پرولتاریہ کی جدوجہد۔ ارشد ندیم


ghassan baloch

اولمپیائی کھیل، جو کہ دنیا کے بڑے اور مشہور کھیلوں کے مقابلے ہیں، ہمیشہ سے محنت کش طبقے اور غریب کھلاڑیوں کے لیے ایک پیچیدہ میدان رہے ہیں۔ یہ مقابلے سرمایہ دارانہ نظام کے عدم مساوات اور طبقاتی فرق کا ایک اہم اظہار ہیں، جہاں غریب اور محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کو ترقی اور کامیابی کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارل مارکسٓ نے معاشرتی عدم مساوات اور طبقاتی جدوجہد پر گہری تنقید کی۔ اگرچہ مارکس نے براہ راست اولمپیائی کھیلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا، لیکن ان کا نظریہ ہمیں سرمایہ دارانہ معاشرت کی تنقید کے لیے بصیرت فراہم کرتا ہے۔ مارکس کے مطابق، سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز، یہاں تک کہ کھیل اور ثقافت بھی، سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اولمپیائی کھیل، جو کہ بڑے پیمانے پر تجارتی کفالت (اسپانسر شپ ) اور قومی مقابلے پر منحصر ہیں، مارکس کے نظریے کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی توسیع کا ایک حصہ ہیں۔

ولادیمیر لینن کھیل اور جسمانی تندرستی کے حامی تھے، لیکن ان کے لیے یہ اہم تھا کہ کھیل محنت کش طبقے کی خدمت کریں اور ان میں اشتراکی اقدار کا فروغ کریں۔ لینن نے کہا تھا کہ سرمایہ دار کھیل کو انفرادیت اور مقابلہ بازی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ محنت کش طبقے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے جسمانی اور ذہنی قوت کو بڑھانے کے لیے کھیل کا استعمال کریں۔ جوزف اسٹالن کے دور میں، شوروی اتحاد نے کھیلوں کو اشتراکی برتری کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ اگرچہ ابتداء میں شوروی اتحاد نے اولمپیائی کھیلوں میں حصہ نہیں لیا، لیکن بعد میں انہوں نے اسے عالمی سطح پر اشتراکیت کی کامیابیوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔

سرمایہ دارانہ نظام میں کھیلوں کی تجارتی نوعیت اور پیسے کی اہمیت نے غریب کھلاڑیوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ بڑے مقابلوں جیسے کہ اولمپیائی کھیلوں میں شرکت کرنے کے لیے بے پناہ مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے غریب کھلاڑی اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں، کھلاڑیوں کی کامیابی اکثر ان کے مالی وسائل اور کفالت (اسپانسر شپ ) پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کو ان مواقعوں کی کمی کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کاروباری بنیاد پر بڑے مقابلوں کے انعقاد نے کھیلوں کے اصل مقصد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج کل، کھیلوں کے مقابلے صرف محنت، صلاحیت، اور جیت کی علامت نہیں ہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے ایک منڈی بن چکے ہیں۔ عالمی تجارتی کمپنیاں اور کفیل ان کھیلوں کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کھیلوں کی حقیقی روح متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان کے ایک کھلاڑی، جو کہ نیزہ باز کے طور پر جانے جاتے ہیں، ایک ایسی مثال ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی کس طرح سرمایہ دارانہ نظام کے باوجود کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ارشد ندیم کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے، اور انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی۔ ارشد ندیم نے 40 سال بعد نہ صرف پاکستان کے لئے اولمپیائی تمغہ جیتا، بلکہ 77 سال میں پہلی بار اولمپیائی کھیلوں کے ”انفرادی مقابلے“ میں پاکستان کے لئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ مزید برآں اولمپیائی کھیلوں کی 118 سالہ تاریخ میں پہلی بار 92.97 میٹر کے طویل فاصلے پر نیزہ پھینک کر تاریخ رقم کرتے ہوئے عالمی کار نامہ سر انجام دیا۔

ارشد ندیم کی کامیابی نہ صرف ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے عدم مساوات کے خلاف ایک بڑا بیان ہے۔ ارشد ندیم جیسے غریب کھلاڑیوں کے لیے وسائل کی کمی، معاشرتی مسائل، اور طبقاتی جدوجہد ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ لیکن انہوں نے ثابت کیا کہ محنت، عزم، اور لگن کے ذریعے یہ رکاوٹیں عبور کی جا سکتی ہیں۔ ارشد ندیم جیسے کھلاڑیوں کو نہ صرف مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں سرمایہ دارانہ سیاست اور وسائل کی تقسیم کی بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سیاست میں، وسائل اور مواقع کی تقسیم میں ہمیشہ سے طبقاتی فرق موجود ہوتا ہے۔ امیر اور سرمایہ دار طبقے کے کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کو ان مواقعوں سے محروم کر رکھا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں، کھیلوں کے مقابلے بھی اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب کھلاڑیوں کو ان کی محنت اور صلاحیت کے مطابق مواقع نہیں ملتے۔ یہ نظام ان کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔

محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں اور اپنی محنت اور لگن کے ذریعے کامیابی حاصل کریں۔ ارشد ندیم کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ محنت کش طبقے کے کھلاڑی، اگرچہ انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنی محنت، عزم، اور لگن کے ذریعے ان رکاوٹوں کو عبور کر سکتے ہیں۔ محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کو اپنی جدوجہد کو ایک تحریک کے طور پر دیکھنا چاہیے اور اپنی کامیابی کو نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے طبقے کے لیے بھی ایک مثال بنانا چاہیے۔ انہیں اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے اور اس بات کو ثابت کرنا چاہیے کہ محنت اور عزم کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، چاہے وسائل کی کمی اور طبقاتی فرق کی وجہ سے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو۔

ارشد ندیم کی کامیابی محنت کش طبقے کی جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ محنت کش طبقے کے کھلاڑی، سرمایہ دارانہ نظام کی رکاوٹوں کے باوجود، کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ مارکسی۔ لیننی نظریہ کے مطابق، اولمپک کھیلوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے عدم مساوات اور طبقاتی جدوجہد کے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ مارکسی نظریہ کے بانی، 1883 میں انتقال کر گئے، جس کے بعد 1896 میں جدید اولمپیائی کھیلوں کا احیا ءہوا، اگرچہ کارل مارکس، ولادیمیر لینن، اور جوزف اسٹالن نے براہ راست اولمپیائی کھیلوں کے بارے میں بات نہیں کی لیکن ان کے خیالات اور اقدامات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ وہ ان عالمی مقابلوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS