سخی ارسلا خان
سال اُنیس سو چوالیس کے شروعات میں سلطنتِ برطانیہ کے زیرِ تسلط متحدہ ہندوستان کے شہر پشاور میں موچی عبدالمنان کے گھر پہلا بچہ ’معرضِ وجود‘ میں آیا تو پورے خاندان، اَڑوس پڑوس اور محلہ میں اتنی خوشیاں منائی گئیں گویا دنیا کی سطح مرتفع پر کوئی پہلا مرد کا بچہ ’نمودار‘ ہوا ہو۔ محلہ شیخ جنید آباد دورہ روڈ پشاور کے گلی کوچوں میں ڈھولکیوں، بینڈ باجوں اور بھنگڑوں کے شور شرابے میں زمینی سیارے پر نئے آدم زاد کی آمد کی نوید دی گئی۔ دَرونِ دیوار روایتی رقص اور گیت و سنگیت کی تقریبات کا اہتمام ہوا، جو ہفتوں چلتی رہیں۔ حسبِ استطاعت تو نہیں، البتہ یار و دوستوں کی مالی مدد اور بہی خواہوں کے قرض و قولہ سے کپڑے، جوتے، شالیں، چوڑیاں، ٹوپیاں اور خوشبوئیں وغیرہ خرید کر، اِس وقوعہ کی خوشی میں رشتہ داروں محلہ داروں اور ’سہولت کاروں‘ کے بیچ بندر بانٹ ہوا۔ گھر گھر، محلہ محلہ دھڑا دھڑ اَمرسیاں اور حلوے کی پڑیاں بھی بانٹی گئیں۔ فاقہ مست ’خوشحالہ کورنئی‘ میں یہ ’سیلے بریشنز‘ خواتینِ خانہ نے اس قومی امید کے ساتھ منائیں کہ بچہ بڑا ہو کر باپ کے کندھوں کا بوجھ کم کرے گا، محنت کرے گا اور نامی گرامی موچی بن کر ’خاندانِ موچیہ‘ کی پیشانی کا جھومر بننے کے ساتھ ساتھ محلے اور علاقے کا نام بھی روشن کرے گا۔ والد کا ایسا کوئی خیال قطعاً نہ تھا۔ بس وہ تو خوشیاں منانے اور ہلّہ گُلّہ کرنے کا دل دادہ تھا، جس کے لیے کوئی بہانہ چاہیے ہوتا تھا، چاہے بچے کی پیدائش ہو، محلے میں کسی کا ختنہ ہو، کہیں مہندی کی تقریب ہو، یا کسی کی شادی خانہ آبادی ہو، بس یہی اُس کا فیشن تھا۔
باہمی مشوروں کے بعد بچے کا اِسم گرامی محمد زمان خان رکھا گیا۔ ’خان‘ کسی دنیاوی الجھنوں اور مستقبل کی سختیوں سے لاعلم، ماں کی گود میں لاڈ پیار کے ساتھ من و سلویٰ سے مستفید ہو تا رہا کہ ایسے میں اُنیس سو سینتالیس آ گیا۔ متحدہ ہندوستان کے بطن سے دو آزاد ممالک پاکستان اور ہندوستان برآمد ہوئے۔ پاکستان کے اکثر ہندو، ہندوستان اور وہاں کے زیادہ تر مسلمان، پاکستان ہجرت کرنے لگے۔ شہروں میں بلوے شروع ہوئے، تو پشاور بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ افرا تفری اور قتل و غارت گری کے پریشان کن ماحول میں لوگ صبح صبح لوٹ مار کرنے شہر میں پھیل جاتے اور شام کو مال و زر سے لدے پھندے گھروں کو لوٹتے، لیکن عبد المنان اِن سرگرمیوں سے بے نیاز اپنے کام اور بے یارو مددگار لوگوں کی خدمت میں خاموشی کے ساتھ جتا رہتا۔ اُسے لالچی لوگوں سے شدید نفرت تھی۔ وہ ان سرگرمیوں پر کُڑھتا اور لوٹ مار کرنے والوں پر لعنت بھیجتا۔ اُس کی خود داری، خوداعتمادی اور ایمان داری قابلِ دید بھی تھی اور قابلِ داد بھی۔ دونوں، یعنی وقت کا پہیہ اور عبدالمنان کے ہاتھ پیر اپنی مرضی اور رفتار سے چلتے رہے۔ اُس کا خاندان پھلتا پھولتا اور موچی خانہ وسیع ہوتا گیا۔ بیٹے محمد زمان خان نے بھی بڑے ہو کر اسکول کی راہ لی۔ دو چار سال لکھ پڑھ کی سزا بھگتنے کے بعد اُس نے آگہی پر بے گانگی کو فوقیت دی اور قلم و دوات توڑ مروڑ کر علم و فضل سے ناتا توڑ دیا۔ والد کے ساتھ دکان پر جوتوں کی مرمت کے کام پر ہاتھ ڈالا، لیکن بے چین دل بے چین ہی رہا۔ محلے کے رنگ ساز دوست کے ساتھ ساز باز کر کے پینٹنگ کا ڈھول ڈالا اور آٹھ دس سال پینٹ سے گھروں کو کم اور اپنے کپڑوں کو زیادہ رنگنے لگا۔ پندرہ بیس سال کا عرصہ پلک جھپکتے بیت گیا۔
صفحہ پلٹا اور سال اُنیس سو تریسٹھ آ گیا، جب ’خان‘ کا والدِ گرامی موچی خانہ چھوڑ کر کپڑے کے پھلتے پھولتے کاروبار کا مالک بن بیٹھا۔ مال و زر جمع کرنے کا شوق نہیں تھا، اُس کا۔ بس جو کماتا، خود کھاتا اور غریبوں مسکینوں کو کھلاتا پلاتا رہتا۔ کچھ عرصہ بعد وہ پشاور کو خیرباد کہہ کر بال بچوں سمیت اپنے آبائی علاقے سوات منتقل ہوا۔ اِس دوران بیٹے محمد زمان کی شادی کرائی گئی تو وہ سارے کام چھوڑ کر بچوں کی پیداوار میں اضافے کا موجب بننے میں جُت گیا۔ کسی وقفہ کے بغیر سات سال میں کام یابی کے ساتھ پانچ بچے صفحۂ نیستی سے صفحۂ ہستی تک لانے میں سُرخرو ہوا، چار بیٹے اور ایک بیٹی۔ والد عبدالمنان نے آخر کار رحلت کرنا تھی، کر لی۔ گھر میں جو کچھ موجود تھا، وہ متوفی کے ایصالِ ثواب کے لیے خیر و خیرات پر یوں بہایا گویا کل نہیں ہو گا اور ہو گا تو دیکھا جائے گا۔ پھر کیا تھا بچوں سمیت خالی جیب اور خالی پیٹ زندگی کو گویا لوہے کے چنوں کے مصداق چبانے لگا۔ کھانے میں ٹماٹر کی چٹنی بنی، تو کبھی پیاز اور مرچ کے ٹکڑے روٹی میں فولڈ کر کے سینڈوچ سمجھ کر کھایا۔ کبھی فاقے کی نوبت آئی، تو کبھی پتلی نمکین لسّی کے ساتھ روٹی نوشِ جاں کی اور لوگوں کے سامنے یوں ڈکار مارتا، گویا ابھی ابھی مٹن کڑھائی کھا کر گھر سے نکلا ہو۔
اُنیس سو ننانوے میں صفحہ پھر پلٹا۔ چار بیٹے محنت مزدوری کے قابل ہوئے، تو گھر کا احوال بہتر ہوا۔ اُس کے چار سو روپے والے کرائے کے گھر کے ساتھ ہی ایک چھپر سا کیبن تھا، اس کو کرائے پر حاصل کر کے چکڑ چھولے فروخت کرنے کے ’بزنس‘ پر ہاتھ ڈالا۔ وہ گھر پر چھولے پکاتا، تندور سے روٹیاں لاتا اور اُس چھپر کیبن میں فروخت کرتا۔ مزدور گوجر برادری اور اسکول کے بچے یہاں آتے، کھانا کھاتے اور جو بھی جتنا بھی پیسہ دے جاتا کسی گنتی کے بغیر ساتھ رکھے صندوقچے میں ڈالتا۔ کبھی پیسوں کی گنتی کرتا، نہ کسی سے پیسوں کا پوچھتا۔ ’جو دے، اس کا بھی بھلا جو نہ دے، اس کا بھی بھلا‘ ۔ روزانہ درجنوں لوگ مفت کھانا کھانے آتے، لیکن اس کا ذکر محمد زمان کسی سے بھی نہ کرتا۔ کوئی خدا ترس آدمی کسی مزدور یا بچوں کے کھانے کی ادائیگی کی کوشش کرتا، تو اُنہیں منع کر کے کہتا کہ جناب یہ اوپر والے کے مہمان ہیں۔ ہر پندرہ بیس دن بعد کمائی کی جانچ پڑتال کرتا، اُس کے مطابق چاول اور چنے خریدتا، شام کو گھر میں پکاتا اور مستحق لوگوں کو خاموشی سے کھلاتا یا آس پاس گھروں میں یوں تقسیم کرتا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ہزار روپے سے زیادہ ایک پیسہ بھی گھر میں جمع نہ رہنے دیتا۔ بس یہی اُس کی زندگی کی روٹین تھی۔
