کچھ ہماری عدلیہ کے بارے میں


بدقسمتی سے قومی اور ملکی سطح پر ہم نے کسی شخص کی عزت، کسی بڑے کا احترام، کسی ثالث کی توقیر، کسی ادارے کا وقار رہنے ہی نہیں دیا۔ ایسا ہی ہوتا ہے جب ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کام نہ کریں، شخصیتیں انصاف سے کام نہ لیں، ثالث عدل نہ کریں، بڑے اپنے آپ کو عقل کل سمجھیں، ذاتی مفادات پر اجتماعی مفاد قربان ہوتے رہے ہوں۔ جتھوں، طاقت اور لاقانونیت کو سہارا سمجھا جائے۔ لاٹھی رکھنے والے بھینس کی ملکیت کا دعوی کریں تو تلملانے کے بعد قبول ہو جاتا ہے کہ تاریخ عالم میں یہ ہوتا آیا ہے لیکن ہم جیسی قومیں بالآخر ٹوتھ پک کے بل بوتے پر بھی پورا ریوڑ ہانک لیتی ہیں۔

قصور سب کا ہے کہ 77 سالہ سفر کے بعد ہم نے انفرادی اور اجتماعی ”کوششوں سے یہ مقام“ حاصل کیا ہے۔ انفرادی سطح پر ٹریفک کو ہی دیکھ لیں، ہم دوسرے کی لین میں گھسے ہوتے ہیں، ہم جہاں دل کرے بریک لگا دیتے ہیں، ہم نو پارکنگ کے بورڈ کے عین نیچے گاڑی کھڑی کرتے ہیں، ہم الٹی سمت یا ون وے پر دھڑلے سے آ رہے ہوتے ہیں، ہم دوسروں کے ہر ناجائز فعل پر اسے برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں اور چند میٹر بعد وہی کام اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ یہی انفرادی مثال سیاست، اداروں اور ہماری اجتماعی زندگی پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ ہمارے ادارے اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کی اصلاح کرنا جائز سمجھتے ہیں، ہمارے طاقتور کمزور کے آگے جہاں چاہے بریک لگا دیتے ہیں، ہمارے آئینی ادارے ہر غیر آئینی کام میں ملوث ہوتے ہیں، ہمارے قانون نافذ کرنے والے الٹی سمت سے آنے والوں کی حوصلہ افزائی اور سیدھی سمت سے آنے والوں کا حق مار رہے ہوتے ہیں اور ہمارا ہر صاحب اختیار دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا اور خود انہی غلطیوں کا ارتکاب کرتا نظر آتا ہے۔

قصور سب کا ہے۔ نہریں جب ٹوٹتی ہیں تو بظاہر چھوٹے چھوٹے سوراخوں پر توجہ نہیں دی جاتی اور آخر میں پشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ پھر نقصان جو ہوتا ہے وہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔

بہت عرصہ لگا رنگ شفق معدوم ہونے میں
ہوا تاریک نیلا آسماں آہستہ آہستہ
(احمد مشتاق)

ہمیشہ سے اداروں کے تال میل، تعاون اور دست و بازو بننے کا نام ہی جمہوریت ہے۔ سارے ادارے اپنے دائرہ اختیار میں ایک دوسرے کے دست و بازو ہوتے ہیں۔ ازلی حقیقت ہے کہ سر بازووں کا ، پیٹ چہرے کا اور پاؤں دماغ کا کام نہیں کر سکتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہر ادارے نے کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک عجیب الخلقت سی جمہوریت، کریہہ منظر پیش کر رہی ہے، نتیجۃً ملک و قوم کا نقشہ ڈرا دینے والا ہو چکا ہے۔

خصوصیت سے عدلیہ کی بات کی جائے تو بدقسمتی سے اس ملک نے آئین کی جگہ نظریہ ضرورت کو مقدم رکھنے والے جج، غیر جانبدار کی جگہ سیاسی جج، قانون کی محافظ کی جگہ اسٹیبلشمنٹ کے جج، انصاف کے علمبرداروں کی جگہ بکاؤ جج، دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے والوں کی بجائے بلیک میل ہونے والے جج، جمہوریت کے علمبردار کی جگہ آمر جج، آئین کی کتاب پڑھنے کی بجائے فون کال سن کر فیصلے کرنے والے جج بھگت رکھے ہیں۔ جسٹس منیر سے لے کر جسٹس ثاقب نثار تک ایک لمبی فہرست نظام انصاف کو شرماتی ہے اور دوسری طرف اعلیٰ مثال کے لئے جسٹس رستم  کیانی، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس کا رنیلیئس اور جسٹس بھگوان داس جیسے چند نام ہی رہ جاتے ہیں۔

قصور ان کا اپنا بھی تھا اور مداخلت کاروں کا بھی۔ کسی نے ان ججوں کو ڈنڈے سے ہانک لیا، کچھ نے ٹوتھ پک سے۔ کچھ سیاسی تقرریاں تھیں، کچھ بڑوں کے آلہ کار بنے۔ کچھ طاقت کے نشے میں چور ہوئے، کچھ کمزوری کی وجہ سے ہاتھ کر گئے۔ کچھ ویڈیو سے بلیک میل ہوئے، کچھ نوٹوں سے۔

