رمیش سنگھ اروڑہ کو وزیرِ اعظم بننے کا چیلنج


اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑہ نے سانحہ جڑانوالہ کی پہلی برسی سے عین ایک دن قبل پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کر کے تہلکہ مچا دیا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اس ’حقیقت پسند‘ بیان بازی پر ہم وزیر صاحب کو شاباش ہی دے سکتے ہیں۔ مساوی حقوق کی خواہش تو ہماری بھی ہے مگر وطنِ عزیز میں عملی طور پر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور اس ضمن میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔

ان وزیر صاحب کی وزارت جو نون لیگ کی مرہونِ منت ہے کے دوران اب تک دو چمتکار ہو چکے ہیں (گویا اگلی بار سینٹ کی سیٹ پکی سمجھیں)۔ ان کے ہوتے ہوئے ایک تو مذہبی اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو چکی ہے اور اب کی بار اُن کے مطابق مساوی حقوق کا سنگِ میل بھی عبور کر لیا ہے۔ اب فقط وزیرِ موصوف کی آنکھ کھُلنے کی دیر ہے کہ سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔

ہمیں نہیں معلوم موصوف کی دانست میں مساوی حقوق کا فلسفہ کیا ہے؟ اور انہوں نے کس بنیاد پر ایسا دعویٰ داغ دیا بہرحال ہم فقط یہ جانتے ہیں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی مساوی حقوق کی جدوجہد دہائیوں پر محیط ہے اور ابھی یہ سفر بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔

اس سے قبل وزیرِ موصوف کی ”مذہبی اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے“ کی گردان پر بھی ہم نے اُن کی خدمت میں چند سوالات پیش کیے اور چند واقعات کا حوالہ بھی دیا تھا جو صریحاً مذہبی آزادی کے دعوے کی نفی کرتے ہیں اور اس بار بھی آئیے اُن کے مساوی حقوق کے اس دعوے کے ردِعمل میں ہم آئینِ پاکستان کے صفحات کھول کے دیکھ لیتے ہیں تا کہ وزیر موصوف کو ایسے بیانات دینے میں کچھ آسانی رہے، دوسرے الفاظ میں اُن کی معلومات میں اضافہ کیے دیتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 25 بے شک شہریوں کے مساوی حقوق سے متعلق ہے جس کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار بھی، بہرحال دیگر تمام آرٹیکلز اس آرٹیکل سے متصادم ہیں۔

سردار جی کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 41 ب میں درج ہے کہ کوئی شخص بحیثیت صدرِ مملکت منتخب ہونے کا اہل نہیں ہو گا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو۔ اس عہدے کے لئے طے شدہ حلف نامہ اس کے علاوہ ہے۔ لہٰذا اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے کوئی اقلیتی فرد صدرِ پاکستان کا حلف اُٹھا ہی نہیں سکتا۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 91 میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لئے عقیدے کی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی مگر اُس کا حلف نامہ بھی ایسا ترتیب دیا گیا ہے کہ مذہبی اقلیت کے لئے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور کسی اقلیتی فرد کو وہ حلف نامہ قبول نہیں ہو گا۔

دستورِ پاکستان کی شق 22 الف کے مطابق ”ریاست کسی بچے کو وہ تعلیم نہیں دے سکتی جو اُس کا عقیدہ نہیں“ جبکہ دوسری جانب تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا تعلیمی نصاب کیسا ہے اس کی وضاحت اور خلاصہ اقلیتی وزیر کو پیش کرنا غیر ضروری محسوس ہو رہا ہے، اس لئے کہ اتنا اندازہ تو انہیں بخوبی ہو گا ہی۔

اروڑہ جی نے جن مساوی حقوق کا دعویٰ کیا ہے اُس ضمن میں یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ پروفیشنل تعلیمی اداروں میں اکثریتی عقیدے سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کو 10 سے 20 اضافی نمبروں سے نوازا جاتا ہے جس سے مذہبی اقلیتوں کے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ مذہبی بنیادوں پر دی جانے والی یہ رعایت کس حد تک مساوی حقوق کا احاطہ کرتی ہے فرصت کے لمحات میں اس پر ضرور روشنی ڈالیے پلیز۔

جیلوں میں قید اکثریتی فرقے کے قیدیوں کے لئے سزاؤں میں مذہبی بنیادوں پر (مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا مذہبی تہواروں کی خوشی میں) رعایت دینے یا قید کی مدت میں چھُوٹ دینے کی روایت قائم ہے۔ اسی رعایت کے حقدار مذہبی اقلیتوں کے افراد کیوں نہیں؟ تاکہ مساوات کا پیمانہ متوازن ہو سکے۔

جن مساوی حقوق کا ڈھنڈورا وزیر موصوف نے پیٹا ہے اُن کی زمینی حقیقت ہم بیان کیے دیتے ہیں۔

چند برس قبل قصور کے ایک سرکاری اسکول میں ایک مسیحی کو ترقی دے کر اسکول کا ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا تو اُس کے اسکول کے دیگر اساتذہ نے ہی مار مار کے اُسے لہو لہان کر دیا کہ "تُم چوہڑے ہو کر ہماری برابری کیسے کر سکتے ہو؟“

حال ہی میں کراچی کے ایک ہسپتال میں ایک مسیحی کو 18 ویں گریڈ میں ترقی دے دی گئی جو اُس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اُس کی جان کے لئے اُس وقت خطرہ بن گئی جب ہسپتال کے عملے نے ہی اُس پر تشدد کر کے دباؤ ڈالا کہ استعفیٰ دو کہ ایک مسیحی ہماری قیادت کیسے کر سکتا ہے؟

اس سماج میں مذہبی بنیادوں پر نا ہمواری رچ بس چکی ہے۔ یہ برطانیہ نہیں حضور! کہ جہاں آپ مساوی حقوق کی بنیاد پر صادق خان کو لندن کا میئر منتخب کر لیں گے۔ یہ بھارت کا نظامِ ریاست بھی نہیں جہاں منموہن سنگھ کو وزیرِ اعظم، عبد الکلام کو صدر اور محمد اظہرالدین کو کرکٹ ٹیم کا کپتان منتخب کر لیا جاتا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے سردار جی! یہاں تو آپ مقامی سطح پر جنرل سیٹ پر کونسلر تک منتخب نہیں ہو سکتے۔ آپ نجانے کون سے مساوی حقوق کا راگ الاپنے لگے ہیں او وہ بھی جڑانوالہ کے باسیوں کے دُکھ بھرے دن کے موقع پر، کیا کہنے جناب کے۔

آپ جڑانوالہ ہی کی مثال لے لیں، قانونی طور پر ایک سال کی مدت میں کیا انصاف ہوا؟ سیاسی کارکنان کے ریت میں سر چھپانے سے مساوی حقوق نہیں ملنے کے اور نہ ہی آنکھیں بند کر کے حقیقت سے انکار کرنے سے صورتحال بدلے گی۔ آپ مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک بھی نہ چھڑکیں۔ مساوی حقوق اور تحفظ دلوا نہیں سکتے تو ذلیل بھی مت کیا جائے۔ آپ ہی کے فلسفہ مساوی حقوق کی بنیاد پر ہم آپ کو اسی انتظام میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیرِ اعظم دیکھنا چاہتے ہیں، آپ اسے ہماری معصومانہ خواہش سمجھیں یا بالغانہ چیلنج۔ آپ اس نکتہ پر سوچئیے گا ضرور کہ یہ کیونکر ممکن ہے۔

Facebook Comments HS