امریکہ کی سیاسی تقسیم: جمہوریت اور عالمی قیادت کے لیے خطرات


امریکہ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین اور ان کے اندر تقسیم کی گہری ہوتی ہوئی خلیج ایک انتہائی منقسم صدارتی انتخابات کا پیش خیمہ ہے۔

سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ ایم گیٹس کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ کو شاید اپنی تاریخ کے سب سے سنگین سیکیورٹی خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کے اتحاد کی طرف اشارہ کیا ہے ”جن کا اجتماعی جوہری ذخیرہ چند سالوں میں اپنے موجودہ حجم سے تقریباً دوگنا ہو سکتا ہے۔“ بدقسمتی سے، وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے ایک مربوط جواب کے بجائے، ہمیں ایک ایسا جواب مل رہا ہے جو اس کی اہم سیاسی جماعتوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، کے درمیان گہری تقسیم سے متاثر ہے۔

لیکن اس ہفتے جو ہوا۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی کو ان کے اپنے پارٹی ممبران کی طرف سے ہٹانا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی خود اندرونی طور پر گہری منقسم اور مشکل سے قابو پانے والی بن چکی ہے۔ اس تقسیم کی گہرائی اس وقت سامنے آئی جب ایوان نمائندگان میں ریپبلکن اکثریت نے حکومت کو عارضی طور پر فنڈ کرنے کے لیے اپنے ہی بل کو پاس کرنے سے انکار کر دیا۔

امریکہ کے مشہور ادارے جیسے امریکی کانگریس یا سپریم کورٹ کی ناکامی کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے گہرے اسباب جمہوری اصولوں کی بربادی اور جیری مینڈرنگ ہیں، جو انتخابات میں حقیقی مقابلوں کی کمی کو یقینی بناتی ہے۔ ویسے بھی، امریکی کانگریس، جو خود قدیم قواعد کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہے، ایسی طریقہ کار رکھتی ہے جو تبدیلی کو مشکل بناتی ہے۔ دنیا کے نقطہ نظر سے، سوال یہ ہے : آنے والے سالوں میں ہم کس قسم کی امریکی قیادت کی توقع کر سکتے ہیں؟

ہم پہلے ہی ٹرمپ کے ”امریکہ فرسٹ“ رویے کا ذائقہ چکھ چکے ہیں، جو اتحادیوں اور شراکت داروں کو حقیر سمجھتا تھا اور پوٹن اور کم جونگ ان کو پسندیدگی سے دیکھتا تھا۔ جو بائیڈن نے اپنی شمولیت اور اتحاد کی پالیسی سے ایک مخصوص استحکام لایا اور امریکی پالیسی کی قیادت کو شعوری طور پر بحال کیا۔ 2024 کا انتخاب 2020 کی دوبارہ دوڑ کی طرح نظر آ سکتا ہے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔

اِن ہی سنگین حالات کے باعث ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان سیاسی کشمکش میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر فریق اپنے اپنے نظریے کے لیے انتہا تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف غلط پروپیگنڈے کے پھیلاؤ نے اداروں اور میڈیا کے اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ اداروں کے اعتماد میں الیکشن کے نظام پر اور بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ کچھ ریسرچ رپورٹس ملاحظہ فرمائیے، جو کہ اوپر دی گئی معلومات کو ثابت کرتی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے سروے سے پتہ چلا کہ 77 فیصد ریپبلکنز اور 70 فیصد ڈیموکریٹس ایک دوسرے کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اب 70 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ غلط معلومات الیکشن کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک تشویشناک رپورٹ برینن سینٹر فار جسٹس نے جاری کی کہ 19 ریاستوں نے 2020 سے ووٹنگ کے لیے نئی پابندیاں جاری کی ہیں جو کہ 2024 کے الیکشن پر اثرانداز ہوں گی۔ ان تمام تر حالات کے اندر امریکہ کے لیے بہت زیادہ تشویش ہے۔ مستقبل میں اس کے بہت سے نتائج برآمد ہوں گے، جیسے کہ سیاسی تشدد میں اضافہ جو کہ عوامی تحفظ اور جمہوریت دونوں کے لیے خطرہ ہو گا، دوسرا شہری آزادیوں کا مسئلہ بھی درپیش آئے گا جو کہ پھر سے جمہوریت کی بنیادوں کے لیے مسئلہ ہو گا۔

نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک نازک ترین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار جمہوری خطرات سے دوچار ہے، مگر ان سارے خطرات کا حل یہی ہے کہ ان کے حل تلاش کر کے فروغ دیا جائے تاکہ امریکہ جو کہ اس وقت دنیا کے تمام تر حالات کو کنٹرول کرتا ہے، سنبھل سکے، تاکہ دنیا کے لیے خاص کر ترقی پذیر ممالک کے لیے کچھ سازگار حالات پیدا ہو سکیں۔ ان حالات میں کچھ اہم اقدام ہیں جو کہ امریکہ کو فوری اٹھا کر حالات بہتر کرنے چاہیے اور مستقبل کے خطرات کو ختم کرنا چاہیے۔ حقائق پر مبنی گفتگو کو فروغ دے کر، ووٹنگ کے حقوق کا تحفظ اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دے کر امریکی زیادہ متحد اور خوشحال مستقبل کے لیے کام کر سکتے ہیں اور پوری دنیا کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS