گاندھی کا لاہور اور جناح کا بمبئی – مکمل کالم


مجھے اُن لوگوں سے بحث کرنے کا بہت لطف آتا ہے جن سے اختلاف کیا جا سکے، مسمّٰی و محبّیٰ حبیب اکرم اُن میں سے ایک ہیں، آپ ایسے نستعلیق انداز میں دلیل دیتے ہیں کہ خواہ مخواہ جناب کا موقف تسلیم کرنے کو دل کرتا ہے۔ ویسے حبیب اکرم اور میرے نظریات میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ڈانلڈ ٹرمپ اور علامہ طاہر اشرفی کے خیالات میں ہے، گویا زیادہ اختلاف نہیں ہے، بس کچھ معاملات پر رائے مختلف ہے۔

ایک مرتبہ ہم دونوں کسی مذاکرے میں شریک تھے جس کی میزبانی نوجوان صحافی اجمل جامی فرما رہے تھے، وہاں ہماری کافی گرما گرم گفتگو ہوئی، مذاکرہ ختم ہوا تو ہم نزدیک ہی ایک کیفے میں چائے پینے چلے گئے، مذاکرے میں موجود کچھ حاضرین بھی وہاں پہنچ گئے اور ہمیں یوں اکٹھے بیٹھا دیکھ کر خاصے حیران و پریشان ہوئے کہ یہ دونوں حضرات جو کچھ دیر پہلے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز دلائل دے رہے تھے اب کیسے شیر و شکر ہوئے بیٹھے ہیں۔ ہم ہنس دیے، ہم چپ رہے۔

آج یہ تمہید باندھنے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ چند روز پہلے احباب کی ایک محفل میں حبیب اکرم سے قیام پاکستان کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی، میں نے (خواہ مخواہ ) بحث کی غرض سے اُن کے سامنے سوال رکھا کہ قائد اعظم نے جو تقریر 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی میں کی وہ تقریر 23 مارچ 1940 کو کیوں نہیں ہو سکتی تھی اور اگر ہم ایک علیحدہ قوم تھے اور ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو پھر پاکستان بننے کے بعد ہندوؤں کے ساتھ کیوں کر رہ سکتے تھے؟

حبیب اکرم نے کافی تفصیل سے جواب دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ قائد اعظم شروع سے علیحدگی کے قائل نہیں تھے بلکہ انہیں تو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا جاتا تھا، تاہم کانگریس نے مسلسل اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمان اقلیت کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کرے گی جس کا ثبوت 1937 کی کانگریسی وزارتیں ہیں، اِس کے باوجود قائد اعظم نے کیبنٹ مشن پلان منظور کر لیا جبکہ کانگریس نے اسے رد کر دیا جس کے بعد تقسیم ہند کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، یہ تقسیم کسی مسلح جد و جہد کے نتیجے میں نہیں ہوئی بلکہ مہذب طریقے اور جمہوری عمل کے تحت ہوئی، ہم یہ بھی نہ کرتے تو کیا کرتے!

حبیب اکرم کے آخری جملے پر میں کئی دن غور کرتا رہا۔ یہ درست ہے کہ تقسیم کا عمل اُس حوالے سے جمہوری تھا کہ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی جس کا مطلب تھا کہ مسلمانوں نے تقسیم کے بیانیے پر مہر لگا دی ہے، لیکن ہر سال 14 اگست کو یہ سوال میرے سامنے پھن اٹھا کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ کیا تقسیم کا یہ بیانیہ درست تھا اور میں سوچتا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اِن سوالات سے قوم کو کنفیوز کرنے کی ضرورت نہیں، ملک ایک نظریے کی بنیاد پر آزاد ہوا تھا، اب یہ ایک خود مختار مملکت ہے، لہذا سن 47 کے گڑے مردے اکھاڑنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ اِس ملک کو واپس پٹری پر کیسے چڑھایا جائے۔ تاہم یہ بات اتنی سادہ نہیں، چار جنگیں ہم لڑ چکے ہیں، خوارج سے نبرد آزما ہیں، غیر مسلموں کو ملک سے نکال باہر کیا ہے، اور جو باقی مسلمان ہیں وہ آئے روز ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہتے ہیں۔ یہ سب باتیں آخر ہم نے کہاں سے سیکھی ہیں، اِن کا مخرج کیا ہے، سویڈن یا ترکمانستان میں تو یہ سب کچھ نہیں ہو رہا! یہ جاننے کے لیے لا محالہ گڑے مُردے اکھاڑنے پڑتے ہیں۔

ایک علیحدہ وطن کی دلیل یہ تھی کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کو جینے نہیں دے گی، لہذا قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی ہونی چاہیے، واضح رہے کہ اُس وقت مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 22 سے 23 فیصد تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بنگال اور پنجاب جیسے صوبوں میں، جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، وہاں تو اپنی آبادی کے لحاظ سے انہیں پوری نشستیں ملیں لیکن وفاق میں، اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے، مسلمانوں کو کم از کم 33 فیصد نمائندگی دی جائے۔ اِس کے ساتھ ہی مسلم لیگ کا مطالبہ جداگانہ طرز انتخاب کا بھی تھا یعنی مسلمانوں کے انتخابی حلقے علیحدہ ہوں جہاں مسلمان امیدواروں کو صرف مسلم ووٹوں سے ہی منتخب کیا جائے۔

