فیض حمید کی گرفتاری: کبھی تو آغاز باب ہو گا
کہتے ہیں کہ وقت کا پہیہ گھومتے دیر نہیں لگتی کل کے محرم مجرموں کی صف میں پہنچ جاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا یہ بیان اس کی تازہ مثال ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں فوج نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی جس کے نتیجے میں پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت ان کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ فیض حمید کے متعلق ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ آرمی کی تاریخ میں وہ افسران بہت کم ہیں جو دو مختلف کورز کے کمانڈر رہے۔ 75 سالوں میں 11 لیفٹیننٹ جنرلز نے ایک سے زائد کورز کی کمان کی۔ جنرل فیض حمید اُن میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے بطور بریگیڈیئر راولپنڈی 10 کور کے چیف آف سٹاف کی حیثیت سے 2015 میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت کام کیا۔ وہ کور کے چیف آف سٹاف تھے اور یہیں سے ان کا جنرل قمر باجوہ سے ایک مضبوط اور ذاتی تعلق بنا۔ میجر جنرل کی حیثیت سے انھوں نے پنوں عاقل ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ افسر کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد تقریباً ڈھائی سال وہ آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ ( ڈی جی سی) کے سربراہ ر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل بنے تو دو ماہ ایڈجوٹنٹ جنرل رہے اور 2019 میں آئی ایس آئی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 2021 میں آٹھ ماہ کورکمانڈر پشاور اور بعد ازاں چند ہفتے کور کمانڈر بہاولپور رہے۔ نومبر 2022 میں موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تقرری کے اگلے ہی روز فوج سے استعفیٰ دیا۔
2016 کے آخر میں آرمی چیف بنتے ہی جنرل باجوہ نے فیض حمید کو آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس تعینات کیا۔ ان کا نام نومبر 2017 میں فیض آباد میں تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران زیادہ سامنے آیا۔ 27 نومبر 2017 کو حکومت اور تحریک لبیک کے معاہدے کے آخر میں بوساطت میجر جنرل فیض حمید لکھا گیا اس کے بعد وہ عوامی حلقوں میں معروف ہوئے۔ دھرنے کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی اور سیاسی امور میں مداخلت کی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔
عمران خان نے جس طرح آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر پر سیاسی مداخلت اور تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں اور تشدد کے الزامات عائد کیے، اسی طرح 2017 سے 2019 تک میجر جنرل فیض حمید سے بھی مسلم لیگ نون کو اسی نوعیت کی شکایات تھیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ’جنرل اشفاق کیانی کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا ہماری پارٹی کے رہنماؤں کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کی کوششیں کر رہے تھے اور ہم نے اس کا تذکرہ آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی کیا۔ تحریک انصاف کے لیے پہلے جنرل پاشا اور پھر جنرل ظہیر الاسلام نے کام کیا اور میجر جنرل فیض حمید کے دور میں عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان بنایا گیا۔ ماضی میں بھی آرمی کی سیاسی مداخلت کسی نہ کسی انداز میں ہوتی رہی البتہ جنرل فیض حمید کے دور میں یہ مداخلت سرعام ہوئی۔ گلی محلوں اور عوامی حلقوں میں آئی ایس آئی کا کردار زیر بحث آنے لگا۔
جنرل فیض حمید نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا اور طالبان سے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی انخلا کے بعد کابل کے ایک ہوٹل کی لابی میں جنرل فیض حمید نظر آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ تصویر اور گفتگو سامنے آنے پر ملک میں دبی دبی تنقید بھی ہوئی کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس طرح منظر عام پر نہیں آنا چاہیے۔ اسی زمانے میں جب نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا مرحلہ آیا تو عمران خان کی خواہش تھی کہ جنرل فیض حمید کو اس عہدے پر مزید کچھ عرصہ کام کرنے دیا جائے۔ تاہم لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم کو نیا آئی ایس آئی چیف تعینات کر دیا گیا لیکن وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے تعیناتی کی سمری کی منظوری میں تاخیر سے فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ کی کیفیت بنی۔