موجودہ بیٹری میں چند بہترین ججز سپریم کورٹ میں سامنے آئے۔ سینیئرز سے یہ توقع تھی اور اب بھی ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی ساکھ بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہوں یا آنے والے چیف جسٹس منصور علی شاہ یا جسٹس یحییٰ آفریدی۔ پڑھے لکھے، باعزت گھرانوں سے، دباؤ برداشت کر جانے والے، سیاسی تقرریوں کی بجائے اپنی ساکھ سے اس اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والے۔ اس لئے امید ہے کہ یہ آئین کی بالادستی کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک قابل جج اور آئین کی بالادستی کی بات کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ قاضی عیسیٰ کے قابل فرزند جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی لڑائی مول لی اور اسی کی پاداش میں اس وقت کی حکومت کا بنایا ہوا ناجائز کیس بھی برداشت کیا۔ لیکن پوری عاجزی کے ساتھ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس وقت کی تلخ یادوں سے پیچھا قاضی القضاۃ کی کرسی پر بیٹھتے وقت بھی نہیں چھڑوا سکتے اور ان کے لہجے اور فیصلوں میں اس وقت خود سے ہونے والی نا انصافی کی یاد در آتی ہے۔

اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ ان ججوں کے آئینی اور مبنی بر انصاف فیصلوں پر جہلا ان کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں اور ان کے ماننے والے ایک اور طرح کی حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں جب بھی کوئی فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آئے تو وہ ججوں کو بکا ہوا تصور کر کے ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نئے نئے سپریم کورٹ کے جج بنے تھے۔ میری ان سے چند ملاقاتیں تھیں۔ ایک دن موقع ملنے پر اس تمہید کے ساتھ عرض کی کہ نہ میرا پی ٹی آئی سے تعلق ہے نہ نون لیگ سے، نہ کسی اور ادارے کی مداخلت کا قائل ہوں، اس لئے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، جسٹس صاحب بہت عوامی اور کھلے ڈلے آدمی ہیں، فرمانے لگے پوچھیں، بتانے والا ہوا تو بتا دوں گا ورنہ انکار کردوں گا۔ سوال عمران خان کی حکومت کی چھٹی والے دن اسلام آباد ہائی کورٹ کھلنے سے متعلق تھا۔ جب پی ٹی آئی والے اطہر من اللہ صاحب سے ناراض اور نون لیگ والے حق میں تھے۔ جسٹس صاحب نے کافی تفصیل سے جواب دیا۔ (اس سے ملتا جلتا بلکہ قدرے تفصیل سے جو انہوں نے امریکہ میں حال ہی میں ایک خطاب میں دیا ہے)۔ اس کے بعد فرمانے لگے کہ میں نے ”انصافی عدالت اور پٹواری جج“ دونوں الزامات کا سامنا کر رکھا ہے اور آج کل (اُس وقت) میں کچھ لوگوں کے لئے نون لیگی اور کچھ کے لئے اسٹیبلشمنٹ کا جج ہوں۔

ابھی کل تک حکومت جسٹس منصور علی شاہ کی تعریفیں کرتی اور انہیں غیرجانبدار ترین جج کہہ رہی تھی آج ان کے بلکہ انصاف کے اعلیٰ ترین موجود آئینی نظام یعنی فل کورٹ بنچ کے اکثریتی فیصلے کو حسب منشا نہ پا کر انہیں بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ عدالت میں وہ معاملہ لے کر جایا جاتا ہے جو حل نہ ہو سکے۔ اس پر جو بھی فیصلہ آئے کچھ قانونی اور آئینی کوششوں کے بعد بالآخر اسے ماننا پڑتا ہے کہ فل کورٹ سے بڑا کوئی فورم ملکی اور آئینی سطح پر موجود نہیں ہوتا۔

جسٹس منصور علی شاہ کی آج کی تقریر بہت اہم اور قیمتی ہے۔ انہوں نے وہی کہا جو ایک سینئر منصف کے شایان شان تھا۔ جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سفارشات نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر عمل ہونا چاہیے۔ جسٹس منصور نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد آئین کا حکم ہے، عمل درآمد کرنے میں تاخیر سے سارا لیگل سسٹم متاثر ہو گا۔ انہوں نے قرآن، نبی کریم ﷺ کے جو حوالے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے دیے وہ یقیناً ہر ملکی ادارے کو بلکہ ہر فرد واحد کو حزر جاں بنا لینے چاہئیں۔ جسٹس صاحب کے اقلیتوں سے متعلق اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد والے الفاظ بہت اہم اور تاریخ کا رخ متعین کرنے والے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان قیمتی باتوں کو جذباتیت اور پسند نا پسند کے کٹہرے میں نہیں بلکہ آئین اور قانون کے ترازو میں پرکھا جائے۔ ریاست کو عدلیہ کے ہر فیصلے کے پیچھے کھڑے نظر آنا چاہیے اور انہیں ہر فیصلے کو اس کی روح کے مطابق لاگو کرانا چاہیے۔ خواہ بظاہر اپنے خلاف اکثریتی بنچ کا فیصلہ۔ سب کو خوش دلی سے قبول کرنا اور لاگو کرانا چاہیے بجائے اس کے کہ کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے ڈر کر آنکھیں بند کرلی جائیں یا ذاتی پسند ناپسند پر محاذ آرائی شروع کردی جائے۔ ہاں قانونی طور پر نظر ثانی سب کا حق ہے اسے ضرور استعمال کریں۔

محاذ آرائی اور پسند ناپسند کے عدالتی فیصلوں سے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا نہ آئندہ ہو گا۔ ججوں کو غیر ضروری طور پر متنازع کرنے سے عدالت عظمیٰ کی رہی سہی ساکھ کے لئے تباہ کن ہو گا۔ فیصلے نہ ماننے یا رکاوٹیں ڈالنے یا پارلیمنٹ کی ترامیم کے ذریعے پسند نا پسندپر مبنی سقم نکالنے کی روایت رہے سہے آئینی اور قانونی نظام کی دھجیاں بکھیر دے گی۔

Facebook Comments HS