کوا لٹکانے کا انجام

کوا لٹکانا ایک کہاوت ہے جسے تشبیہ، ضرب المثل بھی کہا جاسکتا ہے۔ پرانے وقتوں میں جب حاکم اپنی رعایا کے لیے کوئی حکم جاری کرتے تو ان کے اس شاہی فرمان کی تعمیل ہر خاص و عام بچے بوڑھے کے لیے لازم ہوتی۔ اگر کوئی بندہ قبیلہ یا گروہ کسی بھی وجہ سے اس شاہی حکم کی تعمیل بجا نہ لاتا تو پھر اس قبیلے یا خاندان کے کسی ایک ایسے فرد کو جو شاہی فرمان کی عدم تعمیل میں پیش پیش ہوتا اس پر بغاوت کا ٹیگ لگا کر اتنی عبرت ناک سزا دی جاتی کہ انسان تو انسان زمین تک لرز اٹھتی۔ یعنی کوا لٹکا دیا جاتا۔ ایسے کسی جرم کی پاداش میں سزا پانے والے کو عبرت کا نشان بنا دیا جاتا اور اس کی نعش ہفتوں تک کسی ایسے مقام پہ لٹکی رہتی جسے ہر آنے جانے والا دیکھتا یہاں تک کہ چیل کوے کتے اس نشان عبرت کو نوچ ڈالتے۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور حکومتوں ریاستی مشینری سرکاری اداروں کو شاہی احکامات کی تعمیل کروانے کے لیے تنظیموں گروہوں اور جتھوں سے مذاکرات کے ٹیبل سجانے پڑے۔
تنظیم سازی کا ایسا دور چل نکلا کہ آپ ہسپتال چلے جائیں اور کسی بھی ایشو پہ آواز اٹھائیں تو ڈاکٹروں کی تنظیم، کلرکوں کی تنظیم، سویپروں کی تنظیم، سیکیورٹی والوں کی تنظیم، موٹر سائیکل اسٹینڈ والوں کی تنظیم، ایمبولینسز والوں کی تنظیم، باہر میڈیکل اسٹور والوں کی تنظیم آپ عدالت چلے جائیں وکلا تنظیم، وکلاء کے منشی صاحبان کی تنظیم، کینٹین والوں کی تنظیم آپ بازار میں کسی ایشو کی نشاندہی کریں تو تاجروں کی تنظیم، ریڑھی ٹھیلے والوں کی تنظیم، سبزی فروٹ والوں کی تنظیم، جوتے بنانے والوں سے لے کر بیچنے پالش کرنے والے سلائی کرنے والوں تک کی تنظیم، حجام تنظیم، قصاب تنظیم، رکشہ تنظیم، موٹر سائیکل بیچنے والوں کی تنظیم، مرمت کرنے والوں کی تنظیم، بس یونین، ٹرک یونین، لیبر یونین، ڈرائیور یونین، کنڈکٹر یونین، صحافیوں کی تنظیم قصہ مختصر علماء مشائخ اور فرقوں تک کی الگ الگ منظم تنظیم سازی آپ کو ملے گی متذکرہ بالا تنظیمیں ملک و قوم کے لیے کتنی فعال ہیں یا فائدہ مند ہیں یہ تو میں نہیں جانتا بہر حال ان تنظیموں سے جڑے لوگ ضرور مع اہل و عیال کسی نہ کسی طرح تنظیم سے وابستگی کا ثمر اٹھاتے اور کھاتے ہیں ان تنظیموں اور یونینوں سے ہر انسان کا بلا شبہ پالا پڑا ہے اور پڑتا ہی رہے گا۔
لیکن میرا سامنا ایک بڑی منظم اور انوکھی تنظیم سے ہوا جو آج بھی مجھے یاد ہے۔ جب بھی کہیں کوئی کوا لٹکایا جاتا ہے تو میری یاداشت کی وسعتیں مجھے اسی کھالے (کھیتوں کو سیراب کرنے والے نالے کو کھالا کہتے ہیں ) پہ لے جاتی ہیں جہاں اس منفرد تنظیم سے میرا خوفناک تصادم اور ٹکراؤ ہوا اور مجھے یقین ہوا کہ جو بھی ہو کوا لٹکانا اب اتنا بھی آسان کام نہیں جتنا کبھی ہوا کرتا تھا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نویں کلاس کا طالب علم تھا۔ ہم دیہات میں رہتے تھے ٹیوشن سنٹر اکیڈمی یا لائبریری ہماری پہنچ سے کوسوں دور کے مقامات تھے۔ اس لیے میرے جیسے پڑھائی کے شوقین لڑکے گاؤں کے باہر کسی نالے یا کھیت کی پگڈنڈی پہ بیٹھ کر پڑھنا نہ صرف پسند کرتے بلکہ ایک طرح کی تفریح کا سامان بھی سمجھتے۔ پوری دوپہر کھیتوں کی ہریالی میں گزارتے نہر نالوں میں نہاتے موسمی پھل مثلاً تربوز، خربوزے، پھٹاں، گنے، چبڑ شہتوت، بیر تفریح کا سامان ہوتے اور اس طرح خشوع و خضوع سے اکیلے بیٹھ کر پڑھنے لکھنے اور سکول کا کام کرنے والے بچے نہ صرف والدین کی نظر میں محنتی معتبر ہوتے بلکہ پورے گاؤں کے لوگوں کے لیے مثال اور سب کی آنکھ کا تارا ہوتے۔
