ارشد ندیم: وزیراعظم شہباز شریف کے نام کھلا خط


مجھے کھیل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کبھی کبھار ٹی وی پر پاکستان اور بھارت کے درمیان میں ہونے والے میچ کی ”ہار جیت“ کا مرحلہ دیکھ لیتا ہوں۔ جن دنوں پاکستان کی ہاکی ٹیم کو پوری دنیا میں عروج حاصل تھا۔ چار سو پاکستان کی ہاکی ٹیم کا طوطی بولتا تھا۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا کا تصور ہی نہیں تھا۔ بس ریڈیو ہی ایک ذریعہ تھا جس پر ”لائیو کمنٹری“ سنی جاتی تھی۔ جوانی کا زمانہ تھا۔ ہم دو تین دوست مل کر ہاکی میچ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ پھر صحافت کی وادی میں ایسا گم ہوا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ صحافت کو نصف صدی دے دی۔ صرف ’سیاسی کھیل ”کا شوقین ہوں۔ سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایتھلیٹ ارشد ندیم کا بڑا چرچا سنا تھا تاکہ مقابلہ بھی بھارت کے ایک سپوت سے تھا۔ سو میں یہ مقابلہ دیکھنے کا ایک بار پھر جواں ہو گیا۔ ارشد ندیم نے اولمپکس میں شاندار کھیل کر“ جیولن تھرو ”میں پاکستان کا نام روشن کر دیا مایوسیوں کا شکار پاکستانی قوم کے چہروں کی مسکراہٹ واپس لوٹا دی۔ منقسم قوم اپنے غم بھلا کر ایک بار پھر متحد قوم بن گئی۔ مجھے بھی پورا فائنل میچ دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ میں پیرس سے پاکستانی ایتھلیٹ کی جیت کی خبر سنے بغیر سو نہ پایا۔ ’’جیولین تھرو‘‘ میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد پاکستانیوں کو خوشی کے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ پوری دنیا نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کے کروڑوں عوام کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی۔

76 سال میں پہلی بار پاکستان کو ہاکی کے علاوہ کسی کھیل میں گولڈ میڈل ملا ہے۔ یہ پہلا انفرادی گولڈ میڈل ہے جس میں ساری محنت ایک محنت کش کے بیٹے کی تھی۔ سرکاری طور ان کو اس طرح سرپرستی نہیں ملی جو ایک ایتھلیٹ کو ملنی چاہیے۔ یہ پچھلے 32 سال میں پاکستان کو پہلا گولڈ میڈل ملا ہے جس پر پوری قوم خوشی منا رہی ہے۔ یہ گولڈ میڈل ”ایلیٹ کلاس“ کے کسی ”لاڈلے“ نے حاصل نہیں کیا بلکہ پاکستان کے ایک غریب خاندان کے سپوت نے حاصل کیا ہے جسے اس مقام تک پہنچنے میں مشکلات کے کئی دریا عبور کرنا پڑے۔ واپڈا میں معمولی نوعیت کی نوکری دی گئی۔ چند مہینے قبل ارشد ندیم کے پاس ”جیولن“ خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ آج اس بہادر سپوت نے انفرادی طور نہ صرف گولڈ میڈل حاصل کر لیا بلکہ جیولن تھرو میں 118 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ ارشد ندیم کا جیولن تھرو میں اولمپکس چیمپیئن بننا غیر معمولی واقعہ ہے۔ ایک غریب شخص کے بیٹے نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کا پرچم سربلند کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف صاحب!

ارشد ندیم کو کارنامہ سرانجام دینے پر کم از کم اسلام آباد میں گھر الاٹ کرنا بنتا ہے۔ بین الصوبائی وزارت کے تحت پاکستان سپورٹس بورڈ میں ملازمت دے کر اس کی اشک شوئی کی جائے اور وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا جائے ممکن ہو تو خود وزیر اعظم اس کا استقبال کریں اگر یہ ممکن نہیں تو نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار ہی ائرپورٹ پر چلے جائیں حکومت پاکستان کرکٹ اور ہاکی سمیت دیگر کھیلوں پر کروڑوں روپے خرچ چکی ہے لیکن کھیل میں بھی سیاست آ جانے کے بعد ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم صاحب! یہ کس قدر خوبصورت منظر تھا جب کھلاڑیوں اور شائقین کے عالمی اجتماع میں پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا جا رہا تھا۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ آپ بھی اپنی رہائش گاہ پر ”جیولن تھرو“ میں پاکستانی کھلاڑی ارشد ندیم کی فتح کا منظر دیکھ رہے تھے۔ آپ نے فرط جذبات میں جس طرح پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کو ارشد ندیم کی کامیابی پر کس قدر خوشی ہوئی ہے۔ فتح کی خوشی ہر پاکستانی کے چہروں پر دیکھی جا سکتی تھی لیکن ارشد ندیم کے جیتنے کی خوشی میں نیرج چوپڑا کی ماں نے جو کچھ کہا وہ بھی تاریخی نوعیت کے الفاظ ہیں۔ ایک ہندوستانی ماں نے اپنے بیٹے نیرج چوپڑا کی دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر افسردہ ہونے کی بجائے تاریخی کلمات کہے انہوں نے کہا کہ ”ہمیں اپنا سلور میڈل بھی گولڈ میڈل ہی لگتا ہے جو ارشد ندیم کے گلے میں ہے کیونکہ وہ بھی ہمارا ہی بیٹا ہے۔‘‘

نیرج کی ماں کے یہ لفظ برصغیر کے کھلاڑیوں کے جیتے ہوئے سلور اور گولڈ میڈلز سے کہیں زیادہ تاریخی نوعیت کے ہیں جو سنہری الفاظ سے لکھے جائیں گے۔ بعد ازاں ارشد ندیم کی والدہ محترمہ نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا لیکن نیرج چوپڑا کی ماں بازی لے گئی۔ سلور میڈل ملنے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کا نیرج چوپڑا کو فون کرنا بڑی بات ہے۔ سر دست پاکستان کے اعلٰی عہدے پر فائز کسی شخصیت نے ارشد ندیم کو فون نہیں کیا۔ ممکن ہے یہ سطور شائع ہونے تک وزیر اعظم ارشد ندیم کو فون کر کے مبارک دے دیں۔

ہماری ہی کلاس کا ایک محنتی شخص جس نے بیس سال کی محنت کے بعد یہ مقام پایا ہے۔ ارشد ندیم کے حریف نیرج چوپڑا کے پاس 177 جیولین (نیزہ) اور پاکستانی غریب ماں کے لعل کے پاس صرف ایک جیولن تھرو تھا۔ ہاکی قومی کھیل ہے۔ سکواش میں بڑے بڑے نام تھے۔ کرکٹ بھی چند خاندانوں تک محدود رہی لیکن ارشد ندیم کا کوئی ”سٹرانگ بیک گراؤنڈ“ نہیں تھا۔ عمر چیمہ نے لکھا ہے کہ عام تاثر کے برعکس حکومت ارشد ندیم سے تعاون کرتی آئی ہے۔ 2019ء سے اب تک دو کروڑ تیس لاکھ روپے کی ادائیگی کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں ٹریننگ کے لئے جرمنی میں اس کوچ سے ٹائم لیا گیا جس نے نے نیرج چوپڑا کو ٹریننگ دی تھی لیکن اس دوران ساؤتھ افریقہ میں ایک ٹریننگ کیمپ لگا ہوا تھا۔ ارشد نے وہاں جانے کو ترجیح دی۔

مستقل مزاجی نے غربت کو شکست دی ہے۔ ہمیں اس کی اعلٰی کارکردگی کو صرف باتوں سے سراہنے کی بجائے قومی ہیرو کو مکمل سپورٹ کرنا چاہیے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز نے 10 کروڑ روپے اور وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے 5 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی دل کھول کر انعامات کا اعلان کرنا چاہیے ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر ورلڈ ایتھلیٹکس کی جانب سے بھی 50,000 امریکی ڈالرز جو پاکستانی روپے میں تقریباً 13,946,250 روپے کا انعام دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ ناکافی ہے۔ وزیر اعظم کو سب سے بڑے انعام کا اعلان کرنا چاہیے ارشد ندیم کی غربت ختم کر دینی چاہیے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ارشد ندیم آپ پوری قوم کا فخر ہیں۔ ارشد ندیم کی جیت پوری قوم کی جیت ہے۔ فائنل میں شاندار اولمپکس ریکارڈ قائم کرنا، طویل ترین جیولین تھرو کرنا بڑا کارنامہ ہے۔ پیرس اولمپکس میں پاکستان کے لئے تمغہ جیت کر آپ نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ارشد ندیم نے اولمپکس جیسے بڑے مقابلے میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشد ندیم کو مستقبل میں مزید کامیابیوں سے نوازے۔ صدر مملکت نے ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس میں اعلٰی کارکردگی دکھانے پر ہلال امتیاز دینے کے لئے کیبنٹ ڈویژن کو خط ارسال کر دیا ہے۔ انہیں یہ اعلٰی سول ایوارڈ ایک خصوصی تقریب میں دیا جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ارشد ندیم کو تاریخی فتح پر مبارکباد دی ہے۔ ارشد ندیم نے نہ صرف سونے کا تمغہ جیتا ہے بلکہ اولمپکس کا نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ ہے۔ وزیرِ اعظم۔ نے کہا کہ ارشد ندیم نے کوئی بھی فاؤل کھیلے بغیر دو تھرو 90 میٹر سے زائد فاصلے پر پھینکیں، جو ان کی شاندار کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ارشد ندیم نے پوری پاکستانی قوم کو ایک بہت ہی خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ ارشد ندیم اولمپکس ریکارڈ بنا کر پاکستان اور اولمپکس کی تاریخ میں امر ہو گئے ہیں۔

پوری قوم کو ارشد ندیم پر فخر ہے۔ ارشد ندیم نے محنت اور لگن سے یہ اعزاز اپنے نام کیا اور پاکستان کا پوری دنیا میں نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں بعد ارشد ندیم وہ پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جن کی شاندار کارکردگی کی بدولت اولمپکس میں سبز ہلالی پرچم کی شان بڑھی ہے۔ اس شاندار کامیابی کا سہرا ارشد ندیم اور اس کے اہل خانہ کی محنت کو جاتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ملاقات میں ارشد ندیم کو میں نے بلند حوصلہ اور پاکستان کا نام روشن کرنے کے جذبے سے سرشار پایا تھا۔ پوری قوم اس کامیابی پر رب العزت کے حضور سر بسجود ہے۔ ارشد ندیم کی محنت، لگن اور شاندار کامیابی نوجوان ایتھلیٹس کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

میاں چنوں کے ”پاکستانی شہزادہ“ نے 118 سالہ اولمپکس ریکارڈ توڑا ہے۔ آج اس کے گھر پر جشن کا سماں ہے۔ ارشد ندیم نے جیولین تھرو میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کر کے وہ کر دکھایا جو کوئی کھلاڑی نہیں کر سکا۔ جیولن تھرو میں ارشد ندیم نے 92.97 میٹر کی تھرو کا نیا عالمی ریکارڈ اس کا نام اولمپکس کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ پاکستان کے اولمپکس کی ایک سو اٹھارہ سال کی تاریخ کا ریکارڈ توڑ کر ارشد ندیم نے انفرادی اولمپک گولڈ میڈل جیتا ہے۔ برسوں بعد قوم کو فتح کی نوید سنائی ہے۔

جیت کے ہزاروں باپ پیدا ہو جاتے ہیں۔ شکست یتیم رہ جاتی میرے خیال میں ارشد ندیم کا میڈل جہاں اس کی محنت کا ثمر ہے۔ وہاں اس کی ماں کی دعاؤں نتیجہ بھی ہے۔ غریب باپ کی محنت مزدوری کا بھی دخل ہے۔ سب سے زیادہ پاکستانی قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ اسے 77 واں یوم آزادی ارشد ندیم کی کامیابی کے جشن طور منانا چاہیے ہر سو پاکستانی پرچم لہرائے جائیں اور ارشد ندیم کی تصاویر آویزاں کرنی چاہیں۔ بھارتی اینکر پرسن نے ارشد ندیم کی کامیابی کو ”آؤٹ آف سلیبس“ قرار دیا ہے۔

Facebook Comments HS