کون لوگ ہو تسی
ابھی کچھ ہی دیر قبل ٹی وی پر خبر چل رہی تھی کہ بلوچستان میں ایک دہشت گرد، جو دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا، ”اپنے ہی ساتھیوں کیے ہاتھوں ہلاک کر دیا گیا، اب ممکنہ طور پر اس ہلاکت کی خبر اور اس کے پس منظر کا تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں۔
ممکنہ طور پر یہ کل ڈپٹی کمشنر پنجگور پر جان لیوا حملے جس میں ان کی شہادت ہو گئی، کا فوری جواب ہے، لیکن یہاں کچھ غلطیاں کی جا رہی ہیں کہ اگر اس دہشت گرد ”شمبک“ نامی کو بمطابق سرکاری موقف، اس کے ساتھیوں نے ہلاک کیا ہے تو انہوں نے ایسا کیوں کیا ہو گا؟ کیا وہ سرکاری فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالنا چاہتا تھا، اس لیے اسے اس کی دہشت گرد تنظیم نے مار دیا؟ اگر ایسا ہے تو اس خبر کی اس زاوئیے سے تشہیر تو بہت خطرناک اور تشویشناک ہے کیوں کہ اس طرح تو جو دہشت گرد ہتھیار ڈال کر عام زندگی میں واپس آنے کا سوچ بھی رہے ہوں گے، وہ اس خبر سے خوفزدہ ہو جائیں گے کہ اگر انہوں نے دہشت گردی کے اس جال سے نکلنے کی کوشش کی تو ان کی تنظیم ہی ان کو مار ڈالے گی، اور کوئی نہیں بچائے گا بلکہ صرف بعد میں ایسی ہی ایک اور خبر نشر کر دی جائے گی، کہ ایک دہشت گرد اپنے ساتھیوں کی طرف سے ہلاک کر دیا گیا۔
اگر کچھ موقف اپنانا ہی تھا، تو یہ بھی کہا جا سکتا تھا، کہ یہ دہشت گرد اس گروہ میں شامل تھا، جس نے ڈی سی پنجگور پر حملہ کر کے ان کو ہلاک کیا، لہذا ان دہشت گردوں کے تعاقب کے دوران اس دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا۔ ایسا کہنا اور دعوی کرنا زیادہ بہتر اور معیاری موقف ہوتا بجائے اس کے جو نشر کیا گیا۔ دوسرے ڈی سی پنجگور پر حملہ جس میں وہ شہید ہو گئے، پنجگور جانے والی شاہراہ پر کیا گیا، جو ایک ضلعی شاہراہ ہے، اس کے اطراف میں کھلے نیم میدانی یعنی دشت نما علاقہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔
اس حملے میں ملوث دہشت گرد اس کھلے علاقے میں رسپونس فورس کے پہنچنے سے پہلے ہی کدھر تحلیل ہو گئے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس افسوسناک حملے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر فورس دونوں اطراف ذرا دور کے علاقے میں میں ہیلی کوپٹرز سے اتار دی جاتی، کیونکہ اس کھلے علاقے میں دہشت گرد ممکن طور پر یا کوئی جیپ یا گاڑی یا امکانی طور پر موٹر سائیکلز پر موقع واردات سے فوری طور پر دور جانے اور اپنی طے شدہ پناہ گاہوں کی طرف جانے کی کوشش کریں گے، لہذا ردعمل کے وقت کو کم سے کم کر کے ان دہشت گردوں کو گھیر لینا عین ممکن تھا۔
لیکن یہ تلاش اگر روایتی طور پر موقع واردات سے شروع کر کے باہر کی طرف کو ہی کی جائے، تو اس کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت دہشت گردوں کی طرف سے پاکستان کی سالمیت کے اور بلوچستان کے امن و ترقی کے خلاف مختلف زاویوں سے ایک منظم ہمہ جہت جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید، موثر اور غیر روایتی اقدامات کی بھی ضرورت ہے، جس کے تحت ہیلی بورن کوئک رسپونس فورس، لینڈ سرچ اور سرویلنس کے جدید طریقوں اور موثر انٹیلی جنس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ کارروائی کے لیے اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے دہشت گردوں کے حملوں کا انتظار کرنے اور پھر ان پر محدود رد عمل دینے کے بجائے اس عمل میں سرپرائز، پہل کاری اور وقت کے انتخاب کے اہم عنصر اور ایڈوانٹیج کو استعمال کرتے ہوئے، جدید ذرائع، بہتر معلومات، بہتر آلات اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ اس عفریت کا مستقل طور پر سر کچل دیا جائے۔ یہ امر واضح ہے کہ اندرونی طور پر کوئی بھی دہشت گردوں کا گروہ اس قدر مضبوط نہیں ہو سکتا کہ وسیع اور لامحدود لاجسٹکس کی حامل اور مسلح ریاستی فورسز کے ساتھ آمنے سامنے طویل مقابلہ کر سکیں، کیوں کہ ان کی سپلائی بہر صورت ریاستی فورسز کے مقابلے میں محدود ہوتی ہے لہذا ان کے بچاؤ کا واحد طریقہ پوشیدگی، وقت کا انتخاب اور سرپرائز ہی ہوتا ہے، لہذا ان کے خلاف حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے ان زاویوں پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے اس مہم میں نگرانی اور دیگر کاموں اور پہاڑوں کی نگرانی اور سرولینس کے لیے انٹیلی جنس اطلاعات کے ساتھ ساتھ، ڈرونز کا زیادہ موثر اور بہتر استعمال کیا جائے تو پھر بلا کسی لحاظ و تخصیص، سرچ اینڈ ڈسٹرائے کی پالیسی کے ذریعے پاکستان کی سرزمین کو عموما، اور بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے دہشت گردی کا شکار علاقوں کو خصوصا، اس دہشت گردی کے عفریت سے مکمل طور پر اور مستقل طور پر صاف کر دیا جانا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ جو نوجوان یہ دہشت گردی کا راستہ ترک کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے راستہ بھی کھلا رکھا جانا چاہیے بلکہ ان نوجوانوں کی عام زندگی کی طرف اس واپسی کے لیے حوصلہ افزائی اور ترغیب کے بھی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
اس کام میں جتنی بھی دیر کی جائے گی اس تاخیر کا مکمل فائدہ دہشت گرد اٹھائیں گے، اور ان کے کھلے عام کام کرتے سیاسی ونگ، مختلف اختلافات اور تعصبات کو بھڑکا کر، جھوٹا اور مبھم پراپگنڈہ کر کے عوام کو یا تو بہکانے کا کام کر رہے ہیں یا ان کو خوفزدہ کر کے خاموش رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خصوصاً ٹک ٹاک ”کو موثر طریقے سے اپنے پراپگنڈے اور عوام کو خوفزدہ کرنے اور اپنی طاقت کے مبینہ اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ان کے بڑے بڑے مسلح گروہ کھلے عام مختلف علاقوں میں گھومتے پھرتے دکھائے جاتے ہیں، بلوچستان کے پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں غاروں میں کسی پکنک کے ماحول کی طرح گیس سلنڈرز کھانے پکانے کے برتن، واٹر کولرز، رکھے قالین بچھائے، ان غاروں سے باہر دستر خوان بچھائے کہیں سے آنے والی پکی ہوئی روٹیاں، لسی اور شہد کے ساتھ کھاتے دکھائی دیتے ہیں یہ نوجوان، فخریہ طور پر اپنی سابقہ دہشت گردی کی وارداتوں کا ذکر اور آئندہ کے ارادوں کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں، فضائی نگرانی کے اس جدید دور میں ایسے پکنک مناتے دہشت گردوں کا پتہ لگا کر ان کا قلع قمع کرنا کون سا مشکل کام ہے؟
یا پھر ان کا انتظار ہی کرنا ہے، کہ یہ کب جدید امریکی اسلحہ، جدید نائٹ ویثن سنائپرز سے مسلح ہو کر بے گناہ نہتے عوام اور فورسز کے کیمپوں پر جان لیوا حملے کریں، اور انسانی خون کی ہولی کھیلیں، اور پھر ان حملوں کی کارروائیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے نشر بھی کریں۔ گزشتہ دنوں سننے میں آیا کہ حکومت چالیس ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک“ فائر وال ”کی تنصیب کر چکی ہے جس سے ایسے پراپگنڈہ اور دہشت گردی کی حمایت اور تشہیر کرنے والے مواد کو موثر طور پر روکا جا سکے گا، لیکن دیکھا یہ گیا کہ اس فائر وال کی تنصیب کے بعد سے بھی دہشت گردوں کا سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پرمزموم اور نفرت آمیز پراپگنڈہ اسی طرح جاری ہے لیکن اس“ فائر وال ”کا کچھ اثر ہوا تو ان سوشل میڈیا فورمز کواچھے اور مثبت مقصد سے استعمال کرنے والی عوام