خاک و خون سے بھرپور داستان ہجرت
آنکھوں میں ان دیکھی موت کا خوف، چہروں پر غیر یقینی کیفیت کے آثار، دماغ میں اندیشوں اور وسوسوں کے رینگتے ہوئے سنپولیے، دلوں میں زندگی کی امنگ، اپنوں سے بے پایاں محبت اور دشمنوں سے نفرت اور انتقام کی آرزو لیے کپکپاتے ہونٹوں اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ پچاس افراد کا یہ گروہ جونہی بیلے کے جنگلات میں تھوڑی ہی دور اندر تک گیا تھا کہ سامنے سے سکھوں اور اکالیوں کا لاٹھیوں، کلہاڑیوں، برچھیوں اور کرپانوں سے مسلح جمِ غفیر ان پر ٹوٹ پڑا اور آنِ واحد میں ان سب کو موت کے گھاٹ اُتار کر ہر ایک کی جیب میں پڑا ہوا ایک ایک روپیہ نکال کر گویا اپنی محنت کے عوضانے کے طور پر وصول کر لیا۔ ہزاروں کی تعداد میں زخمی، بیمار، لٹے پٹے اور مہاجر ہونے والے افراد کے ایک قافلے کو انڈین آرمی نے موگہ شہر کے قریب روک رکھا تھا۔ ایک طرف ہندوستانی پولیس ان بے یار و مددگار نہتے مسلمانوں کی تلاشی لے رہی تھی۔ ان کے ساتھ موجود معمولی ساز و سامان اور جیبوں سے نقدی وغیرہ نکلوائی جا رہی تھی اور پچاس پچاس آدمیوں کو خالی ہاتھ ان میں سے ہر ایک کی جیب میں ایک ایک روپیہ ڈال کر آگے بھیجا جا رہا تھا۔ وہاں سے تھوڑی دور جھاڑ جھنکار میں پیشہ ور قاتل چھپے بیٹھے تھے جو ان افراد کو قتل کر کے ہر ایک کی جیب سے ایک ایک روپیہ نکال کر اپنی اجرت وصول کر رہے تھے۔
اس بدقسمت قافلے کو پچھلی جانب سے انڈین آرمی نے گھیر رکھا تھا اچانک اس طرف سے تڑتڑ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ سادہ دل دیہاتی اس آواز کی نوعیت کو سمجھنے سے قطعی طور پر قاصر تھے لیکن جب اردگرد کھڑے ہوئے لوگوں نے زمین پر گر کر خاک و خون میں لوٹنا شروع کیا تو انہیں حقیقت حال سے آگاہی ہوئی کہ ان پر فائرنگ کی جا رہی ہے۔ قافلے کے دائیں بائیں دونوں بازوؤں کو کرپانوں اور بندوقوں سے مسلح سکھ گھڑ سواروں نے گھیر رکھا تھا۔ وہ پندرہ پندرہ بیس بیس سواروں کی ٹولیوں کی شکل میں قافلے پر حملہ کرتے۔ نہتے اور بے بس لوگوں کو خون میں نہلاتے، ان کا ساز و سامان لوٹتے اور اس حصہ میں موجود چیختی، چلاتی، روتی دھوتی، احتجاج اور مزاحمت کرتی ہوئی جواں سال عورتوں کو اُٹھا کر لے جاتے۔ بعض عورتوں کو مزاحمت کی شدت پر جھنجھلا کر قتل کر دیا جاتا۔ غرض کہ اس بدقسمت قافلے کو چاروں طرف سے موت کے شکاریوں نے گھیر رکھا تھا۔ زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک لمحہ کا فاصلہ تھا۔ اس لمحے ایک آدمی زندہ سلامت ہوتا اور اگلے ہی لمحے وہ موت کی آغوش میں جا سوتا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ اچانک رحمت اللہ کی رقت آمیز آواز سنائی دی ”لوگو! ہمارا آخری وقت آ پہنچا ہے آؤ مل کر ربِ کریم کے حضور سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اس کے حضور توبہ کے طلبگار ہوں۔“ اس کے بعد اس نے بہ آواز بلند دعا منگوانا شروع کی۔ ”یا خدا ہمیں معاف فرما دے، باری تعالیٰ ہم پر رحم فرما، ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمیں صرف ایک بار، صرف ایک بار اس ٹھنڈی دھرتی کو دیکھنے کی توفیق عطا فرما جس کے لیے ہم بے خانماں و بے گھر ہوئے ہیں۔“ وہ کبھی ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر، کبھی سجدے میں گر کر اور کبھی رکوع کے انداز میں دعا مانگ رہا تھا۔ ایک اجڈ، ان پڑھ اور گنوار دیہاتی اپنے خالق سے ہمکلام تھا۔ اس کے ارد گرد کھڑے ہوئے لوگ بھی اس کی تقلید کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے رواں ہونے والے آنسوؤں کے سیلاب نے ان کے چہروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ان کا پورا وجود پگھل کر آنسوؤں کی صورت اختیار کر جائے گا۔ محمد شفیع پاس سے گزرتی ہوئی نہر میں اُتر کر گہرے پانیوں کی تلاش میں تھا۔ وہ اپنے خاندان کی عورتوں کو بے آبروئی اور ذلت کی زندگی سے بچانے کے لیے انہیں نہر میں ڈبونے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اتنے میں دینو کی آواز بلند ہوئی ”لوگو! اللہ نے تمہاری دعا قبول کر لی ہے مسلمانوں کی فوج آ پہنچی ہے۔“ محمد شفیع جو کہ خود بھی ایک سابق فوجی تھا جھٹ پٹ نہر سے باہر نکلا اور میاں جی کے منع کرنے باوجود حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے اس سمت چل دیا جس طرف سے پاکستانی فوج کی آمد کا غلغلہ تھا۔ اس کی واپسی تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہوئی۔ اس عرصہ میں پورا کا پورا خاندان اس کی سلامتی کے بارے میں متفکر اور دعا گو رہا۔ اس نے واپس آ کر تسلی دی کہ آنے والی ملٹری واقعی مسلمانوں کی ہے۔ اس میں ہمارے گاؤں کا فوجی شفقت بھی موجود ہے۔ پاک فوج کے سپاہیوں نے پورے قافلے کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ ہندوستانی فوج اور پولیس خاموش سے کھسک گئی ہے، سکھوں کے گھڑ سوار جتھوں کو بھگا دیا گیا ہے اور اب قافلہ محفوظ و مامون ہے۔ تعداد میں یہ پندرہ بیس مسلمان سپاہی رحمت کے فرشتوں کی طرح نازل ہوئے اور تمام قافلے کو اپنے پہرے کی چھاؤں میں تحفظ فراہم کرتے ہوئے منزل کی جانب رواں دواں کر دیا۔
یہ اس کہانی کا ایک مختصر سا باب ہے جو میں اس وقت سے سنتا آ رہا ہوں جب سے میرے شعور نے آنکھ کھولی ہے۔ سردیوں کی طویل راتوں میں دیے کی ٹمٹاتی ہوئی لو میں میری والدہ محترمہ یہ کہانی ہم سب بہن بھائیوں کو بڑی رغبت اور اہتمام سے سنایا کرتی تھیں۔ اس دور میں ٹی وی، وی سی آر، سی ڈی، موبائل اور کمپیوٹر کی سہولتیں موجود نہیں تھیں۔ اس لیے پورا خاندان ایک ہی چھت کے نیچے ذہنی طور پر بھی اکٹھا ہی رہا کرتا تھا۔ خاندان میں ایک فرد بات کرتا تو بقیہ افراد بھی بات پورے دھیان اور توجہ سے سنتے۔ اس لیے ہجرت کی اس دکھ بھری طویل داستان کو ہم اہلِ خانہ بھی بڑی توجہ اور غور سے سنا کرتے تھے۔ دن بھر کے کام کاج سے تھک کر جب رات کو سونے کے لیے ایک ہی بڑے سے کمرے میں لیٹتے تو اپنی ماں جی کو مجبور کرتے کہ کل کی چھوڑی ہوئی ادھوری داستان کا بقیہ حصہ سنانا شروع کیا جائے اور یوں یہ کہانی کئی راتوں تک چلتی رہتی۔ ماں جی ایک ان پڑھ دیہاتی خاتون تھیں جو قرآن مجید کو ہجے کر کے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتی تھیں اور رات کو سونے سے پہلے سورہ ملک کی تلاوت کر کے بچوں پر پھونکا کرتیں۔ ان کا کل علمی اثاثہ اسی پر محیط تھا۔ لیکن ہجرت کی داستان اس دلچسپ انداز میں تجسّس پیدا کرتے ہوئے سنایا کرتیں کہ ہم تمام بچے اپنے آپ کو اس کہانی کا ایک کردار اور اس کے مناظر کا حصہ محسوس کیا کرتے۔ رات کو سونے کے بمشکل چار پانچ گھنٹے نکال کر پورا دن گھریلو کام میں مصروف رہتیں۔ اپنے خاوند، بچوں اور پالتو ڈنگروں کی خدمت فرض عین سمجھ کر کرتیں۔ جیٹھ ہاڑ کی طویل اور گرم دوپہروں میں سوت کات کر گھریلو ضروریات کے کپڑے گاؤں کے جولاہے کو اجرت ادا کر کے بنوا لیا کرتیں۔ ان کی اس محنت شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ایک بہت بڑی جستی پیٹی کی صورت میں آج بھی ہمارے گھر میں موجود ہے۔ جو ان کے اپنے چرخے پر تیار کیے ہوئے سوت سے بنائے گئے کھدر، کھیسوں، دوہروں اور رضائیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمیشہ بارہ آنے گز والا کپڑا خرید کر پہنتیں۔ گاؤں کے موچی سے سلائی گنی دیسی جوتی استعمال کرتیں اور ہر ایک سانس کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرتیں کہ اس نے عزت و آبرو کے ساتھ ٹھنڈی دھرتی پر اپنے گھر میں اپنے دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ اکثر کہا کرتیں کہ ہجرت کے دکھوں اور مصیبتوں کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مفہوم درست انداز میں دوسروں کو سمجھایا جاسکتا ہے۔
اس وقت تمام لوگوں کا طرز زندگی اور رہن سہن نہایت سادہ تھا ان میں اکثریت کا علمی اثاثہ بہت محدود تھا بظاہر وہ لوگ تاریخ، فلسفہ، ہیئت، فقہ، حدیث اور حتیٰ کہ قرآنی تعلیمات تک بھی بہت کم رسائی رکھتے تھے لیکن محنت پر ان کا ایمان تھا ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنا اور مصیبت میں دوسروں کے کام آنا ان کا و طیرہ تھا سچی کھری اور دو ٹوک انداز میں بات کرنا ان کی عادت تھی امانت میں خیانت کو گناہ سمجھتے تھے اُن کی ضرورتیں بہت محدود تھیں وہ سخت کوش اور پر مشقت زندگی کے عادی تھے روپیہ پیسہ اول تو ان دنوں دیہات میں نہ ہونے کے برابر ہوتا لیکن اگر کسی کے پاس ہوتا بھی تو وہ اسے برے وقت کے لیے سنبھال کر رکھتے ساری سختی اپنی جان پر جھیلتے لیکن قرض لینے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے حتی الوسع گریز کرتے۔ ہمارے والدین کی طرح لوگوں کی اکثریت کے رہن سہن، بودوباش اور رویوں میں ان صفات کی جھلک بخوبی نظر آیا کرتی تھی۔ ماں جی نے کسی سکول کالج یا یونیورسٹی سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی انہیں فنانس کے مروجہ قواعد و ضوابط کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا لیکن وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھیں کہ گھر کا نظام چلانے کے لیے اپنی آمدنی کے مطابق ہی خرچ کرنا ہے۔ بلکہ کچھ بچت بھی کرنا ہے تا کہ برے وقت میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے۔ اس زمانے میں قرض، قرض اور صرف قرض پر ہی معیشت کو چلانے والے دانشوروں کا وجود کہیں بھی نظر نہیں آتا تھا۔ اسی لیے لوگ اپنے وسائل کے مطابق ہی اپنی زندگیاں گزارا کرتے تھے اور غربت کے باوجود مطمئن اور پر سکون انداز میں گزر بسر کر لیا کرتے تھے۔


