سننے کا فن۔ ڈپریشن کا جدید علاج
بہت سے مواقع پر ایمرجنسی یا او پی ڈی میں مریض کی بات سننے کے بعد ان کی طرف سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ”ڈاکٹر صاحب، آپ پہلے انسان ہیں جنہوں نے ہماری بات سنی ہے، نہیں تو ہماری تو کوئی بات ہی نہیں سنتا۔“ کلینیکل پریکٹس کے دوران، بہت سی مائیں آ کر روتی ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے پاس نہیں بیٹھتے، ہماری بات نہیں سنتے۔ جب ایسے واقعات کی گہرائی میں جا کر سوچتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ بات نہ سننا ہے اور یہ ایک ایسی علامت ہے جو ہمیشہ نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
سننے سے مراد صرف الفاظ کا سننا نہیں ہے بلکہ ان الفاظ میں موجود احساسات کو سمجھنا، اپنے آپ کو اس جگہ پر رکھ کر سوچنا، اور دوسرے انسان کی مجبوری کو سمجھنا اور مناسب الفاظ میں اس کو جواب دینا شامل ہے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں یہ چیز زیادہ سے زیادہ محض سننے تک محدود رہ چکی ہے، باقی جذبات اور احساسات سے عاری ہے۔ نہ سنے جانے کا احساس بہت ہی برا اور منفی ہوتا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو احساس ہونے لگے کہ اس کی آواز کو کوئی سننے والا اور اس کے الفاظ کو کوئی سمجھنے والا نہیں ہے تو آہستہ آہستہ وہ آواز خاموشی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور خاموشی انسان کو ذہنی تناؤ میں لے جانا شروع کر دیتی ہے۔
جدید زندگی کی تیز رفتار گفتگو کے لیے بہت کم جگہ چھوڑتی ہے۔ کام کی مانگ، سماجی ذمہ داریاں، اور معلومات کے مسلسل بہاؤ کی وجہ سے ذہنی بوجھ پیدا ہوتا ہے جو ہمارے اردگرد کے لوگوں کی آوازوں کو دبا دیتا ہے۔ یہ توجہ سے سننے کی کمی تنہائی کے احساس کو فروغ دیتی ہے، کیونکہ لوگ ایسے مقامات تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جہاں وہ بغیر مداخلت یا فیصلے کے اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کر سکیں۔ مزید برآں، موثر سننے کی کمی ذاتی تعلقات سے آگے بڑھ کر پیشہ ورانہ ماحول میں بھی سرایت کرتی ہے۔ ایسے دفاتر میں جہاں ملازمین کو محسوس ہوتا ہے کہ انہیں نہیں سنا جا رہا، نوکری میں عدم اطمینان اور تھکن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسی ثقافت جو پیداوار کو مکالمے پر ترجیح دیتی ہے، تخلیقی صلاحیتوں اور تعاون کو روک دیتی ہے، جو تناؤ اور ذہنی صحت کے مسائل میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے سننے کے فن کو بحال کرنے کی شعوری کوشش کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز ذہنی سکون اور گفتگو میں موجود ہونے کے ارادے سے ہوتا ہے۔ فعال سننا، جس میں صرف سننا ہی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر جواب دینا بھی شامل ہے، ایک بڑا فرق لا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خلفشار کو ایک طرف رکھنا، آنکھ سے رابطہ قائم رکھنا، اور زبانی اور غیر زبانی اشاروں کے ذریعے ہمدردی ظاہر کرنا ہے۔ آخر میں سب باتوں کا خلاصہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دکھوں اور پریشانیوں سے بھری ہوئی دنیا میں اگر کسی انسان کے لیے کچھ لمحے نکال کر صرف اس کی بات سن لی جائے تو اس معاشرے میں ایک بہت مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور اس کا آغاز ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات سے کرنا ہو گا۔


