پاکستان میں دھرنوں سے عوام کو صرف لارے ہی ملتے ہیں

احتجاج کرنا ایک جمہوری حق ہے ۔ تہذیب یافتہ اقوام میں احتجاج کرنا کافی موثر ہوتا ہے اس سے حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتی ہے اور معاشرے میں اگر مطالبہ جائز ہو تو اس کی حمایت کی جاتی ہے ۔ مگر ہمارے ملک میں یہ تاریخ کچھ زیادہ متاثر کن نہیں ہے ۔ اس کی وجوہات بھی ہیں ۔ پاکستان میں اول تو خالص عوامی مفاد کی سیاست کا وجود نہیں ہے اور پھر یہاں احتجاج ہمیشہ ذاتی مفاد ، شہرت اور مقتدر قوتوں تک رسائی اور قبولیت کے لیے کیے جاتے ہیں ۔
کچھ احتجاج اور دھرنے مقتدر قوتیں خود بھی منیج کرتی ہیں جس کی مثال ہمیں یورپ اور دوسرے ممالک میں نہیں ملتی۔ فقہ جعفریہ نے 1980 میں دھرنا دیا تھا ۔ اس کے بعد مارشل لائی حکومت نے طاقت کے زور پر لوگوں کو اس کام سے محروم ہی رکھا ۔ پھر اس سلسلے کو جماعت اسلامی کے مرحوم امیر قاضی حسین احمد نے شروع کیا اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اسلام آباد کی پارلیمنٹ ہاؤس کا دیدار کرا کر رخصت کرتے رہے ۔ آج تک لوگوں اور ان مارچوں کے شرکا کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کس لیے گھروں سے نکلے تھے اور مختلف راستوں پر پولیس سے چھپن چھپائی اور لڑائی مار کٹائی کرتے کرتے پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ کر ان کا کو نسا مقصد پورا ہوا ۔
پھر جب قاضی صاحب کی ضرورت نہیں رہی تو ایک نیا کردار ڈاکٹر طاہر القادری کی شکل میں درآمد کیا گیا ۔ ان کے دو دھرنے اب بھی اسلام آباد کے مکینوں کو یاد ہیں ۔ان کے پیروکار اسلام آباد میں بیٹھ کر اس خوبصورت اور پرسکون شہر کو گندگی کا ڈھیر بناتے رہے اور سپریم کورٹ اور دیگر ادارے کی دیواروں اور جنگلوں پر شلواریں سکھاتے رہے اور اسلام آباد کے مکینوں کا جینا حرام کرتے رہے اور ان کی موجودگی سے پاکستان کا امیج بھی دنیا بھر میں خراب ہوتا رہا ۔
مگر اس کا انجام بھی وہی ہوا ۔آج بھی اگر ان دھرنوں میں شریک کسی سے پوچھا جائے کہ کس لیے دھرنا دیا تھا اور دھرنے کے نتیجے میں کیا حاصل ہوا تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس کے بعد عمران خان کا دھرنا شروع ہوا جس نے ایک میلے کی شکل اختیار کی اور اس میں روز شام کو ناچ گانے اور کنسرٹ کا انتظام ہوتا تھا۔ مگر اس کا نتیجہ بھی کچھ نہیں نکلا۔ اب طاہر القادری کی جگہ ایک نئے کردار کو متعارف کروایا گیا خادم رضوی کا، انہوں نے تحریک لبیک کے نام سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا اور پولیس کے ہزاروں جوانوں کو دان رات مصروف رکھ کر ایک دن اپنا دھرنا ختم کردیا۔
اس کا حاصل کیا ہے آج تک کسی کو اس کی سمجھ نہیں آئی ، وہ فوت ہو گئے اس کے بعد ان کا یہی کام ان کے بیٹے کے سپرد کردیا گیا ، پھر ایک دن فضل الرحمن صاحب اچانک سندھ سے مدارس کے طالب علموں کو جمع کر کے اسلام آباد پہنچ گئے اور اسلام آباد کے شہریوں کے صبر کا امتحان لیتے رہے۔ پھر وہی ہوا۔ لوگوں کو ہفتوں عذاب میں ڈال کر سڑکوں پر لیٹا کر اچانک انہیں کہہ دیا گیا کہ بس اب مقصد پورا ہوگیا اب واپس جاؤ، آج تک کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ اس دھرنے کے نتیجے میں کونسا انقلاب آیا، کیا تبدیلی آئی، ملک میں کو نسا اسلامی نظام نافذ ہوا۔