کی اکثریت پر ہوا ہے، جن کو انٹرنیٹ کی انتہائی کم سپیڈ یا گاہے بگاہے مکمل بندش کی وجہ سپیڈ، اپ لوڈنگ، ڈاؤن لوڈنگ، براوزنگ اور دیگر ایپلی کیشنز کے استعمال میں شدید مشکلات درپیش آ رہی ہیں، جن بہت سے لوگوں اور طالب علموں کا اب کاروبار اور تعلیم ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہے، ان کو اپنے کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ دہشت گردوں کا پراپگنڈہ مٹیریل اب مزید ایکٹیو ہو کر فیس بک جیسے فورم میں بھی صارفین کے پیجز پر نفوز کرتا دکھائی دے رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ چالیس ارب کی خطیر رقم میں یہ سافٹ وئیر آپ کو فروخت کیا گیا، اور دوسرے ہاتھ سے اس کی“ کی ”دہشت گردوں کو دے دی گئی ہو، شواہد سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔
گویا عملی طور پر“ سنگ مقید ہیں سگ آزاد ”والی کیفیت ہے۔ ایک اور انتہائی اہم معاملہ قابل غور ہے، کہ خصوصاً بلوچستان میں مخصوص عناصر کی طرف سے خواتین کے ذریعے حساس مقامات پر عوامی اجتماعات کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں منظم طریقے سے انتہائی نفرت انگیز اور متعصب اور علہدگی پسندی پر مشتمل پراپگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے، ہم آئے دن یہ مناظر بھی دیکھتے ہیں کہ یہ احتجاجی خواتین، منتظر فوٹو گرافرز اور وڈیو گرافرز کے لائیو کیمروں کے سامنے کس طرح دوڑ دوڑ کر قانون نافذ کرنے والی فورسز کے جوانوں پر حملہ کرنے، ان کی توہین کرنے اور ان کو اشتعال دلانے کی پوری کوششیں کرتی ہیں، مقصد ان کا یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی طرح ان جوانوں کو اشتعال دلا کر کچھ جوابی کارروائی یا تشدد پر مجبور کر دیا جائے اور پھر اس ردعمل کو ریکارڈ کر کے دنیا میں اور بلوچستان میں ریاست، حکومت اور اداروں کے خلاف نفرت آمیز پراپگنڈہ کے لیے استعمال کیا جا سکے، لیکن ان ہی کی بنائی ایسی وڈیوز میں صاف دکھائی دیتا ہے، کہ اس انتہائی توہین آمیز، اشتعال انگیزی کے باوجود ہماری فورسز کے جوان کس طرح انتہائی برداشت سے کام لیتے ہیں، اور ان خواتین کی اس اشتعال انگیزی کا کوئی جواب نہیں دیتے۔
ملک اور ریاست کے خلاف بیرونی اشاروں اور شہ پر برسرپیکار دہشت گردوں نے بہت مہارت اور مکاری سے یہ منصوبہ تشکیل دیا ہے، کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں عمومی انتہائی احترام کے جذبے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان احتجاجی خواتین کو اپنے مقاصد کی تکمیل اور حصول کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے، اور ان کے ذریعے اور ان کے پیچھے چھپ کر اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کی جائے۔ ہمارے بہت سے دوست اپنی فطری“ سادگی یا معصومیت ”کی وجہ سے ان خواتین کے بڑے بڑے اجتماعات کی تصاویر کو متاثر کن لکھ کر شیئر تو فرماتے ہیں، لیکن جب ہم ان سے درخواست کرتے ہیں، کہ برادر ان کا موقف بھی عوام کے سامنے پیش کیجئیے کہ یہ احتجاجی آخر کہہ کیا رہے ہیں، وہ کون سے حقوق ہیں جو غصب کئیے گئے ہیں، تو ہمارے دوست یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں تو ان اجتماعات کی وڈیوز اور فوٹیج بغیر آواز و تقاریر کی ریکارڈنگ کے، اسی طرح ملتی ہیں، جن سے متاثر ہو کر ان کو اسی طرح آگے شیئر کر دیتے ہیں، جب ان کی خدمت میں ان اجتماعات میں استعمال ہونے والی زبان، مطالبات کے کچھ نمونے ارسال کئیے جاتے ہیں تو ان میں سے اکثر اور ان کے قارئین یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ یہ تو ہمیں نہیں معلوم تھا، کہ ان اجتماعات کا پیٹرن اور مقصد