ہماری ترجیح پاں ہے چھاں نہیں


پچھلے دنوں ایک دوست سے ملنے گھر سے نکلا تو اس نے فون کر کے کہا کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوتو اپنے ساتھ ایک عدد باجا پاں لیتے آئیے، میرے لئے اس کی فرمائش اتنی عجیب نہیں تھی جتنی حیران کردینے والی۔ کیونکہ موصوف کی شادی تو ہو چکی ہے مگر فی الحال بچے کوئی نہیں، تو پھر باجا پاں کس لئے۔ ؟ خیر راستے میں جھنڈیاں فروخت کرنے والے سے بھاگتے بھاگتے ایک عدد باجا پاں خریدا، کہ کہیں کسی نے دیکھ لیا تو سوشل میڈیا کے جمعہ بازار میں ہماری خیر نہیں، اور موصوف کے گھر پہنچا، وہاں پہنچ کر سلام دعا کے بعد اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا اس نے خود ہی بتا دیا کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب بچے نہیں ہیں تو یہ باجا پاں کس لئے، تو ہم نے ہاں میں سر ہلایا جی بتا دیجئے کس لئے۔

؟ تو موصوف نے جواب دیا کہ آپ کسی سے ذکر نہ کیجئے گا دراصل آپ کی بھابی اپنی سہیلیوں کے ساتھ یوم آزادی منانے جا رہی ہے یہ ان کی فرمائش ہے۔ یہ سن کر ہماری تو حیرت کی انتہا نہ رہی اور ساتھ دماغ میں ایک ہی جملہ گونج رہا تھا کہ باجا باجی۔ باجا باجی۔ یعنی بھابی یوم آزادی پر پاں پاں کرتی نظر آئیں گی۔ خدا کی پناہ۔ ہماری حیرت دیکھ کر دوست نے کہا اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات ہے۔ ؟ تو میں نے کہا بھائی جب حیران ہونے والی بات نہیں تو آپ نے سوشل میڈیا پر یہ کیوں دیا کہ اس یوم آزادی پر پاں نہیں چھاں کیجئے۔

یا پاں مہنگا ہے اور چھاں سستی۔ تو اس نے قہقہہ لگا کر جواب دیا کہ آپ بھی بڑے سادے ہو۔ وہ تو سوشل میڈیا بھرنے کے لئے تھا حقیقت سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں، تب ساری بات ہماری سمجھ میں آ گئی کہ ہماری ترجیح پاں ہے چھاں نہیں۔ یہ تو بس سوشل میڈیا پر لوگوں کو دکھانے کے لئے کہ ہم کتنے تہذیب یافتہ ہیں حالانکہ ہمیں تہذیب کا ت بھی نہیں پتا۔ خیر وہاں سے رخصت ہوئے گھر آئے اور قلم اٹھایا کہ آج تو اس پاں کی ایسی کی تیسی کر کے چھوڑنی ہے۔

ابھی مضمون کا عنوان ہی لکھا تھا کہ باہر گلی میں ایک زوردار پاں کی آواز کانوں میں پڑی۔ اس سے پہلے کہ باہر جاکر اس پاں کرنے والے بچے کو سمجھا پاتا ہمارے تو جیسے پیروں سے زمین ہی نکل گئی کیونکہ گلی میں پاں کرنے والا کوئی بچہ نہیں بلکہ ایک ہٹا کٹا اڑیل نوجوان تھا، جس نے شاید قسم کھا رکھی کہ آج پاں کر کے زندوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی یوم آزادی کا احساس دلایا جائے۔ ہم نے آگے بڑھ کر اس نوجوان کو پاں، پاں کرنے سے روکا اور پھر پوچھا، او بھائی یہ پاں کرنا ضروری ہے کیا؟

تب اُس کا جواب سن کر دل اِس پاں ایجاد کرنے والے کو اکیس توپوں کی سلامی پیش کرنے کو چاہ رہا تھا، اس نوجوان کا جواب تھا کہ بھائی جان یہ ایک سستی تفریح ہے، اب بندہ سستی تفریح سے تو خود کو محروم نہیں رکھ سکتا۔ اس نے یہ کہتے ہوئے ایک زور کی پاں کی اور وہاں سے چلتا بنا۔ میں مارے حیرت کے اس کی پاں سن رہا تھا اور ساتھ خود کو دلاسا دینے کی کوشش بھی کہ ایک دن ضرور یہ ہوش کے ناخن لے گا، مگر کب، جب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

اور دیر تو ہو چکی۔ کیونکہ امسال پڑنے والی گرمی نے ہماری پاں، پاں قریباً نکال دی ہے، اور آئندہ سالوں میں بھی ہم مارے گرمی کے آئے ہائے اوئے ہوئے کرتے نظر آئیں گے۔ لیکن ہمیں کیا ہم نے سولر شیٹس لے لینی ہیں، ائر کنڈیشن لے لینے ہیں، گاڑی خرید لینی ہے، بس نہیں لینے یا خریدنے تو پودے۔ کیونکہ پودے خریدنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔ حالانکہ ہمارے دین نے ہمیں درخت لگانے کی اہمیت سکھائی ہے، اس کے علاوہ قومی نصاب میں جگہ جگہ درختوں کی اہمیت بارے مضامین ہم بچپن سے پڑھتے چلے آئے ہیں۔

آئے روز حکومتیں، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشنز اور سماجی و فلاحی ادارے شجرکاری مہمات چلاتی نظر آتی ہیں بس کمی ہے تو عوامی شمولیت کی۔ لیکن عوام تو سستی تفریح کے دلدادہ بن چکے ہیں، بچے تو بچے اب تو بڑے بزرگ بھی ٹک ٹاک پر ایسی ایسی حرکتیں کرتے نظر آئیں گے کہ خدا کی پناہ۔ انہیں ہر چیز میں انٹرٹینمنٹ چاہیے۔ اور وہ پودے لگانے سے تو ملنے سے رہی۔ اس لئے پاں نہیں چھاں صرف ایک فیس بکی پوسٹ تک ہی محدود رہے گی اس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا۔ لیکن دوسری طرف اگر ہم پاں کی جگہ چھاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم آئندہ چند سالوں میں آئے ہائے اوئے ہوئے سے بچ جائیں گے۔ شکریہ۔

Facebook Comments HS