قلابازیاں ہی قلابازیاں


شکریہ ارشد ندیم کہ آپ نے پیرس اولمپک میں تاریخ رقم کر کے پوری قوم کے چہرے پر خوشیاں بکھیر دیں۔ اُس نے 92.97 میٹرز کی جیولن تھرو کی۔ اب اُس کی وطن واپسی پر تاریخی استقبال کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔ ہمیں 1992 کا وہ کرکٹ ورلڈ کپ بھی یاد ہے جب پوری قوم کرکٹ ٹیم کے استقبال کے لیے مال روڈ لاہور پر اُمڈ آئی تھی۔ ایسے ہی تاریخی استقبال کی تیاریاں اب بھی جاری ہیں لیکن ہمارے دماغ کے اندر بیٹھا ابلیس لعین بار بار کچوکے لگا رہا ہے کہ ورلڈ کپ کی کامیابی تو پوری ٹیم کی محنتوں کا ثمر تھی، یہ الگ بات کہ سارا ثمر عمران خان اپنی جھولی میں ڈال کر وزیرِ اعظم بَن بیٹھا۔ ارشد ندیم کا تو اولمپکس میں تاریخ ساز انفرادی گولڈ میڈل ہے، پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا یہ قومی ہیرو بھی وزارتِ عظمیٰ کا دعویٰ کر بیٹھے۔ یہ محض شیطانی وسوسے ہیں اِس لیے قارئین اِن سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اِس قومی ہیرو کا بھرپور استقبال کریں۔ ایک اور بات یہ کہ مُرشد عطاء الحق قاسمی کے خلفِ رشید یاسر پیرزادہ تازہ بتازہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی مقرر ہوئے ہیں۔ اُن کا سپورٹس بورڈ میں قدم رکھنا مبارک ثابت ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے پاس بھی بشریٰ بی بی کی طرح کوئی ’’موکل شوکل‘‘ ہوں جن کے زور پر یہ گولڈ میڈل حاصل ہوا۔ اگر ایسی ہی بات ہو تو پھر ہمارے عزیز یاسر پیرزادہ کی بھی وزارتِ عظمیٰ تو بنتی ہے۔ اِس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں اگر بقول بلاول بھٹو زرداری ’’سیٹیں ٹافیوں کی طرح‘‘ بانٹی جا سکتی ہیں تو پھر وزارتِ عظمیٰ جیسی ’’ریوڑی‘‘ عطا کرنا عدلیہ کے لیے کون سی بڑی بات ہے۔ ویسے اگر ’’بابا رحمتا‘‘ سپریم کورٹ میں موجود ہوتا تو کامیابی پکّی تھی۔ ہم نے ابھی تک یاسر پیرزادہ سے تو مشورہ نہیں کیا لیکن اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر دَرِ سپریم کورٹ سے بِن مانگے مُرادیں پوری ہو سکتی ہیں تو وزارتِ عظمیٰ کیوں نہیں؟

معزز قارئین! ہم نے مُرشد عطاء الحق قاسمی کے اتباع میں مزاحیہ کالم نگاری شروع کی اور ایک عرصے تک اِسی میں ’’جھَک مارتے‘‘ رہے۔ جب بات نہ بنی تو سوچا کہ چلو سیاسی کالم لکھتے ہیں۔ سیاسی کالم لکھتے ہوئے اِک عمر بیت چلی لیکن نتیجہ وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘۔ کئی دفعہ سوچا کہ چلو لاڈلے کے حق میں کالم لکھ کر دیکھتے ہیں، شاید وہاں سے ہی ’’کچھ‘‘ مِل جائے لیکن بَدبخت ضمیر تلوار سونت کر سامنے آن کھڑا ہوا۔ اب ہم اِس مخمصے میں ہیں کہ نواز لیگ گھاس ڈالتی نہیں، لاڈلے کے حق میں ضمیر کالم نہیں لکھنے دیتا تو اب ہم جائیں تو جائیں کہاں۔ کل ایک محترمہ کا وی لاگ نظر سے گزرا۔ اُس نے مکمل ثبوتوں کے ساتھ وطنِ عزیز کے اُن نامی گرامی لکھاریوں کے نام بتائے جو درِ ملک ریاض سے مستفید ہوچکے ہیں۔ تب ہم نے سوچا کہ چلو ملک ریاض کے حق میں کالم لکھ کر دیکھتے ہیں لیکن جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایک تو وہ خود زیرِعتاب ہے اور دوسرے وہ لاڈلے کی خدمت کرتے کرتے تھک بلکہ ’’ہپھ‘‘ چکا ہے اِس لیے اب اِن تلوں میں تیل نہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اگر وہ اب بھی لکھاریوں کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوتا تو نامی گرامی لکھاریوں کے نام کبھی ظاہر نہ کرتا۔ اب تھک ہار کر ہم نے سوچا ہے کہ چلو ہم اپنی سیاسی جماعت بنا کر دیکھتے ہیں۔