دوسری جانب کانگریس کا استدلال یہ تھا کہ مسلمانوں کو آبادی کی بنیاد پر متناسب نمائندگی دی جا سکتی ہے، بلکہ ایک موقع پر کانگریس 25 فیصد نمائندگی دینے پر رضامند بھی ہو گئی تھی، تاہم مسلم لیگ مسلسل 33 فیصد نمائندگی پر اصرار کرتی رہی۔ جداگانہ طرز انتخاب پر کانگریس نے لیگ کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا، کانگریس کا موقف تھا کہ بھارت کی تمام قومیتیں مخلوط طرزِ انتخاب کے تحت ووٹ ڈالیں البتہ مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے لیے کچھ مخصوص نشستیں ضرور ہوں۔

کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان یہ مذاکرات کئی برس تک چلتے رہے، مگر 25 فیصد اور 33 فیصد کا جھگڑا طے نہ ہوسکا اور بالآخر ہندوستان تقسیم ہو گیا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پنجاب اور بنگال تقسیم ہو گئے۔ پنجاب کی تقسیم بے حد خوں ریز تھی، لاکھوں بے گناہ اور معصوم لوگ مارے گئے اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی، صرف پنجاب میں ایک کروڑ افراد گھر سے بے گھر ہوئے، 50 لاکھ ہندو اور سکھ مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب جبکہ اتنے ہی مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب میں مہاجر بن کر گئے۔ تقسیم کے موقع پر ہونے والے فسادات اِس قدر ہولناک تھے کہ اُس وقت کے ادیبوں پر بھی اُن کا گہر اثر ہوا، منٹو، بیدی، ندیم، کرشن چندر، انتظار حسین وغیرہ نے ایسے دردناک افسانے لکھے کہ بندہ پڑھ لرز لرز اٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دلیل اِس قدر متاثر کُن نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی کو قائل کرسکے کہ یہ سب آزادی کی قیمت تھی جو ادا کی گئی۔

تقسیم کے عمل کو ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ مسلم لیگ کے استدلال کے نتیجے میں جو حکومت پاکستان میں وجود میں آئی وہاں مسلمانوں کی اکثریت بن گئی اور ہندو اور دیگر غیر مسلم قومیں اقلیت میں تبدیل ہو گئیں، لیکن مسلم لیگ نے اِن اقلیتوں کو 33 فیصد نمائندگی نہیں دی حالانکہ سن 47 میں اقلیتی آبادی کا تناسب 30 فیصد تھا، گویا مسلم لیگ نے یہ فرض کر لیا کہ اگر وہ اکثریت میں ہوگی تو اقلیت کے ساتھ انصاف کرے گی تاہم اگر کانگریس اکثریت میں ہوگی تو مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

اِن گزارشات کا یہ مقصد یہ نہیں کہ یوم ِآزادی کا مزا کرکرا کیا جائے، بلکہ مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ جس دلیل کی بنیاد پر ہم نے یہ ملک بنایا تھا اُس دلیل پر پہلے خود عمل کر کے دکھائیں، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہندوستان میں بی جے پی کو یہ جواز مل جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی کنپٹی پر پستول رکھ کر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوائے، سو، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں سیکولر طرز حکومت ہو جہاں مسلمانوں سے مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے تو اپنی ریاست کو اُن خطوط پر استوار کیا جائے جن خطوط پر ہم ہندوستان کی ریاست کو دیکھنا چاہتے ہیں!

بٹوارے کے بعد مہاتما گاندھی لاہور اور قائد اعظم بمبئی میں رہنا چاہتے تھے۔ کاش کہ ایسا ہی ہوتا۔ لیکن سوال وہی ہے کہ پھر علیحدہ ملک بنانے کی کیا ضرورت تھی اور اگر بنا لیا ہے تو دونوں ملکوں کے شہریوں کو اُس طرح کیوں نہیں رہنے دیتے جیسے ارشد ندیم اور نیرج چوپڑہ کی مائیں رہنا چاہتی ہیں؟ نہ جانے وہ دن کب آئے گا جب یہ دونوں ملک نارمل ہو جائیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ مزار شریف سے چنائی تک ویسے ہی ریل گاڑی چلے جیسے زیورخ سے نیپلز کے درمیان چلتی ہے۔ اُس دن کے آنے تک ارشد ندیم اور نیرج چوپڑہ کی ماؤں کو اپنا اپنا یوم آزادی مبارک!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “گاندھی کا لاہور اور جناح کا بمبئی – مکمل کالم

  • 15/08/2024 at 4:47 صبح
    Permalink

    پاکستان میں اقلیت کی نمائندگی کے مسئلے کو دو طرح سے دیکھا جاسکتا ہے
    جناح کی وفات تک
    اور جناح کے بعد۔
    قیام کے وقت غیرمسلموں کی سب سے بڑی تعداد مشرقی پاکستان یا بنگال میں تھی۔ پہلی دستور ساز اسمبلی میں اسی لئے ان کی تعداد 44 میں سے 13 یا 14 تھی۔ جو وہی شرح تناسب بنتی ہے۔
    اس کے علاوہ پنجاب کے 13 میں سے ایک یا دو لوگ دستور ساز اسمبلی میں غیر مسلم تھے۔ جبکہ سندھ اور دوسرے صوبوں کی نشستیں ہی تین چار تھیں تو ان میں غیر مسلم صفر تھے۔

    جناح کے بعد بھی صوبائی اسمبلیوں کے جو انتخابات ہوئے غیر مسلم نمائندگی اتنی بری بھی نہیں رہی۔ اب بھی اس میں بہتر تو یہی ہونا چاہئے کہ ہر پارٹی پر لازم کیا جائے کہ وہ اپنے امیدواروں میں مخصوص تعداد میں ٹکٹ غیر مسلم اور خواتین کو بھی ضرور جاری کرے تاکہ وہ عام نشستوں پر بھی انتخاب لڑیں اور اسی طرح ان دونوں طبقات کو الگ سے بھی مخصوص نشستیں دی جائیں۔

Comments are closed.