خوشبو میں بسے خط، ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی مائیں


سب سے پہلے تو پیرس میں پاکستان کو چالیس سال بعد ملنے والے اولمپکس گولڈ میڈل پہ مبارک باد قبول کیجئے۔ ہم سوشل میڈیا پہ ایک جملہ بار بار دیکھ رہے ہیں کہ لڑکے میدان میں کھیل رہے تھے اور دل دونوں کی ماؤں نے جیت لئے۔ بے شک ایسا ہوا۔ جیتنے والے کا ظرف تو ویسے ہی بڑا ہو جاتا ہے، ذرا پیچھے رہ جانے والے کے ظرف کی آزمائش ہوتی ہے جس میں ہمیں بڑا ظرف نظر آیا۔ یہ بہت بری بات ہے نیرج چوپڑا کی والدہ کو سلام ہے۔ بے شک سلام ہے کہ انہوں نے ارشد کو بیٹا کہا۔

اب بات یہاں تک ختم ہو جاتی تو ہم بات شروع ہی نہ کرتے۔ ادھر ایک رات جشن کی گزری دوسرے دن طلوع آفتاب کے ساتھ سب کے ظرف کی کھال اترنے لگی۔ ہم عجیب معیوب مزاج بنتے جا رہے ہیں۔ ہم ان دو سادہ ماؤں کو گلوری فائی کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ ہمارا سماجی مزاج حقیقت سے الگ ہو چکا ہے ایک کمزور عورت ہمارے لئے قابل فخر ہے ان دو سادہ ماؤں کو یہ بھی کم ہی علم ہو گا کہ ان کے بیٹے کے کھیل کی کیا نوعیت ہے؟

ہمیں عورت کی یہ صورت اچھی لگتی ہے کہ وہ خود بے چاری ہو اور اس کے رشتے کے مرد کامیابیوں کی منازل طے کرتے رہیں اور یہ گھر کی چار دیواری میں ان منازل پہ فخر کرتی رہیں کہ واہ میں فلانے کامیاب مرد کی ماں، بیوی، بہن یا بیٹی ہوں، ہونا چاہیے فخر بالکل ہونا چاہیے یہ رشتوں کا حسن ہے مگر کامیاب عورت کا کامیاب شوہر، بھائی اور بیٹا ہونا بھی اتنا ہی بڑا فخر ہونا چاہیے یہ حسن کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس سے سماج محروم ہے۔

بہرحال دونوں مائیں صاحب ظرف نکلیں یہ بات قابل داد ہے۔ دونوں مائیں جذباتی بھی نہیں تھیں بٹوارے کا درد پنجاب کی شہ رگ بھی تو ہے۔ خیر بات ابھی صرف ظرف و محبت کی ہے درد کی لکیر کی بات ہم نہیں کریں گے۔

بات عورت کی ہے تو جناب من جس طرح مرد کی بے شمار اقسام ہیں یونہی عورت بھی اپنی ذات میں مکمل انسان ہے صرف بے بس ماں نہیں ہے جس نے اپنے بیٹوں کی کامیابیوں پہ گیت گانے ہوتے ہیں۔ اس رشتے کو اتنا گلیمرس نہ کریں دنیا کے ہر خطے میں بے شمار سفاک مائیں موجود ہیں جو اپنی اولاد کو کھا جاتی ہیں، چھوڑ جاتی ہیں، یا آگ میں جھونک دیتی ہیں لیکن مسئلہ وہیں کا وہیں نصاب سے لے کر گھر و سماج تک سب کے لئے عورت دیوی یا طوائف ہے درمیان میں انسان کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ عورت انسان ہے تو عورت کا لکھا معیاری ادب پڑھنا شروع کریں۔ عورت کا لکھا معیاری ادب و آرٹ، نہ کہ اصلاحی اور خوابی قسم کی کہانیاں اور ڈرامے! وہ ادب جہاں عورت انسان ہے۔

ابھی ڈراما ”خوشبو میں بسے خط“ کا شاندار اختتام ہوا ہے جس میں بہت سے ادیب حضرات و خواتین کا خیال تھا کہ یہ ان کا کردار ہے۔ نہیں جناب ایسا نہیں تھا یہ آپ سب کا کردار عالیشان نہیں تھا۔ سماج میں بنی انسان کی نئی تصویر تھی جس میں اگر آپ کو اپنا آپ دکھائی دیا ہے تو پھر ’چور کی داڑھی میں تنکا‘ ہے۔ جوں جوں ڈراما آگے بڑھتا گیا داڑھی بچی ہی نہیں تنکے رہ گئے۔ چھوڑیں، اس کو بھی قصہ پارینہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں اور اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