عسکری روایات کے مطابق اگر کسی افسر کو کوئی اسائنمنٹ دی جائے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف اور صرف پیشہ ورانہ امور پر توجہ دے گا۔ ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہوا کہ فوجی افسران پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے کرتے بنیادی اصولوں سے آگے نکل گئے۔ روس کے خلاف افغان جنگ اور اس کے بعد کئی افسران عسکریت پسندوں میں مقبول ہوئے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی ایک مختلف شخصیت بن کر سامنے آئے۔ انھیں بھی وقت سے پہلے فوج سے رخصت ہونا پڑا۔ اسی طرح سابق ڈی جی آئی ایس آئیز جنرل جاوید ناصر، جنرل محمود احمد کو بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خیالات میں عدم توازن کے باعث فوج سے الگ ہونا پڑا۔ یہی صورتحال جنرل فیض حمید کو بھی پیش آئی۔ پراجیکٹ عمران میں افسران ادارے سے آگے بڑھ کر اس کا حصہ بن گئے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں سے ہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈی جی کی اپنی سوچ اور ادارے کے نقطہ نظر میں مطابقت نہیں رہتی۔ اختیارات کی وجہ سے ادارے سے ہم آہنگی کے بغیر بھی افسر اپنے مرضی کر لیتے ہیں۔
سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں ہی 24 اپریل کو فوجی قیادت نے فیض حمید کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک میجر جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جس کی روشنی میں ان کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔ آرمی ایکٹ کا سیکشن 31 فوجی افسران اور اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے جبکہ سیکشن 40 مالی بدعنوانی اور فراڈ کے متعلق ہے۔ کسی بھی فوجی افسر یا اہلکار پر اس طرح کے الزامات ہوں تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سویلین اداروں میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرح فوج میں کورٹ آف انکوائری عمل میں لائی جاتی ہے۔ کورٹ مارشل میں حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں عدالت قائم کی جاتی ہے جس میں دو ممبروں کے علاوہ جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کا نمائندہ بھی شامل ہوتا ہے۔ گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر چارج شیٹ اور الزامات کی کاپی فراہم کردی جاتی ہے۔ ملزم کو ’اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنی صفائی میں گواہ بھی پیش کرنے کا حق رکھتا ہے۔
ماضی میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی کو سیاسی امور میں مداخلت کی وجہ سے قبل از وقت ریٹائر کیا گیا۔
ان کی کتاب سپائی کرانیکلز کی اشاعت کے بعد ان کے خلاف ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے بعد فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی پران کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اور ریٹائرمنٹ کی تمام مراعات بھی واپس لے لی گئیں۔ 2012 میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کا جاسوسی کے الزام میں کورٹ مارشل کیا گیا اور 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ بریگیڈیئر علی خان کا 2011 میں شدت پسند تنظیم حزب التحریر سے روابط اور بغاوت کے الزام میں کورٹ مارشل کیا گیا۔ 2001 میں لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین بٹ ( ڈی جی آئی ایس آئی ) جنھیں نواز شریف نے آرمی چیف تعینات کیا تھا، جنرل پرویز مشرف کے حکم پران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوئی اور فوجی عہدے سے برخاست کر دیا گیا۔ بعد کی تین انکوائریوں میں انھیں ان الزامات سے بری کر دیا گیا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل مشرف کو برطرف کرنے کی وزیراعظم کی منصوبہ بندی یا ’سازش‘ کا حصہ تھے۔ 1958 میں ایوب خان کے دور میں بریگیڈیئر نیاز کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔ فوج کی موجودہ کارروائی اس کا ثبوت ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال کرنے والے کبھی تو کٹہرے میں کھڑے ہوں گے :
کتاب سادہ رہے گی کب تک؟
کبھی تو آغاز باب ہو گا۔
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی
کبھی تو ان کا حساب ہو گا۔