اب حالیہ دنوں میں اچانک جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا اور اپنے کارکنوں کو لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ اس بار ان کا کوئی سیاسی نعرہ نہیں تھا۔ آئی پی پیز کے خاتمے ، ملازمین پر بے جا ٹیکسوں، اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات کے خاتمے اور اس طرح کے دلکش نعرے لیکر جماعت اسلامی نے جب اسلام آباد کا رُخ کیا تو پہلی بار عام آدمی کو بھی اس دھرنے میں کوئی مقصدیت نظر آنے لگی اور وہ حلقے جو جماعت اسلامی کو اس لیے سنجیدہ نہیں لیتے تھے کہ یہ ہمیشہ سے کہتے کچھ اور کرتے کچھ رہے ہیں وہ بھی ان کے ہمنوا ہونے لگے تھے۔
اگر ان کا یہ دھرنا کچھ روز اور باقی رہتا تو یہ یقین تھا کہ سول سوسائٹی کے سنجیدہ لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہو جاتے مگر پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ دھرنا ختم ہوگیا۔ اگر اس دھرنے کو علامتی طور پر کرنا ہی تھا تو بچارے پاکستان بھر سے آئے ہوئے غریب لوگوں اور مخلص کارکنوں کو سخت گرمی میں اتنے دن سڑک پر رکھنے اور سونے پر مجبور کیوں کیا گیا۔ ماضی کی طرح ان کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کا دیدار کرا کر صاحب سے اپنا انعام وصول کر کے رخصت ہو جاتے۔
اب کی بار جو ہوا ہے اس کا ایک شدید نقصان پاکستان کی سیاست کو ہو گا اور جماعت اسلامی کو بھی ہو گا کہ اب ان پر کوئی بھی اعتبار نہیں کرے گا اور نہ ان کے ساتھ کسی جلسے، جلوس یا دھرنے میں شریک ہوگا۔ ملک کا سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ ہمیشہ ایک متبادل اور مخلص سیاسی جماعت کی تلاش میں رہا ہے، اس تلاش نے عمران خان کو مقبولیت حاصل کرنے میں مدد دی اس لیے کہ شروع شروع میں ان کے بیانات اور دعوے بھی ایسے ہی تھے۔
معمول کی سیاست کرنے والوں کو تو سب پاکستانی جان چکے ہیں کہ یہ اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے اپنے مالی ، تجارتی مفادات ہیں جن کے استحکام کے لیے یہ مافیاز میں خود بھی موجود ہوتے ہیں اور ان کو مزید مضبوط کرنے کا کام بھی سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ایسا لگتا ہے کہ ان مافیاز سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو باقی لسانی و مذہبی بنیادوں پر سیاست کرتے ہیں وہ بھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ طاہر القادری جیسے لوگ اب ہر ایک مذہبی جماعت میں پیدا ہوچکے ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لیے اپنے ماننے والوں اور مریدوں اور مقلدین کو ہتھیار بنا کر اپنے ذاتی مفادات کا حصول ممکن بناتے ہیں۔
پاکستان کو چھوڑ کر اگر دوسرے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی دھرنے دئیے جاتے ہیں مگر ان کا ایک واضح اور متعین مقصد ہوتا ہے اور جب تک وہ واضح مقصد حاصل نہیں ہوتا ان ملکوں میں لوگ اپنا دھرنا جاری رکھتے ہیں۔ مگر اس دھرنے کو کسی تخریب کاری اور ذاتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں یہ دعویٰ ہمیشہ سے حکومتیں کرتی ہیں کہ وہ اور مقتدرہ ایک ہی پیج پر ہیں۔ لیکن اندرون خانہ ایسا نہیں ہوتا ، حکومت کو متعین کردہ حدود اور قابو میں رکھنے کے لیے پاکستان میں یہ دھرنے موثر ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان دھرنوں کے ذریعہ بعض اوقات بہت سارے اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ جونہی ملک میں یہ دھرنے شروع ہوتے ہیں ملک کے میڈیا کا مکمل فوکس ان پر چلا جاتا ہے اور صبح شام اس کے تذکرے ہوتے ہیں اور وہ مسائل اور کام جن کو ان دھرنوں کی آڑ میں چھپایا جاتا ہے یا نظر انداز کیا جاتا ہے اس سے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ دھرنوں کی کامیابی کے لیے مذہبی جماعتوں کے کارکن فوراً دستیاب ہوتے ہیں۔ اس ملک میں طلبا کا رول دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، حالیہ دنوں میں اسرائیل کی بربریت اور ظلم کے خلاف امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں صرف طلبا نے ہی دھرنا دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں حالیہ تبدیلی ان ہی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی جو شکل رائج ہے اس میں حقیقی ترقی کا خواب دیکھنا محال ہے۔ یہاں اشرافیہ کی بی ٹیم ہی تمام سیاسی جماعتوں پر قابض ہیں ۔ جو ملکی مفاد کے بجائے اشرافیہ اور شخصی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس لیے اس ملک میں سفید پوش افراد کا جینا عملاً ناممکن ہوگیا ہے۔ ایسے میں سیاسی تاریخ کے مطابق احتجاج کرنا بہت آسان اور سہل ہوجاتا ہے اور ان احتجاجوں کو عوامی مدد سے کامیاب بھی بنایا جاسکتا ہے۔
مگر اس مقصد کے لیے ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ نے حقیقی اور عملی کام نہیں کیا۔ ایسے میں جب کچھ جماعتیں جن کا ماضی کا ریکارڈ بھی تسلی بخش نہ ہو وہ اس عمل کو مزید سست اور ناقابل عمل بنانے میں کو شاں نظر آتے ہیں۔
آپ بھی کہیں گے ہم نے صرف سیاسی دھرنوں کا ذکر کیا ہے وہ دھرنے جو بلوچوں ،پشتونوں،ہزارہ اور دیگر قوموں نے مختلف مواقع پر دئیے ہیں ان میں بھی لارے ہی ملے ہیں۔ پی ٹی ایم کا سب سے پہلا اور مشہور دھرنا جو اسلام آباد میں ہوا تھا اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔ راؤ انوار ابھی بھی مزے کر رہا ہے، دوبئی میں اربوں کی جائیدادیں، بچے انگلینڈ میں اور خود پاکستان میں پروٹوکول میں پھر رہا ہے۔
اس لیے پاکستان میں جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے وہ سب ڈراما ہے۔ اس ڈرامے سے کچھ کردار فائدہ اُٹھاتے ہیں اور پورے پاکستان کے عوام کو لارے ملتے ہیں۔ اس لیے اپنے بچوں کو آئندہ اس طرح کے دھرنوں اور مارچوں سے دور رکھیں کہ یہ سب کچھ لوگ اپنے ذاتی فائدے، سیاسی شہرت اور مافیاز کی ڈیمانڈ پر کرتے ہیں اور ہمارے سادہ لوح عوام اور کارکن اس کا ایندھن بنتے ہیں۔ ان دھرنوں سے پاکستان کے مصیبت زدہ عوام توقعات وابستہ کرتے ہیں اور پھر ان کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے جس سے ان کی مایوسی میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر اس پر بھی اس ملک کے ان سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے جاہل کارکنوں کی عقل دیکھیں کہ وہ ان تمام دھرنوں کے اچانک ختم کرنے کو اپنے لیڈروں کی حکمت قرار دیتے ہیں اور کچھ تو اسے فتح عظیم بھی ثابت کرنے میں کو شاں نظر آتے ہیں۔
انہیں ’’ لارا‘‘ کا مطلب کوئی سمجھا دے۔

