آزادی کے ستتر سال۔ اتنا سناٹا کیوں ہے


dr tehreem javaid

وطنِ عزیز کی سالگرہ ہے۔ ایسے موقع پر بنتا تو جشن ہے لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ نوحہ لکھوں۔ شاید ہم وطن مجھے قنوطیت پسند سمجھیں لیکن عمر کے بے شمار سال مسیحائی سے وابستہ رہنے کے بعد جو مایوسی کی فضا حالیہ کچھ عرصے میں محسوس کی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ پاکستان سے زندہ بھاگ کا نعرہ تواتر سے سننے کے بعد بھی کبھی اچھا نہیں لگا کہ دلِ ناداں نے جینے کے ساتھ مرنے کا تصور بھی اسی مٹی سے وابستہ کر رکھا ہے۔

یہاں جو سوچتا ہے وہ غدار ہے جو لکھتا ہے وہ باغی ہے اور جو کچھ بھی بدلنے کی خواہش کر بیٹھے وہ مجرم ہے۔ اس چودہ اگست پہ ارشد ندیم کی جیت کو منانے کے سوا کوئی بھی خوشی نظر نہیں آتی۔ پچھلے کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی جو غیر علانیہ بندش جاری ہے وہ جلتی کو آگ دکھانے کے مترادف ہے۔ جس ملک کی آبادی نوجوانوں کی اکثریت پہ مشتمل ہو۔ اور پھر نوجوان بھی وہ جو نا پڑھتے ہیں نا کھیلتے ہیں۔ ان کی واحد تفریح انٹرنیٹ بھی چھین لیں گے تو انقلاب تو آئے گا نا۔

اور کہیں انقلاب آئے نا آئے آن لائن کام کرنے والے لوگوں کی زندگیوں میں ایک خاموش انقلاب چپکے سے آ چکا ہے۔ ملک کے باغی علاقہ جات میں انٹرنیٹ ویسے ہی دوائی کی طرح دیا جاتا ہے یعنی حسبِ ضرورت۔ چل پڑا تو چل پڑا نہیں تو جو تیری مرضی خدا۔ لیکن اب پنجاب میں بھی یہ معاملہ روٹین کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ شاید ملک کی باقی قومیتوں کا شکوہ دور کر کے ایک ہی صف میں سب کو کھڑا کیا جا رہا ہے۔

ادارہ اور دوسرا ادارہ کافی عرصے سے ایک نورا کشتی کھیل کر سامعین کو محظوظ کر رہے ہیں لیکن اس میں ان بھیڑ بکریوں کا کیا۔ ان کے کھانے کا کچھ چارا تو چھوڑ دیجیے صاحب کہ کہیں پنجاب بھی نا چیخ اٹھے۔ چلے بھی جاؤ کہ جیون کا کاروبار چلے۔ بظاہر معاملہ ایک ریٹائرڈ افسر کا دکھایا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس نے ایسا کیا کر دیا جو اس سے پہلے نا ہوا۔ کہیں انصاف کے پردے میں ذاتی عداوت تو نہیں نکالی جا رہی۔ ادارے کا یہ کنفیوژن آج کا نہیں کئی دہائیوں پہ محیط ہے۔ ایک زمانے کے برے سٹوڈنٹس وقت کا دھارا بدلتے ہی گڈ ہو جاتے ہیں۔ عوام تو سوال کرے گی۔ جواب نا ملے کوئی بات نہیں۔ لیکن سوال تو ہوتے ہیں۔

ستتر سال میں جو بدترین شعبہ ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی ہے۔ ارشد ندیم کے میڈل کے بعد یہ آوازیں اور تیز ہوئیں کہ لر و بر یو افغان میں کیا برائی ہے۔ برائی یہ ہے صاحب کہ مشرقی پنجابی کبھی پاکستانی سفارت خانے پہ اپنے بھارت مہان کا جھنڈا لہراتے نہیں پکڑے گئے۔ مغربی پنجاب کا کوئی باسی سرائیکی تحریک سے تو واقف ہو سکتا ہے لیکن متحدہ پنجاب اس کی کتاب میں بھی نہیں ہے۔ آزاد پشتونستان ایک حسین خواب ہے لیکن ملکوں کا ٹوٹ جانا بیرونی عناصر کی مدد کے بغیر آج اتنا آسان بھی نہیں ہے اور سامراج کی ابھی اس حوالے سے کوئی ضرورت پیدا نہیں ہوئی۔

مزید المیہ دیکھیے کہ اسحاق ڈار وزیرِ خارجہ ہے جو جب آئی ایم ایف سے ڈیل نہیں لے پا رہا تھا تو جیو پالیٹکس کا سیاپا کرنے بیٹھ گیا تھا۔ باقی طارق فاطمی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ادھر ادھر بیچتے پہلے بھی پکڑا جا چکا ہے۔ ایسی سیانی ٹیم کے ساتھ یہی حال ہونا ہے جو ہو رہا ہے۔ ہم آج تک یہ ہی نہیں طے کر پائے کہ امریکہ کا یار غدار کیوں ہے۔ ایران اور سعودیہ کے ساتھ بھائی بننا ہے یا دوست۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن کیوں ہے اور چین کے ساتھ زبان کا اتنا بڑا فرق ہونے کے باوجود دوستی ہمالیہ سے اونچی کیوں ہے۔ یہ سارا مطالعہ پاکستان پڑھ کر جوان ہونے والی نسل عمرانی نا بنے تو کیا بنے۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ مطالعہ پاکستان کے بعد بھی جو نوجوان اپنے بل بوتے پہ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے وہ اس ملک سے ہجرت کو ترجیح دے رہا ہے۔ لیکن ہمارے پالیسی ساز بہت مصروف ہیں۔

بس بھی کیجئے اب۔ اس ملک کے بچوں کو صرف تعلیم اور صحت کا حق دے دیں۔ اپنا جہاں وہ خود پیدا کر لیں گے۔ پاکستان اور کسی جگہ ترقی کرے نا کرے یہاں ترقی کیے ہی جا رہا ہے۔

یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سکول سے باہر موجود بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان کا دنیا میں دوسرا نمبر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس عمر کے بچوں کی کل تعداد کا 45 فیصد سکول میں نہیں جا پا رہا۔ یہ پرائمری کے بچوں کی بات ہے۔ اوپر کا تو کوئی قطار شمار ہے ہی نہیں نا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب بھی یہ تعداد زیرِ بحث آتی ہے۔ سندھ پنجاب پختونخوا کا تقابل شروع ہو جاتا ہے۔ مان لیجیے کہ آپ سب برابر ذمہ دار ہیں۔ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا چونا لگایا جا رہا ہے تو حکومتِ پنجاب نے سرے سے ہی پرائمری سکولز ٹھیکے پہ دے دیے ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جس کے بچے کو تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی امید کی بات سوچنا چاہتی ہوں لیکن حالات کا جبر اور مستقبل کے خوفناک منظر نے دماغ ماؤف کر دیا ہے۔

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پہ اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

Facebook Comments HS