اس ڈرامے کے صرف نسائی کرداروں کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ماں کوئی گلیمرس رشتہ نہیں ہے۔ ایک عورت ایک انسان ہے۔ اس ڈرامے میں یہ رشتہ اپنے سماجی معنی کو باطل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

ہمارا سماجی خیال ہے سوتیلی ماں سفاک، جابر، شاطر، منافق عورت ہوتی ہے مگر یہاں تو سوتیلی ماں فرشتہ صفت نکلی جس نے حسنہ کو اپنی اولاد کی طرح پالا بلکہ اس سے بڑھ کر اس رشتے پہ اپنی جان لگا دی کہ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہو سکی مگر اس نے گلہ نہیں کیا کہ اس کو اس خدمت نما محبت کا صلہ نہیں ملا۔ صلہ کی صورت بھی وہ نہیں ہوتی جو ہم نے تصور و تخلیق کی ہوئی ہے۔ اسی کردار میں دوسرا منفرد پہلو جو صلہ کے مروجہ تصور کو پاش پاش کرتا ہے۔ بیٹے والدین کے نہیں بنتے، بیٹیاں اپنی ہوتی ہیں میتیں ان سے سجتیں ہیں۔

حسنہ ہو یا پرویز دونوں کو ایک ہی عورت نے پالا مگر حسنہ نے اپنا الگ رستہ منتخب کیا اور پرویز نے اپنی خالہ کو ماں کا دیوی والا رتبہ دے دیا۔ اسے خدمت والی محبت و رشتوں سے نکال کر ایک انسان والا سکون دیا لیکن حسنہ یہ نہ کر سکی جو پرویز کر گیا۔ گویا ہر سوتیلی ماں بھی سفاک، ظالم اور جابر نہیں ہوتی۔
یہ دو ٹیبوز ٹوٹے۔ چلیں آگے بڑھتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں اس کردار کے عین مقابل کردار کی رخشندہ، جہاں آرا کی ماں جو اس کی سگی ماں ہے مگر نہ تو وہ اپنے شوہر سے وفا کر سکی، نہ اپنی اولاد سے، اس نے جانتے بوجھتے اپنی بیٹی کو اس آگ میں جھونک دیا جس میں وہ خود کودنا چاہتی تھی۔ اپنی جوانی کی لاحاصل محبت نرگسیت کے مارے زریاب احمد سے جوانی میں ہوئے عشق کو وہ ساری عمر نہ بھلا سکی۔

شاطر مرد اصل میں عورت کے جذبات سے کھیلنا جانتا ہے اور ہم اپنی بیٹیوں کو یہ نہیں سمجھاتے کہ یہ محبت نہیں ہے۔ عاشق مرد جذبات تک بات نہیں لے کر جاتا وہ اندھا ہوتا ہے شادی کر لیتا ہے۔ اس کے بعد من کے تار پہ ہاتھ رکھتا ہے۔ رشتوں میں بھید بھاؤ بھی نہیں کرتا جیسے پرویز ایک عاشق مرد تھا۔ زریاب ایک شاطر مرد ہے اور سماج میں نسل زریابی کی بہتات ہے جس کو مردانگی سمجھا جاتا ہے۔

بات ہو رہی تھی جہاں آرا کی ماں کی، جس نے بیٹی کو گندے مردوں کی دنیا میں اس کی مرضی کے خلاف، اپنی خواہش کی چکا چوند کو پورا کرنے کے لئے، اپنے شوہر سے بدلا لینے کے لئے اپنی بیٹی کے کاندھے پہ رکھ کر بندوق چلائی، نہ صرف کاندھے پہ رکھ کر بندوق چلائی بلکہ اس کے سینے میں چاقو بھی گھونپا۔ اس کو چالاکیاں بھی سکھانے کی کوشش کی جبکہ وہ تو ایک سادہ سی زندگی گزارنا چاہتی تھی کیونکہ ذاتی طور پہ محرومی اس کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ اس کی ماں کا مسئلہ تھا، تقابل اس کا مسئلہ نہیں تھا یہ بھی اس کی ماں کا مسئلہ تھا۔ اس کی سہیلی حسنہ کی شہرت سے مقابلہ بھی جہاں آرا کا مسئلہ نہیں تھا اس کی ماں کا مسئلہ تھا۔

