فخر پاکستان ارشد ندیم کی طارق جمیل کے در پر حاضری


ارشد نے جب تھرو پھینکی تو یا علی مدد کا نعرہ لگایا۔ ہر تھرو پھینکنے سے پہلے وہ منہ میں کچھ پڑھ رہا تھا ممکن ہے کوئی ورد وغیرہ کر رہا ہو۔ وہ بہت غریب ہوا کرتا تھا اور اس کے پاس جیولن خریدنے کے پیسے تک نہیں تھے۔ وہ بغیر وسائل کے معجزانہ طور پر جیتا ہے۔ اور نجانے کیسی کیسی کہانیاں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، مطلب ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے ارشد ندیم میں سے کچھ نا کچھ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ باتیں من کی تشفی کے لیے تو ضرور ہو سکتی ہیں لیکن عملی زندگی میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

ممکن ہے کچھ دنوں کے بعد یہ ورژن بھی سننے کو ملے کہ بظاہر تو جیولن ارشد ندیم کے ہاتھ میں تھا لیکن تھرو کو دور تک لے جانے والے سبز عمامہ میں ملبوس ایک بزرگ تھے۔ روحانی اور پہنچے ہوئے بابوں میں تو ہمارا ملک پہلے ہی خاصا خود کفیل ہے جو ہر مشکل گھڑی میں مدد کو حاضر ہو جاتے ہیں، حیرت ہے موجودہ پس منظر میں آئی ایم ایف نے نجانے کتنی لکیریں ہم سے نکلوائیں لیکن کوئی کراماتی بزرگ مدد کو نہیں پہنچا؟ جو بزرگ 1965 میں خطرناک بم اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر دشمنوں کی طرف اچھال رہے تھے وہ اس وقت مدد کو کیوں نہیں پہنچے جب آئی ایم ایف والے ہمیں ظالمانہ معاہدوں میں باندھ رہے تھے؟

بچگانہ کہانیوں پر بہلنے والوں کو کیا پتا کہ محنت و ریاضت اور پروفیشنل اپروچ سے بڑا کوئی وظیفہ نہیں ہوتا، جو محنت و مشقت اور لگن سے اپنے مقصد پر فوکس کیے رکھتا ہے ایک دن واقعی کامیاب ہو جاتا ہے، کامیابی کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا اور نا ہی کوئی معجزہ ہوتا ہے۔

ارشد ندیم آج جو ہے وہ صرف اپنی مخلصانہ محنت کی وجہ سے ہے، اگر وہ غریبی یا محدود وسائل کو بہانہ بنا لیتا تو کبھی بھی بلندی تک نہ پہنچتا۔ اس لیے اس کے ٹیلنٹ کو دل سے تسلیم کریں اور اس کی غربت کی کہانیاں سنا کر اس کو شرمندگی کا احساس مت دلائیں اور اس کے قد آور کاوشوں کو چھوٹا کرنے کی کوشش نہ کریں۔

دعا و مناجات یا بڑے بزرگوں کی دعائیں یہ سب وشواس یا من کی تسلی کے لیے ہوتی ہیں ہمیں اصل جوہر کو سراہنا چاہیے۔ جی ہاں بالکل وہی جوہر جس کے متعلق قائد وطن نے بھی فرمایا تھا۔ "کام، کام اور کام“

یہی تو وہ وظیفہ ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی مہان بن سکتا ہے، یہ ایک ایسا جوہر ہے جس پر عمل کرنے والے کا تعلق بھلے کسی بھی مذہب و فرقے سے ہو بلا رکاوٹ کامیابی کے ماؤنٹ ایورسٹ کو چھو سکتا ہے۔

تدبیر کے بغیر دعائیں بھی بے اثر ہوتی ہیں چونکہ کامیابی کی اصل کسوٹی محنت و ریاضت ہے باقی سب من کے بہلاوے ہیں۔ ورنہ تو برائی اور غربت کے خاتمے کے لیے مقدس جگہوں پر نجانے کب سے دعائیں ہو رہی ہیں اور دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے دعائیں پڑھنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اس کے باوجود رتی بھر بھی فرق نہیں پڑا بلکہ دشمن تو ہم سے زیادہ کامیاب ہو گئے اور نجانے کب کے غربت و بیماری کو دیس نکالا دے چکے۔

شنید ہے کہ ارشد ندیم سب سے پہلے تبلیغی مرکز رائیونڈ پہنچے اور وہاں کے بڑے بزرگ سے تھپکی لے کر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ مولانا طارق جمیل نے بھی انہیں کھانے پر مدعو کیا اور تصویریں وغیرہ بنوائیں اور کچھ انعام و اکرام سے بھی نوازا۔

مذہب و عقیدہ ہر انسان کا انتہائی نجی معاملہ ہوتا ہے، ایک طرح سے بندے اور خدا کے بیچ کی بات یا تعلق ہوتا ہے۔ جس میں مداخلت کرنا یا بندہ و خدا کے بیچ میں آ نا یا اس بنیاد پر کسی کو بھی برا بھلا کہنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہوتا بلکہ بداخلاقی کے زمرے میں آ تا ہے۔

ارشد ندیم سے بس گزارش اتنی سی ہے کہ وہ اپنی پروفیشنل لائف اور مذہبی لائف کا آ پس میں تصادم مت ہونے دیں اور دونوں فیلڈ کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ مت کریں۔ مبلغ اور کھلاڑی میں فرق ہوتا ہے دونوں کے بیچ انصاف برتنے کو ”پیشہ ورانہ دیانت“ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا بہت فقدان پایا جاتا ہے اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ جب ملاوٹ ہوتی ہے تو اوریجنیلٹی یا پروفیشنل ازم ختم ہو جاتا ہے۔

کرکٹ ٹیم کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، ہمارے کھلاڑی ایک اچھے مبلغ اور دیانت دار قسم کے مذہبی تو ضرور بن گئے لیکن اپنی فیلڈ کرکٹ جس کی وہ کرکٹ بورڈ سے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں میں بری طرح سے ناکام ہو گئے۔

جس در پہ روحانی تسکین کے لیے آپ پہنچے ہیں ان کے نزدیک دنیا مثل مردار اور محض کھیل تماشا ہے جس کی آخرت میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ آخرت کو ترجیح اور دنیا کو پیچھے پھینکتے ہیں اور اس کے طالب کو گمراہ جانتے ہیں۔ حالانکہ خود تو دنیا میں بھی شاہی زندگی جی رہے ہیں اور آخرت میں تو خیر انہی کی اجارہ داری ہوگی۔

Facebook Comments HS