طاہر القادری کا ’’انقلاب‘‘ اور مظفر وارثی کی گواہی


گرامی قدر جناب عطاء الحق قاسمی نے چند روز قبل ایک موقر روزنامہ میں طاہر القادری صاحب پر ایک کالم لکھا۔ جس پر قادری صاحب کے چاہنے والوں نے ناگواری کا اظہار کیا۔ قادری صاحب کے چاہنے والے اندھی عقیدت کے باعث حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور بدقسمتی سے یہ روایت ہمارے ہاں عام ہے۔ ان کے ایک چاہنے والے نے تو اسی اخبار میں قادری صاحب کی توصیف میں ایک کالم بھی گھسیٹ ڈالا جسے پڑھتے ہوئے ہر لمحے یہ گمان رہا کہ اگلی سطر میں پاکستان کے قیام کا سہرا بھی قادری صاحب ہی کے سر پر سجایا جا نے والا ہے۔ ان کے پرستار کے کالم میں بھی ان کی عربی دانی، 35 جلدوں پر قرآن مجید کی تفسیر اور 8 جلدوں پر مشتمل احادیث کا انسائیکلو پیڈیا اور ان کی تعلیمی اداروں کے قیام جیسی خدمات کا ذکر ہے جو اِن کالم نگار کے نزدیک وہ ”احسانات“ ہیں جو قادری صاحب نے قوم پر کیے ہیں۔

طاہر القادری صاحب کی عربی دانی کا معیار کیا ہے؟ اس پر معروف اسلامک اسکالر جاوید احمد غامدی صاحب نے تنقیدی مضامین پر مشتمل اپنی کتاب ”بُرہان“ میں ”اربابِ منہاج القرآن کی خدمت میں“ کے عنوان سے ایک مضمون میں طاہر القادری صاحب کی عربی دانی پر تبصرہ کیا ہے۔ غامدی صاحب کی کتاب چھپی ہوئی موجود ہے جس میں مذکورہ مضمون پڑھا جاسکتا ہے۔

جہاں تک طاہر القادری کے انقلاب کا تعلق ہے وہ اہلِ وطن دیکھ چکے ہیں کہ کیسے یہ ’انقلاب‘ درجہ بہ درجہ فوائد سمیٹتے ہوئے پاکستان کے گلی محلوں سے رُلتا ہوا کینیڈا کے نیاگرا آبشار کی نذر ہوا۔ اس انقلاب کے حوالے سے معروف نعت گو شاعر مظفر وارثی مرحوم کی کتاب ”گئے دنوں کا سراغ“ میں ایک مضمون ”ہم اور پاکستان عوامی تحریک“ کے عنوان سے موجود ہے۔

مظفر وارثی جیسا شخص جسے سید عطا اللہ شاہ بخاری، حسین شہید سہروردی، مولانا ظفر علی خاں، مولانا عبدالحامد بدایونی جیسی شخصیات کی قُربت حاصل رہی ہو اور ان کے جلسوں میں نظمیں پڑھنے کا اعزاز ملا ہو وہ کیسے طاہر القادری کے ہتھے چڑھ گیا؟ اس کا جواب وارثی صاحب یوں دیتے ہیں کہ جب انھیں پانچویں بار دل کا دورہ پڑا تو بسترِ علالت پر انہوں نے ابنِ سیرین کی کتاب سے تعبیر لی ”دین کمزور ہے“۔ اس تعبیر سے وہ مضطرب ہوئے اور خیال کیا کہ قدرت اُن سے اس حوالے سے کوئی کام لینا چاہتی ہے۔ اس زمانے میں طاہر القادری مصطفیٰ انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ جس سے وارثی صاحب بھی متاثر ہوئے، اس طرح پاکستان عوامی تحریک میں وارثی صاحب کی شمولیت کا حادثہ رونما ہوا۔

