیہ نگار محمد یونس کی تقرری کوایک اچھا انتخاب قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کا بین الاقوامی پروفائل 170 ملین کی جنوبی ایشیائی قوم کی مدد کرے گا۔

ملک کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے ہی پروفیسر محمد یونس نے واضح کر دیا کہ انہیں اقتدار کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے بعد سیاست سے لاتعلق ہو جائیں گے۔ گویا وہ طلبہ تحریک کے حقیقی مقصد کو آگے بڑھائیں گے اور انتخابات کے ذریعے ملک کی باگ ڈور عوام کے نمائندوں کو منتقل کر دیں گے :

عمران خان چند ہفتے پہلے اپنا موازنہ شیخ مجیب سے کرتے تھے جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ شیخ مجیب کی مقبولیت کو طاقت سے کچلنے سے تباہی آئی تھی، اگر وہی طرز عمل میرے ساتھ اختیار کیا گیا تو وہ پاکستان مزید ٹوٹتا دیکھ رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کا انجام ان کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ اب جبکہ حسینہ واجد کا انجام سامنے آ چکا انہوں نے حسبِ معمول یوٹرن لیا مگر بات بن نہیں پائی۔ ہر بات میں عجلت کی وجہ سے اب بیانیہ بنانے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

انقلاب کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ ایسے آثار نہیں۔ وہ دیکھ لیں کہ بنگلہ دیش کا مجموعی طور پر نظام وہی ہے اس کا صرف ایک پرزہ تبدیل ہوا ہے۔ یہی جمہوریت کا امتیاز ہے کہ اس نظام میں پر امن تبدیلی کا راستہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، سوائے اس کے کہ حکمران فسطائیت کی راہ اپنائے۔

پاکستان کے حالات کا بنگلہ دیش سے موازنہ بظاہر درست نہیں لگتا۔ پاکستان میں مہنگائی ضرور ہے لیکن ریاست عوام سے براہِ راست متصادم نہیں۔ ہمیں حالات کے تحت اپنے مسائل سے نمٹنا ہے۔ انقلاب نہ بنگلہ دیش میں آیا ہے نہ پاکستان میں آئے گا۔ تبدیلی آ سکتی ہے لیکن یہ پُرامن اسی وقت ہو سکتی ہے جب طاقت اور اقتدار جبر سے دور رہے۔

Facebook Comments HS