بھی کوئی معنی اور ترتیب رکھتا ہے، خود ہمیں بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کچھ دوستوں میں سے کچھ سے اس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا گوادر کی ترقی، بلوچستان کے انفراسٹرکچر کی تعمیر، شہری اور عوامی سہولیات میں اضافہ ہونے سے کیا بلوچستان کے عوام کے حقوق متاثر یا پامال ہوتے ہیں، کیونکہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی چہروں کی طرف سے کھل کر ان ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کی جاتے ہے، دوسری طرف عوامی اجتماعات میں عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تعمیر ترقی نہ کر کے آپ کو پسماندہ رکھا جا رہا ہے، جب ان دوستوں سے یہ پوچھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کس طرح اور کون بلوچستان کا استحصال کر رہا ہے اور اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے تو یہ حضرات اس استحصال کی براہ راست وضاحت کرنے کے بجائے سیدھا انیس سو سینتالیس ( 1947 ) میں پہنچ جاتے ہیں۔
ان دوستوں سے یہ بھی عرض کیا کہ گوادر اور بلوچستان کی ترقی اور وہاں شہری سہولیات میں بہتری کا سب سے زیادہ فائدہ سب سے پہلے کیا وہاں کے عوام کو ہی نہیں پہنچے گا، تو جواب کچھ نہیں ہوتا اور کچھ دوست تو آنکھیں اور ذہن بند کر کے ہر دہشت گردی ہر قتل و غارت، ہر احتجاج کا ذمہ دار سرکاری اور فورسز کے اداروں کو ٹھہراتے ہوئے گفتگو ہی منقطع کر جاتے ہیں، اس مثال سے ہی اس پراپگنڈے کی خطرناکی اور پہنچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو منظم طریقے سے بلوچ عوام کے ازھان کو مسموم کرنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ بلوچستان کے وسائل، اور وہاں ترقیاتی منصوبہ بندی میں بلوچ عوام کے مفاد اور ان کی بھرپور شمولیت کو سب سے زیادہ ترجیع دی جانی چاہیے ان کا یہ یقین بحال کرنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے استفادے اور ترقی کے منصوبوں کے فوائد کا سب سے زیادہ اور پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہی ہے، اور مرکزی و صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو اس طرح یقینی اور ممکن بنائیں، کہ عوام اس شرکت، ترجیع اور اس کے فوائد کے اثرات کو بھرپور طریقے سے محسوس بھی کریں، تاکہ اس نام پر مخصوص مقاصد کے حامل کچھ عناصر کو ان کو گمراہ کرنے اور ان میں ملک و ریاست کے خلاف نفرت و تعصب پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔
ان احتجاجی اجتماعات میں کئیے جانے والے اس ملک دشمن موقف سے آگاہ ہونے کے بعد بہت سے قارئین کی رائے میں ان اجتماعات اور ان کے اصل مقاصد کے بارے میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں بھی پاکستان خصوصاً بلوچستان کے عوام کی غالب اکثریت محب الوطن اور اپنے وطن سے محبت کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف ملک دشمن اور بیرونی سرپرستی میں جاری منظم ریڈیائی تخریب کاری کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایسا تاثر پیدا کر دیا جاتا ہے گویا پاکستانیوں کی اکثریت خدانخواستہ اس ملک اور اس کے مستقبل سے مکمل طور پر مایوس ہو چکی ہو، میرے خیال میں دہشت گردی کی یہ قسم آتشیں ہتھیاروں اور اسلحہ سے کی جانے والی تخریب کاری اور دہشت گردی کی نسبت بہت زیادہ خطرناک ہے جس کا مقابلہ نہ صرف ارباب اختیار نے کرنا ہے، بلکہ یہ اپنے وطن سے محبت کرنے والے ہم سب پاکستانیوں کا بھی فرض ہے کہ ان ظاہری اور پس پردہ دہشت گردوں کے مکروہ چہروں اور عزائم کو سمجھیں اور اپنے اپنے میدان میں اپنی اپنی سطح پر ان کا موثر مقابلہ بھی کریں۔


