ارشد ندیم: وہ آؤٹ آف سلیبس تھا


dr tehreem javaid

کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میں بھی ارشد ندیم کی جیت کی دعائیں کر رہی تھی۔ امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ جاتا تھا کہ پچیس کروڑ امیدوں کا بوجھ ایک اکیلے ارشد پہ انہی سوچوں میں غلطاں جب ارشد ندیم نے بانوے سے بھی اوپر نیزہ پھینکا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دو دن جب بھی ارشد کی وہ فوٹیج دیکھی نمی کو اترنے سے نہیں روک پائی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ارشد سے پہلے زیادہ تر لوگوں نے جیولن تھرو کا کبھی نام بھی نہیں سنا تھا ارشد ندیم نے ایک صدی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ارشد ندیم نے گولڈ جیتا نہیں اس نے اس پورے ملک کو گولڈ کر دیا ہے۔

جس معاشرے میں مذہبی عالم، غربت کو گلیمرائز کر کے پیش کرتے ہوں وہاں ارشد ندیم کے پاس نیزہ خریدنے کے پیسے نہیں تھے نیرج نے اپنا دے دیا جیسا منجن خوب بکتا ہے۔ ہائے میرا بھارت مہان میرا نیرج مہان۔

ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ارشد کے ماسٹر سٹروک کے بعد نیرج اتنا پریشر لے گیا کہ فاؤل پہ فاؤل کرتا رہا۔ نیرج نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ارشد اتنا آگے چلا جائے گا۔ کیونکہ آخری سکورز تک وہ نیرج سے پیچھے ہی تھا۔ نیرج کی والدہ کو بھی بہت سراہا گیا۔ اچھی بات ہے لیکن وہ نیرج کے گولڈ نا لے پانے پہ کیا کہتیں کہ بہت مایوس ہو گئی ہوں۔ انہوں نے بھارتیوں کے زخم پہ پھاہا رکھا کہ نیرج کے پیچھے نا پڑ جانا۔ ماضی میں پاکستان سے ہارنے کے بعد سیکولر بھارت کے مسلمانوں کے گھروں پہ حملے اتنی بھی پرانی بات نہیں ہے۔

حالانکہ یہ سارا غربت کا چورن ہی باسی اور بے ذائقہ ہے۔ ارشد ندیم کا رہن سہن دیہی ہونا اسے غریب ثابت نہیں کر سکتا۔ اس کی کامیابی بالکل اوریجنل اور ذاتی ہے اس پہ بے چارگی کا لیبل لگانا بند کریں۔ ایک اور صاحب اویس اقبال حالیہ سکنہ امریکہ دور کی کوڑی لائے اور ارشد ندیم کے سسر کی جانب سے مج دینے کی تضحیک کرنے لگے۔ اویس کو داج میں کچھ نا ملا تو ارشد کا اس میں دوش ہی کیا ہے۔ ہمارے دیہات میں یہ عزت کی بات سمجھی جاتی ہے۔ اور تحفے کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دینے والا کتنا امیر تھا۔ بات محبت اور خلوص کی ہوتی ہے۔ کروڑوں کے انعامات سے یہ تحفہ بیش قیمت ہے کیونکہ دینے والے کے لیے بھی یہ بہت قیمتی تھا۔

پھر کہانی میں ہمارے سیاسی شوباز نازل ہونا شروع ہوئے۔ شہباز شریف کی زبردستی ویڈیو سے رانا مشہود کا لمبا جپھا غرض یہ کہ ایک لمبی داستان ہے بوکھلاہٹوں اور شہدے پنے کی۔ ایک طرف انصافی اپنی صفِ ماتم بچھائے بیٹھے تھے کہ بانوے کے ورلڈ کپ سے بڑے ہیرو کا پاکستان میں جنم کیونکر ہو گیا۔ تو دوسری طرف نون لیگیوں نے عمرانی بت کو توڑنے کی خاطر دھمالیں اتنی ڈالیں کہ بونگے ہی لگنے لگے۔ ہمارا کپتان باہر ہوتا تو پروجیکشن میں کسی کو آگے نکلنے نا دیتا۔ برا ہو اس فیض کا سارا کام ہی خراب کر گیا۔

یہ جلن اور حسد بے وجہ بھی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ ارشد نے ستائیس سال کی عمر میں وہ کچھ کر دکھایا ہے جو لوگ ساری زندگی کی تپسیا کے بعد بھی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پیسہ اب بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اصل کام اب شروع ہو گا۔ بڑی بڑی یونیورسٹیز اب ساحل عدیم جیسے بہروپیوں کو نہیں ارشد ندیم کو بلایا کریں گی۔ یہ میرا خواب اور امید ہے۔ جہاں ملک کی غالب اکثریت کا خواب گھسی پٹی تعلیم حاصل کر کے ایک لگی بندھی نوکری کرنا اور مر جانا ہو وہاں ارشد ندیم کا جنم لینا ایک معجزہ لگتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ارشد سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کم وسائل اور نا تجربہ کاری سے ہار نا مانتے ہوئے بھی ورلڈ چیمپئن کیسے بنا جا سکتا ہے۔

یہ صرف ارشد کی نہیں اس بوسیدہ نظام میں خواب دیکھنے والے ہر ذی شعور کی جیت ہے۔ یہ فائقہ ریاض اور جہاں آرا نبی کی جیت ہے۔ یہ ہر اس پاکستانی نوجوان کے لیے ایک امید کا پیغام ہے جو کوشش کرتا ہے ہار مانتا ہے تھک جاتا ہے۔ تمہیں تھکنا نہیں آگے بڑھنا ہے۔ نا امیدی کے جہاں کے پار اپنا ایک نیا سورج طلوع کرنا ہے۔ دنیا تمہاری منتظر ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ارشد ندیم: وہ آؤٹ آف سلیبس تھا

  • 15/08/2024 at 4:22 صبح
    Permalink

    A good and sensible text

    لیکن جانے والے سات لوگوں میں ارشد کے علاوہ تین لوگ قابل ذکر ہیں
    شوٹنگ میں غلام مصطفی بشیر اور گلفام جوزف جبکہ شوٹنگ میں ہی کشمالہ طلعت جن ہوں نے میرٹ پر کوالی فائی کیا۔ اور ان سے کچھ بہتر پرفارمنس کی توقع کی بھی جاسکتی تھی۔
    دوسری طرف پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جدو جہد کی وجہ سے خواتین کی تیراکی میں دو وائلڈ کارڈ انٹری ملین تھیں۔ جن پر کسی کو بھی بھیجا جاسکتا تھا۔ اور اسی لئے فائقہ ریاض اور جہاں آرا نبی کو اولمپئین ہونے کا شرف مل گیا۔ اور ان سے کسی بھی میڈل کی توقع محض حماقت تھی۔
    یہی مفتا تیراکی میں محمد احمد درانی کو بھی ملا اور وہ اولمپک ایسوسی ایشن کی وائلڈ کارڈ انٹری پر وہ بھی اولمپئین بن گئے۔

Comments are closed.