سیاست اور جمالیات
سیاست جو کہ خالصتاً حقائق، حسی تجربات اور عمل کی دنیا ہے، اسے حقائق و مشاہدات سے ہٹا کر جمالیات کے تابع کر دینا انتہائی نقصان دہ ہے۔ آج کے جدید دور میں ذرائع ابلاغ تک رسائی بہت آسان اور سستی ہے، اسی لیے سیاسی جماعتیں مختلف سوشل میڈیا فورم کو بڑے زور و شور سے استعمال کر رہی ہیں اور کرنا بھی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اپنے حق میں رائے عام ہموار کرنے کے لیے، عوام کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے حقائق سے زیادہ جمالیات کا سہارا لیا جا رہا ہے، اور اس پہ مستزاد یہ کہ یہ کام شعوری طور پہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔
چونکہ ہمارے ملک کی زیادہ تر آبادی جوانوں پہ مشتمل ہے اور جوانوں میں بہ نسبت بوڑھوں کے جذبات اور جمالیات پرستی زیادہ ہوتی ہے، اور وہ واقعات کو بغیر تجزیہ کیے جلدی قبول کرتے ہیں۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیمیں اپنے مخاطبین کے اس گروہ کو ٹارگٹ کرنے کے لیے اپنے لیڈر کے چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، اوڑھنے پہننے سے لے کر کھانے پینے کے انداز تک کو خصوصاً اپنی تشہیری مہم کا حصہ بناتی ہیں، جن کا آج کی سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یعنی ان کا زیادہ زور لیڈر کے شانِ بے نیازی کے ساتھ چلنے پر ، ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھنے پر اور چائے میں روٹی ڈبو کر کھانے پر ہے۔
انسان چونکہ فطری طور پہ جمالیات پرست ہے لہذا ایک کچی عمر کا نوجوان جو واقعات کو عقلی کسوٹی پر پرکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہے وہ اس جمالیات کا شکار ہو کر شخصیت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ اس لیڈر کے بارے میں کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتا، اسے کے ہر غلط صحیح عمل کی جسٹیفکیشن دیتا ہے حالانکہ سیاست میں خود کو جسٹیفائی کرنا خود سیاست دان کا کام ہے، اور ہمارا کام اسے اکاؤنٹیبل ٹھہرانا۔
آپ میں سے کئی لوگوں نے مختلف سیاسی لیڈروں کی ٹک ٹاک دیکھی ہوں گی کہ وہ ایک شان بے نیازی کے ساتھ کار سے نکل کر چلتا ہوا آ رہا ہے، اوپر جذبات کو اپیل کرنے والا میوزک چل رہا ہے یا وہ کسی سیلاب زدہ علاقے میں کسی بوڑھے شخص کو گلے لگا کر رو رہا ہے یا اسے تسلی دے رہا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ ویڈیوز کون بناتا ہے، ان ویڈیوز کا ان کے منشور اور سیاسی حکمت عملی میں کتنا عمل دخل ہے؟ کیا وہ لیڈر ذاتی زندگی میں بھی اتنا خدا ترس ہے؟ اور عوام کا درد رکھنے والا ہے؟ سب سے بڑھ کے یہ کہ کیا یہ مساوات اور پاورٹی ایلیویشن اس کے پارٹی منشور میں ہے یا اس نے بر سرِ اقتدار آ کر اس کو عملی طور پہ نافذ بھی کیا؟
اس کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم ایک ایسا گروہ بنتے جا رہے ہیں جنہیں حقائق، سچ جھوٹ، نظریہ اور عملی نفاذ سے کوئی سروکار نہیں۔
ہم سوال کرنے اور سوچنے کی عادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، اور میرے نزدیک انسان کا دوسری مخلوقات سے یہی امتیاز ہے کہ وہ سوچتا ہے اور سوال کرتا ہے۔


