جشن آزادی کا چورن
ہر سال یکم اگست کو سوئیٹزرلینڈ کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ سوئیٹزرلینڈ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں کے لیے کہا جاتا ہے کے یہاں بسنے والا کوئی بھی انسان غریب نہیں کیونکہ ریاست کی جانب سے ہر انسان کو بنیادی سہولیات میسر کی جاتی ہیں جیسا کے گھر، خوراک، صحت، تعلیم وغیرہ۔ اس ملک میں تمام مذاہب، نسل، قومیت سے تعلق رکھنے والوں کو مکمل طور پر آزادی حاصل ہوتی ہے۔ کسی قسم کا جنسی امتیاز بھی نہیں رکھا جاتا نا ہی طاقتور اور عام انسان میں کوئی فرق رکھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی سوئیٹزرلینڈ کی سالگرہ کے موقع پر لوکل میڈیا کی جانب سے کوئی شور شرابا نہیں کیا گیا، اور نا ہی سرکاری سطح پر کوئی آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، نا ہی افواج کی جانب سے عالیشان تقریبات کا انعقاد کیا گیا، نا ہی یہاں کے گھروں اور چلتی گاڑیوں سے اونچے سپیکر پر قومی ترانوں اور نغموں کی گونج سنائی دی، نا ہی سٹرکوں پر قومی پرچم بیچنے والے محب وطن دکھائی دیے، نا ہی یہاں کی عوام کے سینوں پر بیج کے نشان نظر آئے بس چند ایک گھروں پر قومی پرچم لہراتا ہوا نظر آیا۔
یہ محب وطنی کا دکھاوا اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ یہاں کے عوام جانتے ہیں کہ ہمیں بہتر مستقبل اور بنیادی حقوق فراہم کرنا حکمران وقت کا اولین فریضہ ہے اور شاید یہاں کے حکمران بھی بخوبی واقف ہیں کہ عوام اپنے ملک سے کتنا پیار کرتے ہیں اس لیے ان کو کسی دکھاوے کی ضرورت بھی نہیں۔
مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جشن آزادی کے موقع پر جتنا شور شرابا کیا جا سکتا تھا وہ سب نے مل کر کیا۔ سب میں شامل افواج پاکستان، سیاست دان، میڈیا گروپس اور عوام تمام حلقوں نے اپنے اپنے انداز میں چیخ چیخ کر ثبوت دینے کی کوشش کی کہ ہم اس ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اپنی جان بھی قربان کر دیں گے۔ افواج پاکستان نے پریڈ کی شکل میں باجے بجاتے ہوئے ملک و قوم سے بے انتہا محبت کرنے کا ثبوت دیا۔ سیاست دانوں نے ملک کے تمام سرکاری دفاتر میں تقریبات منعقد کر کے ملی نغمے چلائے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ میڈیا گروپس نے ملک کے کونے کونے میں جشن آزادی منانے والوں کو دکھایا اور عوام پاکستان نے بغیر کسی وجہ کے اپنے سینوں پر پاکستان کا بیج لگا کر پاکستانی جھنڈا لہرایا، ساتھ میں باجے بھی بجائے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ ہم اس ملک سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور اپنی جان دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔
موجودہ وطن عزیز پاکستان کی صورت حال جہاں عوام الناس غربت، بھوک، بجلی کے بل، اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں مگر پھر بھی قومی دن زبردستی کے جوش و جذبہ سے منا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کل کو پاکستانی حکمران وطن سے غریبی کا خاتمہ کرنے کے بعد ہر ایک پاکستانی کو گھر، صحت، خوراک اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر دیں تو ہمارے حکمران و عوام اور مزید کتنا جوش و جذبہ سے جشن آزادی کا دن منائیں گے؟


