کتاب ”رومی کون“ پر تبصرہ
عبداللہ جاوید کے اس کام کو اپنی نوعیت کا منفرد اور جامع کام کہا جائے تو بہتر ہو گا اور عبداللہ جاوید صاحب کی فکری اور ادبی جستجو کو پیش نظر رکھا جائے تو یوں کہیں گے کہ اردو ادب میں ایک نئی جہت کا آغاز ہوا۔ ”
دو سو صفحات پر مشتمل کتاب ’رومی کون؟‘ اردو ادب کے ممتاز شاعر، نثر نگار، نقاد اور کالم نگار عبد اللہ جاوید کی تصنیف ہے جو اب ہم میں موجود نہیں ہیں۔ رومی کون؟ کے مصنف نے یعنی عبداللہ جاوید صاحب نے بے حد عرق ریزی اور تحقیق کے کٹھن مراحل سے گزر کر اسے مکمل کیا ہے۔
کتاب میں مولانا رومی کی شناختی اشارے، شجرہ اور مقام پیدائش کی بھی تحقیقات موجود ہیں۔ ’رومی کون‘ ایسا سوال ہے جو رومی کی تلاش جماعت کو مستقل طور پر متجسس متحرک اور فعال کرتا ہے رومی کے ترک سوانح نگار سیلان اوکیوکو نے بھی اس موضوع پر لکھتے ہوئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھا ہے۔
رومی جب قونیہ آئے اور آباد ہوئے اس علاقے میں علاء الدین کیقباد کی حکومت تھی الغرض اس میں قونیہ کا عروج اور زوال کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس کے رومی پر اثرات بھی اور ساتھ ہی رومی کی ایک مختصر خود نوشت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، بلکہ اس کتاب میں مغرب میں رومی کی پذیرائی اور اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب میں عبداللہ جاوید نے مولانا رومی اور شمس تبریزی کے مابین رشتہ اسرار بیان کیا ہے، در حقیقت مولانا رومی کا دیوان جو دیوان شمس تبریز کے نام سے منسوب ہے جس کو فارسی شاعری میں مرتبہ دوام حاصل ہو چکا ہے اس کا تذکرہ بھی موجود ہے اور رومی اور صلاح الدین زرکوب کا باہمی ربط کا بھی حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا ہے یوں عبداللہ جاوید نے رومی کی نظم who am I کا فارسی سے انگریزی اور اردو میں ترجمہ بھی شامل کیا ہے اس کے چند اشعار آپ کے لئے۔
میں کیا کروں
میں نہیں جانتا
میں نہ عیسائی نہ یہودی
نہ ہی ہندو میں نہ مسلمان
نہ مشرق کا ہوں نہ مغرب کا
نہ زمین کا نہ سمندر کا
نہ روح فطرت سے میرا رشتہ ہے
نہ آسمانوں کی گردشوں سے
میں ہوں تو کیا ہوں۔ ؟
ان کی شاعری کی ایک صفت فرقہ واریت کے خاتمہ پر بارکس کا نظریہ بھی موجود ہے یعنی بھرپور تحقیق کا کام عبداللہ جاوید صاحب کا موجود ہے، جو کہ نہ صرف محنت طلب تھا بلکہ بھرپور تحقیق کا کام تھا مگر افسوس کہ رومی کون اپنی اس کتاب کو اپنی زندگی میں تیار شدہ حالت میں نہ دیکھ سکے البتہ ان کی شریک حیات شہناز خانم عابدی نے مکمل تیار کروایا۔
عبداللہ جاوید نے بہت اہم موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے، ’مت سہل ہمیں جانو (آئیے، میر پڑھتے ہیں)‘، ’آگ کا دریا: ایک مطالعہ‘، ’تنہائی کے سو سال: ایک مطالعہ‘ اور ”دی جوک: ایک مطالعہ‘ ان کی زندگی میں ہی شائع ہو چکی تھی۔