شمولیت کے بعد لاہور میں کسی نہ کسی علاقے میں عوامی تحریک کا جلسہ ہوتا۔ وارثی صاحب ہر جلسے میں نظمیں پڑھتے۔ طاہر القادری جلسوں سے واپسی پر اپنے مریدوں سے اپنی خطابت پر داد وصول کرنے کے خواہش مند ہوتے، جس پر فوراً عمل ہوتا اور اگر کوئی غلطی سے مظفر وارثی صاحب کی تعریف کر دیتا تو بات کا رُخ بدل دیتے۔ لاہور سے باہر جلسے ہوتے تو طاہر القادری خود تو آرام دہ کمرے میں ٹھہرتے اور وارثی صاحب ان کے پہرے داروں کے ساتھ سوتے۔ پہرے داروں اور محافظوں کے حوالے سے ایک وکیل صاحب نے اعتراض کیا کہ آپ آٹھ دس گن مین لے کر ساتھ کیوں چلتے ہیں؟ تو فرمایا کہ پیغمبر اسلام کی حفاظت بھی تو ان کے سرفروش کیا کرتے تھے، نعوذ با اللہ۔ اسی طرح جب کسی نے کہا کہ آپ نے اپنی بہنوں کے نام پر نواز شریف سے پلاٹ الاٹ کرائے، سالے کو نائب تحصلیدار اور بھانجے کو اے ایس آئی بھرتی کروایا، میاں محمد شریف مرحوم سے ساڑھے سولہ لاکھ وصول کیے، گاڑی، مکان اور چالیس طالب علموں کی اکیڈمی کا سارا خرچ اُن سے لیا تو ارشاد ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی تو فرعون کی گود میں پلے تھے۔ طاہر القادری صاحب کو شوق امام خمینی بننے کا تھا مگر عادات رضا شاہ پہلوی والی تھیں۔ گھر سے سفر کے لیے نکلتے تو آدھا گھنٹہ قبل گاڑی کا ائرکنڈیشنڈ چلا دیا جاتا۔ پجیرو جیپ کا پچھلا حصہ خورد و نوش کی اشیاء سے پُر ہوتا، وارثی صاحب اور دیگر ہم سفروں کو بھی کبھی پوچھ لیا کرتے مگر صرف شکریہ سننے کے لیے۔

مظفر وارثی مرحوم اسٹیٹ بنک میں ڈپٹی ٹریژرار تھے۔ طاہر القادری صاحب کے بار بار اصرار کرنے پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم قادری صاحب نے اسلام آباد میں اپنے ایک کارندے کے کاروبار میں لگوا دی جو چند ماہ منافع دینے کے بعد اصل رقم اور منافع دونوں گول کر گیا۔ کئی بار وارثی صاحب نے اس جانب توجہ دلائی مگر نتیجہ صفر۔ اس دوران وارثی صاحب کے لیے گھر کا کچن چلانا بھی ممکن نہیں رہا اور وہ مقروض ہو گئے۔ یہ تمام مسائل لے کر جب وہ قادری صاحب کے پاس پہنچے تو موصوف نے ہزار ہزار کے چند نوٹ انھیں پیش کرنے کی کوشش کی جس پر وارثی صاحب معذرت اور سلام کر کے رخصت ہو گئے۔ بقول وارثی صاحب کے ان تیرہ ماہ میں وہ ان کے سامنے تیرہ انچ کے بھی نہیں رہے۔ اس کے باوجود وارثی صاحب کا احساس رہا کہ قادری صاحب جیسا مقرر برِصغیر میں شاید ہی کوئی ہو۔ یہاں بھی وارثی صاحب سادہ لوحی کے سبب چرب زبانی اور خطابت کے فرق کو فراموش کر بیٹھے۔ حالانکہ اسی مضمون میں سید عطا اللہ شاہ بخاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تقویٰ کا پیکر اور نہایت وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔ تقریر کے آغاز میں تلاوت کلام پاک کرتے تو وقت کی رفتار انہیں سننے کے لیے تھم جاتی۔ لاکھوں کا مجمع بھی ہو تو شاہ صاحب کی زبان سے خطبے کے ابتدائی الفاظ الحمدللہ نحمدہ نکلتے تو مکمل خاموشی ہو جاتی۔ اب ایسے لیڈر اور ایسے خطیب کہاں؟

طاہر القادری صاحب کا ذکر کرتے ہوئے نہ جانے کیوں کالم کے اختتام پر علامہ اقبال کا یہ شعر درج کرنے کو دل چاہتا ہے :

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بُوذرؓ و دلقِ اویسؓ و چادرِ زہرؓا

Facebook Comments HS

One thought on “طاہر القادری کا ’’انقلاب‘‘ اور مظفر وارثی کی گواہی

  • 17/08/2024 at 4:46 شام
    Permalink

    Pak army and Allama iqbal her jagah kam aty hain pata nhi q

Comments are closed.