جس جگہ میں جا کر بیٹھا کرتا تھا وہاں شیشم کے گھنے درخت تھے کچھ دن سے وہاں کووں نے میرا بیٹھنا محال کر رکھا تھا میں جیسے ہی وہاں پہنچتا کائیں کائیں کرتے کوے دشمن کے علاقے میں گرجتے فائٹر جیٹ کی طرح میرے سر پر اپنی سیاہ نوکیلی چونچوں سے حملہ کر دیتے کبھی کتاب سے کبھی ہاتھ لہرا کر میں ان کے وار سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا مگر کبھی کبھار وہ اپنی چونچ ارشد ندیم کے تیز دھار نیزے کی طرح ٹھیک نشانے پہ گاڑ دیتے۔ ایک دن تو کسی دل جلے کوے نے حد ہی کر دی اتنی زور کا نشانہ لگایا کہ میرے سر سے خون رسنے لگا۔
میں غصے سے لال پیلا وہاں سے اٹھا اور دل ہی دل میں کووں کو مزہ چکھانے کی ٹھان لی۔ میں نے بھی کہیں سے سن رکھا تھا کہ کسی جگہ اگر کووں کی بہتات ہو تو وہاں ایک کوا مار کے الٹا لٹکا دیا جائے تو باقی کوے ڈر کے مارے علاقہ چھوڑ جاتے ہیں۔ میرے پاس ایک ائرگن تھی بازار سے میں ائرگن کے چھروں کی ڈبیہ لایا اگلے دن بغل میں کتابیں اور کندھے پہ ائرگن لٹکائے فاتحانہ انداز میں کوا الٹا لٹکانے نکل پڑا۔
نشانہ میرا بچپن سے ہی اچھا تھا درختوں کے جھنڈ میں پہنچ کر کتابیں گھاس پہ رکھیں ایک موٹے سے درخت کے تنے کی اوٹ سے تاک کر نشانہ لگایا چند لمحوں بعد ایک زخمی کوا زمین پہ آ گرا جیب سے میں نے رسی نکالی کوے کی ٹانگ باندھ کر ائرگن زمین پہ رکھی اور درخت پہ چڑھ گیا تاکہ کوا الٹا لٹکا سکوں۔
ابھی میں درخت پہ چڑھ ہی رہا تھا کہ مشرق مغرب شمال جنوب غرض چاروں طرف سے کووں کی فوج نے مجھے گھیر لیا مجھ پر اس قدر شدید حملے ہوئے کہ میرے لیے سنبھلنا مشکل ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میں دھڑام سے نیچے گرتا میں نے فوری نیچے اتر جانے میں عافیت جانی۔ مجھے لگا تھا کوا الٹا لٹک گیا ہے اب کوے بھاگ جائیں گے مگر میاں کوا الٹا لٹکانے کی کہاوت ضرب المثل تشبیہ یا یہ جملہ جو بھی ہے سراسر غلط ثابت ہوا۔ میں نے گن اٹھائی دوچار نشانے بھی لیے مگر جتنی دیر میں، میں ائرگن دوبارہ لوڈ کرتا کوے مجھے بیسیوں چونچیں مار جاتے
میرے دائیں بائیں سے سینکڑوں کووں کے غول قطار در قطار امنڈ آئے اور مزید آتے دکھائی دے رہے تھے۔
تاریخی جنگوں میں جس طرح پیادوں اور گھڑ سواروں کے لشکر مورچے سنبھال لیتے تھے بالکل اسی طرح کچھ کوے درختوں پہ بیٹھ کر مزید نفری کو پکارنے لگے کچھ دور دور اڑ کر شور شرابا کر رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں آج ہم تمھیں بتاتے ہیں اتفاق میں برکت ہے کا کیا مطلب ہوتا ہے، آج ہم تمھیں بتائیں گے یکجان اور خوددار قوم کو چھیڑنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے کچھ جنگجو قسم کے بہادر اور نڈر کوے میری ائرگن کو خاطر میں نہ لا کر مسلسل مجھے بے بس کیے ہوئے تھے۔
میں کبھی کووں کی قطاریں دیکھتا کبھی دائیں بائیں سے کسی انسانی امداد کو تلاش کرتا مگر دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی ذات بس کوے ہی کوے۔ آخر کار میں نے اپنی ائرگن فصلوں میں پھینکی جوتے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سر پہ رکھے کتابیں وہیں چھوڑیں اور جان بچا کر سرپٹ بھاگا۔ بستی تک کووں کے فائٹر جتھوں نے میرا پیچھا کیا۔
اس دن کی اس بھیانک اور خوفناک صورتحال سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بابا جی اگر کوے منظم ہوں تو آپ جتنی مرضی طاقت تکبر سہولیات اور اقتدار کے نشے سے سرشار ہوں آپ کو کوا لٹکا کر جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں آپ کو عزت اور جان بچا کر الٹے پاؤں بھاگنا بھی پڑ سکتا ہے یعنی اس تنظیم سازی کے دور میں کوا الٹا لٹکانا اتنا بھی آسان نہیں جتنا ضرب المثل سے لگتا ہے۔