اِس سلسلے میں جب ہم نے اپنے میاں سے مشورہ کیا تو اُن کا فلسفیانہ جواب تھا کہ ضرور سیاسی جماعت بناؤ مگر اس کا نام ’’تحریکِ انتشار‘‘ رکھنا۔ ہم نے چونک کر پوچھا کہ کیوں؟۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر تحریکِ انصاف اپنی انتشاری سیاست سے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ سکتی ہے تو تم کیوں نہیں؟۔ ہم نے جواب دیا ’’کیا آپ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کا تازہ بیان نہیں پڑھا‘‘؟۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ کون سا بیاں؟۔ ہم نے جواب دیا کہ 8 اگست کو جنرل صاحب نے علماء، مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ﷲ کے نزدیک سب سے بڑا جُرم فساد فی الارض ہے، ہم کہتے ہیں کہ احتجاج کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن پُر امن رہیں۔ اگر کسی نے پاکستان میں انتشار کی کوشش کی تو رَبِ کریم کی قَسم ہم اُس کے آگے کھڑے ہوں گے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ اعتدال پسندی کو معاشرے میں واپس لائیں اور فساد فی الارض کی نفی کریں‘‘۔ میرے میاں نے کہا کہ جنرل صاحب کا یہ بیان تو اُن کی نظر سے نہیں گزرا لیکن پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 9 مئی پر فوج کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ آئے گی۔ جنرل احمد شریف نے اُسی بریفنگ میں یہ گلہ بھی کیا ’’قانون ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف مؤثر کام نہیں کر رہا۔ جو ڈیجیٹل دہشت گرد باہر بیٹھ کر بات کر رہے ہیں وہ بے ضمیر لوگ ہیں جو پیسوں کے لیے ملک کے عوام اور اداروں کے خلاف کام کرتے ہیں‘‘۔ میرے میاں نے یہ بھی کہا کہ جب فوج کھُل کریہ بیان دے رہی ہے تو پھر ہماری حکومت ستّو پی کر کیوں سوئی ہوئی ہے؟۔ ہمارے پاس کیونکہ اِس کا کوئی جواب نہیں تھا اِس لیے ہم نے بات گھماتے ہوئے کہا کہ اصل موضوع کی طرف آئیں اور یہ بتائیں کہ ہماری سیاسی جماعت کا نام تحریکِ انتشار کیوں اور کیا پاک فوج کے اِس بیان کے بعد بھی ہماری جماعت کا نام یہی ہونا چاہیے؟۔ ایسا تو نہیں ہوگا کہ’’سَر منڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مصداق اِدھر ہم سیاسی جماعت بنائیں اور اُدھر فوج کا ڈنڈا چل جائے۔ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔ زیادہ سے زیادہ جیل ہی چلی جاؤ گی۔ میں نے کہا کہ نہ تو میں عدلیہ کے ایک قابلِ ذکر گروپ کا ’’کَرش‘‘ ہوں اور نہ ہی مجھے جیل میں وہ سہولیات میسر ہو سکتی ہیں جو لاڈلے کو ہیں بلکہ یہاں تک کہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسا وی وی آئی پی مجرم گزرا ہو جس کی سہولت کے لیے جیل کی 6 بیرکیں توڑی گئی ہوں جو صبح و شام دیسی گھی میں دیسی مرغی اور دیسی بکرے کی ’’پُٹھ‘‘ کی بوٹیاں ڈکارتا ہوا قوم کا لگ بھگ 40 ہزار روپیہ ہضم کرچکا ہو۔ جس کی حفاظت کے لیے سکیورٹی گارڈ اور صحت کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم متعین ہو۔ جسے ورزش کے آلات مہیا کیے جاتے ہوں اور جس کے کھانے کی چیکنگ پر ڈاکٹر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل متعین ہوں۔ جسے نہ صرف جیل میں صحافیوں سے گفتگو کی سہولت حاصل ہو بلکہ بین الاقوامی جریدوں میں اُس کے انٹرویوز بھی چھپ رہے ہوں۔ سب سے بڑھ کریہ کہ جو اپنی زبان سے اقرار کرے کہ اُس نے اپنی گرفتاری کی صورت میں حواریوں کو جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنے اور زمان پارک میں پولیس پر پٹرول بم پھینکنے کا حکم دیا ہو۔ اِس کے باوجود حکمران خاموش اور ’’ٹُک ٹُک دیدم دَم نہ کشیدم‘‘ کی عملی مثال۔ ہم نے کہا ہم ’’کس کھیت کی مولی‘‘ ہیں جو ہمیں اِن سہولیات میں سے کوئی ایک سہولت بھی میسر ہو۔ اِس لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے قیام سے توبہ ہی بھلی۔

حرفِ آخر یہ کہ چونکہ عشروں سے ہمارے ذہن میں سیاست کا کیڑا کُلبلا رہا ہے اِس لیے ’’چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے‘‘ کے مصداق ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔ اِس لیے یہ طے کہ اب ہم بھی لال حویلی والے کی طرح سیاسی پیشین گوئیاں کیا کریں گے۔

Facebook Comments HS