”یہ سگی ماں تھی“ ۔ ماں کی یہ تصویر بھی انسانی تصویر ہے۔ وہ بھی شاطر، مقابل، حاسد، فاسق اور مجرم ہو سکتی ہے۔ وہ بھی اپنی اولاد کے لئے کانٹے بو سکتی ہے۔ وہ بھی اولاد کی زندگی خراب کر سکتی ہے کیونکہ اس نے سوچ ہی لیا ہے کہ میری زندگی خراب ہوئی ہے تو میں اس کے مقابلے میں اپنے شوہر کی نسل کی زندگی خراب کروں گی تو مجھے چین و سکون ملے گا۔ یہاں یہ ماں اپنے شوہر کی اولاد کی ماں نہیں، سوتن ہے۔ اس کے مقابلے میں حسنہ کی سوتیلی ماں میں سماج کی مروجہ ماں موجود ہے۔ ایک کمزور بے بس عورت جس کا دکھ، دکھ میں بھی دعا دیتا ہے اور لب خاموش ہو جاتے ہیں۔

تیسرا نسائی کردار چھاجو باجی ایک سگی پھوپھی، جو سماج میں ایک منفی کردار گردانا جاتا ہے۔ پھوپھی تو کبھی بھتیجی کا بھلا نہیں چاہے گی۔ اب اس کو لغت کی راہ سے دیکھیں تو بھی پھاپھے کٹن جیسے ماخذات سے ہم نے اس رشتے میں زہر ڈال دیا ہے جب زہر خود ڈالا ہو تو پھر رونا دھونا کیسا؟ نزاع سہنا آپ کا نصیب ہے کیونکہ نزاع کا بیج بویا ہے۔ لیکن جناب ذرا غور فرمائیے گا چھاجو باجی بطور پھوپھی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ اس کی بھتیجی اس راہ پہ مت چلے جو کانٹوں سے بنی ہوئی ہے۔ اس نے جس پتھر سے چوٹ کھائی ہے، بھتیجی اس سے محفوظ رہے۔ پھوپھی کو معلوم ہے ایک مرد دھوکے باز ہے بھتیجی اس کی چال میں نہ آئے لیکن وہ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں بچا سکتی۔ ہمارے یہاں کہاوت ہے ”رشتہ کرتے ہوئے لڑکی کی ماں کو دیکھو“ مگر ہم سمجھتے ہیں رشتہ کرتے ہوئے لڑکی کی پھوپھی کو دیکھیں کہ ”پھوپھی بھتیجی ایک ذات“۔

اب حسنہ کے نسائی کردار پہ آتے ہیں! حسنہ ایک شریف النفس سے، سادہ سے والدین کی ایک ہوشیار اور موقع پرست بیٹی دکھائی گئی ہے۔ اس کے تو خاندان کا کوئی کردار ایسا نہیں دکھایا گیا۔ اس کی ماں کی وفات ہو چکی ہے سوتیلی ماں نے پالا ہے۔ تربیت ہی اگر سب کچھ ہوتی تو گھر کا ماحول تو سادہ سا ہے۔ پھوپھی بھی شادی نہیں کرتی، مضطرب کردار ضرور ہے مگر منافق اور چالاک نہیں ہے۔ باپ کے جینز کی بات کریں تو سادہ طبیعت ہے پھر حسنہ ایسی کیسے بن گئی؟

انسان صحبت، محرومیاں اور نہ تجربہ کاری اور پھر چھوٹی عمر میں دھوکے بازوں سے پالا پڑ جانا، شہرت و دولت کی ہوس، شارٹ کٹ رستہ کا انتخاب، سب کو پیچھے چھوڑ کے آگے نکل جانے کی تمنا، شادی شدہ مرد کا گھر مطلب بہت کچھ تھا جو اس کے ماحول اور تربیت میں نہیں تھا گویا ایک انسانی کردار ہے جو سماج سے تشکیل پاتا ہے۔ ایسے کردار تو ہر شعبہ زیست میں ملتے ہیں بات ادب کی نہیں ہے۔

