ہم بے چارے ناخالص قوم
ہماری تحریروں، الفاظ اور گفتگو میں جب بھی ناخالص کا لفظ آتا ہے تو ہمیں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا خیال ضرور آتا ہے اور ہائے ہمارے ایمان کا تعلق بھی دودھ میں پانی ملانے سے کچھ کم نہیں۔ مگر دودھ تو بہت چھوٹی سی مثال ہے جس میں دودھ میں پانی ملانے والے کو چار پیسوں کا ہی سہی فائدہ تو پہنچ رہا ہے، تو بات ہو جائے ہماری اپنی شناخت کی۔
جب بھی ہماری شناخت کی بات ہوتی ہے تو ہم خود کو قوم کی بین الاقوامی تعریف سے خارج کرتے ہیں یا ماورا قرار دے دیتے ہیں ہوئے قومیت کے عناصر زبان، ثقافت، جغرافیائی حدود سے نکل کر اپنا رشتہ ہزاروں میل دور ایک جزیرہ نما معاشرے سے جوڑ دیتے ہیں۔ اور یہ کام عرب حملہ آوروں کے دور حکومت سے لے کر آج بھی ذوق و شوق سے جاری ہے۔ اپنی قومی شناخت سے روگردانی کر کے خود میں عربیت اور ایرانیت کے ڈی این اے کی زبانی اور لفظی ملاوٹ ہندو پاک مسلمانوں کی شان ٹھہری۔
عرب حملہ آوروں کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں فاروقی، صدیقی، عثمانی، ہاشمی، قریشی، زیدی، انصاری حسینی، جعفری، علوی آئے تھے جن کی ہجرت کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں، لیکن حیرت کی بات ہے اموی جنگجو اموی یا یزیدی مہاجرین نہیں لائے تھے جبھی پاک و ہند میں کسی کے نام کے ساتھ اموی یا یزیدی نہیں لگا ہے، شاید راقم کو علم نہیں یا ان کے ڈی این اے کو ملاوٹ کے قابل نہیں سمجھا گیا۔
اور یہاں کہ مقامی آبادی کے وہ ہندو کہاں گئے؟ اللہ جانے ان کا پتہ ملتا نہیں؟ ڈائنو سار کے بھی فوسلز مل گئے مگر ہندوستان کے ان ہندووں کا نام و نشان بھی نہیں ملتا جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے سوائے ان راج پوتوں کے جنہیں اپنے راج اور طاقت پر غرور تھا۔
چلیں جی قصہ مختصر ہندوستان کی ایک چوتھائی آبادی ہندو سے مسلمان ہوتے ہی عمرؓ، ابوبکر ؓ، عثمان ؓ، علی ؓ اور دیگر صحابہ کی اولادیں ہو گئیں۔ کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوتی ہے پورے کے پورے قبیلوں کے ساتھ ذاتیں بدلی گئیں جس میں کئی قبیلے مختلف ذاتوں کے نام سے جانے گئے کچھ جن میں جولاہے انصاری اور قصائی قریشی ہو گئے، یہ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ پڑوس میں کپڑے بننے والے انصاری صاحب شاید عرب سے یہاں آ کر نسلوں کا کام کر رہے تھے اور باقی رہے قریشی تو وہ اسلامی تاریخ کے مطابق اتنے ظالم واقع ہوئے کہ ہندوستان آ کر بھی قصائی بننے کو مقدم جانا، اگر کسی کو شک ہے تو وہ ملیر کراچی میں قصائی محلہ (قریشی محلہ ) کا خود دورہ کر سکتا ہے مگر دھیان رہے مسلمانوں پر عرب میں مظالم ڈھانے کے بعد ایک سیاسی پارٹی نے ان کی اس صلاحیت کا استعمال خوب کیا ہے۔ ان سے بحث سے پرہیز کریں اور ان کے عربی ہونے پر شک نہ کریں۔ ( زیادہ تفصیل کے لیے، برصغیر میں مسلمان معاشرے کا المیہ ڈاکٹر مبارک علی )
