ارشد ندیم اور سیاسی کھلاڑی
پچھلے دنوں ارشد ندیم نے اولمپک گیمز کے اولمپک مقابلوں میں حصہ لیا اور نیزہ بازی کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ ارشد ندیم کی اس غیر متوقع جیت پر اس نوجوان کی ہر سطح پر واہ واہ ہوئی۔ اور تو اور ہندوستان میں بھی اس کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ جبکہ وہاں کے ایک نوجوان نے اسی نیزہ بازی کے مقابلے میں سلور میڈل حاصل کیا۔
بلاشبہ ارشد ندیم مبارکباد کا مستحق ہے جس نے اپنی پختہ لگن کے جنون کے بل بوتے پر نا صرف اقوام عالم میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ بلکہ نیا اولمپک ریکارڈ بنایا۔ کھیل کے ساتھ اس کی اس قدر چاہت اور محبت نہ ہوتی تو آج پاکستان اولمپک مقابلوں کے سکور کارڈ سے غائب ہوتا۔
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ چوبیس کروڑ آبادی کا حامل ملک اولمپک مقابلوں میں باسٹھویں نمبر پر آیا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا کی آبادی ہم سے تقریباً دس گنا کم ہے اور وہ اولمپک مقابلوں میں تریپن میڈلز حاصل کر کے چوتھا مقام حاصل کر چکا ہے۔ یعنی اولمپک مقابلوں کے نتائج دیکھ کر آپ بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ پاکستان کی ان مقابلوں میں کیا حیثیت ہے۔ ایسی ہی صورتحال ہندوستان کی بھی ہے ڈیڑھ ارب آبادی کا حامل ہوتے ہوئے اس ملک نے صرف سات میڈل حاصل کیے ہیں۔ گولڈ میڈل ایک بھی نہیں جیتا اور اولمپک سکور کارڈ میں پاکستان سے بھی پیچھے یعنی اکہترویں ہوزیشن پر ہے۔ اس قدر افسوسناک صورتحال سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ کھیلوں کے صحت مندانہ ماحول کے لیے ہمارے جیسے جنگجو ممالک کے لئے حالات کس قدر ناسازگار ہیں۔
اولمپک مقابلوں میں خواتین سے متعلق بہت سارے کھیل تو ایسے ہیں۔ کہ جن میں آپ حصہ لے ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ آپ کی اخلاقیات، آپ کی اقدار اور آپ کے عقائد آڑے آ جاتے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ ان مقابلوں سے تو آپ بائی ڈیفالٹ دستبردار ہیں۔ اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان ممنوعہ مقابلوں میں حصہ لے سکیں گے۔ ہاں مردوں کے مقابلوں میں آپ شرکت کر سکتے ہیں۔ لیکن اس شرکت کے نتائج بھی حوصلہ شکن ہیں۔
حوصلہ مند ارشد ندیم کی وطن واپسی پر اس کا بڑے پیمانے پر استقبال کیا گیا۔ اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کرنے والے ان لوگوں نے بھی ارشد ندیم کی جیت کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جن سے ارشد ندیم کو ایک ٹکے کا فائدہ نہیں ہوا تھا۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے موقع پرست سیاسی کھلاڑی بھی میدان میں کود پڑے۔ اور ارشد ندیم کی جیت کو اپنی جیت قرار دینے کی کوشش کرنے لگے اور معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی جسارت کی۔ حالانکہ ان میں سے وہ لوگ بھی تھے۔ جو ارشد ندیم نام کے اس نوجوان کو جانتے بھی نہ تھے۔ اور جو لوگ صاحب اقتدار تھے ان سے کبھی اس حوصلہ مند نوجوان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے۔ کہ مذکورہ کھلاڑی اس قدر تہی دست تھا کہ ڈھنگ کا نیزہ خریدنے کے پیسے بھی اس کے پاس نہ تھے۔
پتہ نہیں کتنے مشکل حالات میں اس نے اولمپک میں جانے کی ہمت کی۔ یہ خدا جانتا ہے یا پھر وہ خود جانتا ہے۔ باقی رہ گئے سیاسی کھلاڑی تو یاد رکھیں ان کا بونا قد ارشد ندیم کا کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش سے کبھی نہیں بڑھنے والا۔ وہ جتنا مرضی ارشد ندیم کو انعامات سے نوازیں لیکن ارشد ندیم کی طرح ہر کوئی مقدر کا سکندر نہیں ہوتا۔ بہت سے محنتی اور پر عزم کھلاڑی حوصلہ افزائی اور بہتر مالی حالات نہ ہونے کی وجہ سے اولمپک میں جانے سے رہ گئے۔ اور کتنے ہی سفارشی، حقدار کھلاڑیوں کا حق مار کر اولمپک میں حصہ لینے کے نام پر سیر و تفریح کرنے چلے گئے ہوں گے۔ آج انہی سفارشیوں کے چاچے مامے ارشد ندیم کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں ہیں۔
یہ جو سیاست کے کھلاڑی خوش ہو رہے ہیں ان کو ذرا اولمپک سکور کارڈ پر بھی نظر دو ڑانی چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ کھیلوں کو لے کر ان کی کج فہمی اور غیر ذمہ دارانہ روش کی وجہ سے آج پاکستان باسٹھویں پوزیشن پر ہے۔