اب کرتے ہیں راحیلہ کے کردار کی بات ایک مدبر خاتون جس کے پاس دولت تھی اور اس نے دنیا سے، گھر سے بغاوت کرتے ہوئے کنگال محبت خرید لی۔ اسے کسی حد تک معلوم تھا اسے یہ کنگال شاعر پالنا پڑے گا اور عدیلہ نے بنا شکوہ کیے ، خود کو بے شمار جواز دیتے ہوئے اسے کو پالا بھی، وہ جو لوگ کہتے ہیں کہ عورت غریب مرد سے محبت نہیں کرتی، شادی نہیں کرتی یہاں ان کے لئے بھی یہ سوالیہ نشان ہے!
عورت اگر صاحب حیثیت ہے تو بد کردار غریب مرد سے محبت اور شادی بھی کر لیتی ہے لیکن اگر وہ خود ہی اپنے قدموں پہ نہیں کھڑی تو کنگال عاشق کے عشق سے بجلی کا بل تو ادا نہیں ہو گا ناں یوں بھی مرد جتنا کنگال ہوتا ہے اتنا ہی اس کا ظرف کنگال ہوتا ہے۔ دوسرا پہلو اس کردار میں یہ ہے کہ ہر عورت کو جوانی میں شاید یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی محبت و روئیے سے ایک انسان کو شوہر بنا کر بدل دے گی مگر جس کا خمیر ہی خراب ہو اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ جسم کا کوئی حصہ ڈاکٹرز کو مجبوری میں زندگی بچانے کے لئے کاٹنا پڑ جاتا ہے بطور سرجن عدیلہ تو یہ سمجھ گئی اس نے یہ ناکارہ بیمار حصہ اپنی زندگی سے اپنے سکون کے لئے کاٹ دیا۔

ایک اور کردار پینی جیسی شادی شدہ خوش حال خواتین کا کردار، جن کی نکمے اور کنگلے مردوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو شہرت کا نشہ لگا کر وہ اپنا کام نکلواتے ہیں۔ گھر الگ خراب ہوتا ہے اور زندگی الگ پھانسی کے پھندے پہ جھول جاتی ہے
یہ کمزور، حسین، جذباتی عورتیں بھی ہمیں بہت پسند ہوتی ہیں۔ ہر کوئی ایسی عورت کو اپنے ساتھ منسوب کرنا فخر سمجھتا ہے۔

ان سب کرداروں میں ایک اہم بات یہ ہے کہ کوئی طلاق یافتہ عورت نہیں ہے کیونکہ پڑھے لکھے خواتین کردار ہیں۔ جن پہ تہمت ہے کہ ان کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ رہی ہے۔ ان تعلیم یافتہ خواتین نے شادی کی ہی نہیں اور جن کی ہو گئی انہوں نے اسے چلانے کی کوشش کی۔ ایک حد بتائی کہاں تک ساتھ نبھایا جا سکتا ہے۔

یہ سب کردار ڈسکس کرنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ عورت مکمل انسان ہےکمزور عورت کو گلیمرائز کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی ماں، بہنوں بیٹیوں کا حق کھانا چھوڑ دیں۔ آپ ان کا حق اسی لئے کھاتے ہیں تاکہ وہ کمزور رہیں۔ عورت اپنی تمام طاقتوں اور کمزوریوں سمیت مکمل انسان ہے۔ اسے انسان رہنے دیں شیطان اور فرشتے میں بدلنے کی کوشش نہ کریں۔

ارشد ندیم اور نیرج کی والدہ کو مائیں رہنے دیں۔ ان کے جملوں آواز اور باڈی لینگویج کے درد اور ٹھہراؤ کو سمجھیں ان کو صرف مبارک دیں دیویاں نہ بنائیں، انسان رہنے دیں۔ بڑے ظرف کے پیچھے بڑے جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کو یہ شاندار کامیابی بہت مبارک۔ بس اس خوشی کا احساس سلامت رہے ایسی کامیابیاں ملتیں رہیں۔ سبز پاسپورٹ کی پہچان بدل جائے اتنا ہی کافی ہے۔ ایک اکیلا بندا سب قوم کا امیج بدل سکتا ہے یہ مثال زندہ رکھیں۔

Facebook Comments HS