ہوش ربا مہنگائی اور ارشد ندیم کی کامیابی


مہنگائی کسی بدمست ہاتھی کی طرح غریب شہر کو روندے جا رہی ہے اور ارباب اختیار تماشائی بنے غریب کی ہڈیاں چور ہوتی دیکھ رہے ہیں۔کوئی ایک دکھ ہو تو روئیں، لاقانویت، ناقص منصوبہ بندی، ریا کاری سے لبریز فوٹو سیشن، بجلی کے ہوشربا بل ، کوئی ایک دکھ ہو تو روئیں۔ ملک بند گلی میں کھڑا ہے مگر حکمرانوں نے ابھی بھی قبلہ درست کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وہی روش جو پچھلی کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ جھوٹے خواب اور جھوٹے وعدے جو عام فرد کے لیے اپنی چاشنی اور دلکشی کھو چکے ہیں۔

شرح سود بڑھ چکی ہے قرض لینے والا کوئی نہیں اور بینکوں میں رقم جمع کروانے والوں کا ایک ہجوم بیکراں۔ خدا جانے یہ دھرتی اتنی بانجھ کیوں ہے۔ کوئی زیرک حکمران مسند پر براجمان نہیں ہوتا قحط الرجال ہے۔ معاشر ے میں اقربا پروری پروان چڑھ جائے تو قابل لوگوں کا قحط پڑ جاتا ہے۔ بجلی کے 201 یونٹ پر نئے ٹیرف کا اطلاق پالیسی میکر نے کیا دماغ پایا ہے۔ حکومت اگر پالیسی بنانے و الےکی تصویر جاری کر دے تو براہ راست خراج تحسین پیش کرنے میں سہولت ہو گی۔

ارشد ندیم کی کامیابی نے قوم کو سرشار کر دیا۔ قوم جو دکھوں پر گریہ زاری کر کے نڈھال ہو چکی تھی ارشد ندیم کی کامیابی ” جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم” ۔ اقبال پھر یاد آ گئے ” فطرت خود کرتی ہے لالے کی حنا بندی "۔ ظاہری اسباب کی اہمیت سے کون چشم پوشی برت سکتا ہے۔ ارباب اختیار اگر چاہیں تو کچھ توجہ کھیلوں پر بھی صرف کر سکتے ہیں ۔ محدود وسائل کے باوجود گولڈ میڈل کا حصول کار کٹھن تھا جو ارشد ندیم کر چکا لیکن نئے آنے والوں کے لیے راستہ کشادہ کیا جا سکتا ہے۔ نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کھلاڑیوں کی ہیلتھ انشورنس، مالی معاونت، ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد وغیرہ۔کچھ غیر معروف کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی درکار ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو عین ممکن ہے عالمی کھیل کے مقابلوں سے اچھی خبریں آئیں۔ میدان آباد ہو جائیں تو ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔

معاشرے وہ ہی زندہ شمار ہوتے ہیں جہاں کی سماجی قدریں زندہ ہونے کا ثبوت دیں۔ جہاں فنون لطیفہ کی ترویج ہو، کھیل کے میدان آباد ہوں۔ کرکٹ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ حکومتی سرپرستی ہو تو دیگر کھیل بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر جائیں کوئی بعید نہیں کہ عالمی کھیل کے مقابلوں میں ارض وطن کی نمائندگی ہو تو سڑکیں سنسان ہو جائیں ۔ اعتدال زندگی کا حسن ہے۔ محض ایک کھیل پر اپنی محبتوں کے گل نچھاور کرنا درست نہیں یہ عمل دیگر کھیلوں کی پستی کا باعث بنتا ہے۔

کھلاڑی قنوطیت کی گہری کھائی میں جا گرتے ہیں ۔کھلاڑی کیا چاہتا ہے حوصلہ افزائی، چھوٹے شہروں میں سپورٹس کمپلکس کے قیام سے مضافات میں کھیلوں کا رحجان جنم لے گا۔ نوجوان کے لیے مثبت سرگرمیوں کا انعقاد ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے مگر افسوس ارباب اختیار کب اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔اگر کرپشن کی دیمک وطن کےدر و دیوار چاٹ گئی ہےتو فرائض منصبی سے چشم پوشی بھی اک ناسور بن چکا ہے۔ کوئی ایک دکھ ہو تو روئیں۔ مہنگائی کسی بدمست ہاتھی کی طرح غریب شہر کو روندے جا رہی ہے اور ارباب اختیار تماشائی بنے غریب کی ہڈیوں چور ہوتی دیکھ رہے ہیں ۔

Facebook Comments HS