میرا مقصد کسی کے خالص یا ناخالص پر تنقید کرنا نہیں بس تاریخ کیا کہتی ہے سوال اٹھانا ہے اور ان سوالات کے جوابات کو ڈھونڈنا ہے کہ ایک قوم خود کی شناخت کو کیسے مسترد کرتی ہے؟ اس کے سماج میں سماجی حیثیت؟ معاشرتی حیثیت؟ معاشی حیثیت؟ مذہبی حیثیت؟ کیا عوامل تھے اس کمتری کے پیچھے یا یہ سب ایک قوم کا ایک تاریخی احتجاج جو اس نے مذہب کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نسل کو تبدیل کر کے ریکارڈ کروایا۔ اور ہندوں معاشرے پر اٹھتا ہوا سوال بھی، اب بھی اگر ہندوں معاشرے میں ذات پات سے ماورا ہو کر حقوق کی پامالی کو روکا نہ گیا تو تاریخ میں احتجاج پھر ریکارڈ ہو سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے وہ اس احتجاج سے بالکل الگ اور مختلف ہو۔ یہ مسئلہ اس وقت کی عام ہندو جنتا کی نفسیاتی کش مکش کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر اب بھی کسی کو شک ہے تو وہ اپنا ڈی این اے کروا کر خود کی تسلی کر لے کہ سارے کے سارے باہر سے آئے ہیں یا یہاں کہ خالص ہندو اور مقامی افراد ہیں۔
یہ تو تھی آپ کی خالص شناخت اب آ جائیں مذہب کی خالصیت پر ، ناخالص لوگوں پر آ کر اسلام کی شکل کا خالص رہنا ممکن نہیں تھا، اب جس مذہب کو نجات ہندہ سمجھا چاہے وہ جزیہ ٹیکس کی وجہ سے ہو یا سماجی، معاشرتی اور معاشی حیثیت کی برتری ہو، اسے بھی خالص اپنایا نہیں گیا، اپنے قوانین اپنے رواج اور رسوم میں بدل کر ایک نیا مذہب تشکیل دیا اور پھر لو بھیا، ہندوستان کے مسلمانوں نے عربوں کو سچا مسلمان ماننے سے انکار کر دیا، جیسے ایک ناگوری والا اپنے دودھ کو ہی خالص اور پرانے ناگوری کے دودھ کو ناخالص قرار دے دے۔
پھر آ جائیں مذہبی ٹھیکے داروں پر یہ خود کے لیے ہر اچھا برا فعل حلال اور دوسرے کے لیے حرام قرار دیتے ہیں اور پھر مولویوں حضرات کے نیک کاموں سے اپ سب واقف ہیں کہ کتنی خالص مذہبی زندگی گزارتے ہیں۔
اب آ جائیں سیاست کی طرف ناخالص وعدے نا خالص نعرے نا خالص وفاداریاں نا خالص حکومتیں سیاست کے میدان کا خاصہ بن چکی ہیں، اگر ایک پارٹی جیت جائے تو دوسری پارٹی کی حمایت کو ساتھ ملا کر حکومت کرنا مجبوری ہوجاتی ہے تو گویا دودھ میں پانی نہیں، یہاں تو پانی میں دودھ ملایا جاتا ہے، ۔ پارٹی میں اتنے ووٹوں کی کمی سے۔ پارٹی کی حمایت تب تک جاری رہتی ہے جب تک حکومت چلے۔
پھر وہی بات کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
اب آ جاتا ہے بے چارہ ادب یا یوں کہہ لیں زندگی کے معاملات اب شاعر شاعرات، ادیب اور ادیبہ جو ادب تخلیق کر ہے ہیں اس میں بھی ملاوٹ۔ اور ملاوٹ کا بازار گرم رہا کیوں رہا؟ کیسے رہا؟ ہم ٹی وی کے ڈرامے خوشبو بھرے خط نے اس ناخالصیت کا پردہ خوب چاک کیا ہے۔
اس سے زیادہ کیا کہوں ”ہم نے کچھ عرض کی تو شکایت ہوگی جو شاعری ہے وہ شاعر کی نہیں اور جو شاعر ہے وہ شاعری کا نہیں ہے، افسانوں کے نام کسی کے قلم کے۔ کہانی کے کردار کسی اور تخلیق کار کے، کسی کے ادبی میدان میں شمولیت دوستی یاری اور قربت پر ہو رہی ہے۔
اصل تخلیق کار مست مولائی میں گم نام پر ہی خوش ہیں۔ ان ادبی میلوں ٹھیلوں کی گونج ان کے کان پھاڑے دیتی ہے، زخموں کے اسٹالوں میں زخم بھی اپنے نہیں اور ہو بھی کیسے سکتے ہیں، غم کشید کرنے سے خود کی روح اور جسم پر گھاؤ کھانا آسان ہوتا تو منٹو خون تھوک تھوک کر نہ مرتا، جان ایلیا پاگل نہ کہلاتا، ساغر گلیوں میں مجنوں نہ پھرتا، فیض سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتا، جالب ہر دور میں جبر کا شکار نہ ہوتا۔
ہمارا ناخالص معاشرہ ایک ناخالص میلہ جس میں ہر چیز ایک دم ناخالص اور ہم بے چارے ایک ناخالص قوم