اُنیس سو چوالیس میں بڑی شان و شوکت سے پیدا ہونے والا وہ بچہ کچھ عرصہ پہلے تہتر سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اوپر ’پرواز‘ کرنے سے پہلے بڑے بیٹے کے ساتھ فخریہ انداز میں سرگوشی کی: ”ساڑھے پانچ سو روپے صدیق احمد شال دا دا کا قرضہ ہے، وہ ادا کر دینا، باقی قصہ صاف ستھرا ہے“ ۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے کلمہ پڑھا اور جھٹ پٹ خاموش ہوا گویا فرشتۂ اجل کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ کیا ہو، جان جانِ آفرین کو سپرد کرنے کی۔ موت اتنی آسانی سے آئے بڑی بات ہے، بس اللہ کی مہربانی ہی سے ممکن ہے۔ اِس بے چین و بے قرار و بے وفا دنیا میں بڑے رنگ ڈھنگ کے ساتھ ’نمودار‘ ہونے والے بچے نے انتھک محنت و مزدوری سے جسم کے ساتھ ساتھ اپنا نام بھی گھسا گھسا کر محمد زمان خان سے ’زمانے‘ بنا دیا لیکن دُنیا سے جاتے ہوئے اُس کے دونوں ہاتھ ایسے ہی خالی تھے جیسے پیدائش کے وقت۔ اللہ بخشے، ’زمانے‘ نے بڑی بھرپور زندگی گزاری۔ خود اعتمادی ایسی، گویا سرے محل کا مالک ہو، لندن کے فلیٹس اور آف شور کمپنیز اُس کے نام ہوں، یا بنی گالہ کے وسیع و عریض ولا کے والی ہو یا آسٹریلیا کے جزیروں کا شہنشاہ ہو۔ اس نے زندگی میں کوئی خواہش کی، نہ کسی کے مال و زر اور نام و نمود کو ترسا۔ لوگ اپنی دولت پر ناز کرتے ہیں، لیکن بخدا ہم نے زندگی میں صرف اس شخص کو ایسا پایا جیسے اُسے اپنی غربت اور عجز و انکساری پر ناز ہو، جیسے وہ اپنی محرومیوں سے لطف اُٹھا رہا ہو، جیسے وہ اپنی غربت کی طاقت سے نمود و نمائش کی رسیا مخلوق کے منہ پر تھپڑ مار رہا ہو۔
وہ اپنی غربت پر پچھتایا نہ خداوندِ کریم سے کوئی گلہ کیا۔ وہ غریب ہو کر بھی غریبوں کے لیے جیا، اس نے اپنے بیٹوں کو محنت مزدوری سے رزق حلال کمانے کے گُر سکھائے۔ گھر والوں کو عجز و انکساری اور محدود ضروریات کے ساتھ زندگی گزارنے کے فن سے نوازا۔ وہ اپنے محلے کا ہی نہیں، علاقے کے غریبوں کا اَن داتا تھا۔ اس کو اور اس کے اہل و عیال کو بھوک کی کیفیت سے گزرنے کا بار بار تجربہ ہوا۔ اس لیے اس نے بھوکے لوگوں کو سستا یا مفت میں کھانا کھلانے کے عمل کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ کوتاہیاں اور کم زوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں، ’زمانے‘ میں بھی ہوں گی لیکن وہ خالی ہاتھ ’سخی ارسلا خان‘ تھے کہ اُس کا دستر خواں ہر وقت غریبوں کے لئے بچھا پڑا رہتا، معاشروں میں ایسا کردار ادا کرنا بہت کم لوگوں کے نصیبوں میں ہوتا ہے۔ کسی نے یہ شعر گویا ’زمانے ماما‘ جیسے لوگوں کے لئے تخلیق کیا ہے :
آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے
……………..


