ایک پاگل خانے کی کہانی


ایک دفعہ کا ذکر ہے ملک فارس میں۔
ارے یار کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ لفظ فارس نہیں پارس ہے۔
ہم تو ہمیشہ سے فارس ہی سنتے آئے ہیں۔
ہمیشہ سے تو آپ تھے بھی نہیں اور ہمیشہ سے یہ بھی فارس نہیں تھا۔

اصل لفظ ”پارس“ تھا۔ پھر چودہ سو سال قبل حملہ آور آئے۔ حملہ آوروں کی زبان میں ”پاک“ کی ”پا“ نہیں تھی تو پارس کی پا کہاں سے آتی؟ انہوں نے پارس کو فارس بنا دیا۔ اب آپ اپنی کہانی سنائیے۔

تو سنیے! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک۔ نہیں نہیں، معذرت خواہ ہوں، ملک نہیں پاگل خانہ تھا۔ ”ذہنی امراض کا شفا خانہ“ اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ یوں اصل کہانی ان الفاظ کی جادوگری میں غائب ہو جائے گی۔

چلیے اب آگے بھی بڑھیے۔

تو صاحب! یہ پاگل خانہ دنیا کے تمام پاگل خانوں میں ممتاز حیثیت کا حامل تھا۔ یہاں بڑے بڑے پائے کے پاگل پائے جاتے تھے۔ ان میں سے کچھ کو تقریریں کرنے کی بیماری بھی تھی۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق ملک کی اشرافیہ سے تھا اس لئے انہیں بے ضرر سمجھا جاتا تھا اور انچارج صاحب نے اُن کی شفایابی کے لئے ایک نہایت اعلیٰ پالیسی بنا رکھی تھی۔ یہاں کے انچارج بے شک وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے تھے مگر اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔

اس پالیسی کے تحت، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اور تقریر کرنے کی بیماری میں مبتلا، ان پاگلوں کو اجازت تھی کہ وہ ہفتے میں ایک دن بڑے ہال میں اکٹھے ہو کر تقریریں کر سکیں۔ اونچے درمیانے طبقہ کے کچھ پڑھے لکھے پاگلوں کو بھی وقتی رعایت دے کر اس جلسہ میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا تھا۔ دستور کے مطابق اونچے درمیانے طبقہ کے پڑھے لکھے پاگلوں میں سے کچھ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہر مقرر کی تقریر کے دوران ایسی اداکاری کریں جیسے انہوں نے کیمرے، لائٹس اور مائک وغیرہ پکڑے ہوئے ہیں۔ باقی سب کا فرض تھا کہ سکون سے تقریریں سُنیں اور موقع ہو نہ ہو نعرے مارتے، تالیاں بجاتے رہیں۔

ایسی ہی جلسے کے ایک دن سب سے پہلے ایک پاگل نے ہٹلر بن کر تقریر کا آغاز کیا۔ وہ اپنی صحت مند زندگی میں ایک اہم بیوروکریٹ رہ چکا تھا۔ اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ نہایت تحمل مزاج، رحم دل اور بردبار افسر تھا۔ اُس نے نہایت رعب دار آواز اور گھن گرج میں کہا کہ تم لوگوں کو میرا احسان مند ہونا چاہیے۔ اگر میں انگریزوں کو اتنا کمزور نہ کر دیتا تو وہ کبھی تم لوگوں کو آزاد نہ کرتے۔ مگر کسی پاگل نے اُسے شاباش تک نہ دی۔ پھر اُس نے اپنی تقریر کا رُخ یہودیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کی طرف موڑ دیا۔ اس وقت وہاں موجود سارے پاگل مسلمان تھے۔ اُسے خوب داد ملی، تالیاں بجیں اور نعرے بلند ہوئے۔

ایک پاگل جو دراصل ایک مل اونر تھا، ساری زندگی مزدوروں کا استحصال کرتا رہا تھا۔ اب اُس کے بیٹے اُس کی مل کو بہت اچھے طریقے سے چلا رہے تھے۔ وہ لینن بن کر سٹیج پر نمودار ہوا۔ انقلاب ِروس کے نعرے لگائے۔ دنیا بھر کے مزدوروں کو ایک ہو جانے کا پیغام دیا۔ وہاں موجود بائیں بازو کے انتہا پسند پاگلوں نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ اسی طرح تین چار اور مقرر بھی آئے اور اپنی جوشیلی تقریروں سے خود ہی خوش ہو کر چلے گئے۔

پھر ایک پاگل نے عالم ِدین کا روپ دھارا۔ ہوش کے زمانے میں اُس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔ نہ کبھی مسجد گیا اور نا ہی کبھی گھر میں نماز پڑھی تھی۔ اس وقت بھی اُس کا مقصود صرف تالیوں کی آواز سننا تھا۔ ہر الیکشن کے قریب وہ سیاستدان کا روپ دھار لیا کرتا تھا۔ ہر بار الیکشن ہار جاتا مگر ہر نئی حکومت میں کوئی نہ کوئی عہدہ ضرور حاصل کر لیتا۔ پہلے اس نے اپنی طرف سے کافی زوردار عقل کی باتیں کیں لیکن سامعین نے کوئی جوش نہ دکھایا تو وہ مغرب کے مظالم اور اہلِ اسلام کے خلاف اُن کی سازشوں کا ذکر کرنے لگا۔ حاضرین جوش میں آ گئے۔ نعروں اور تالیوں سے ہال گونج اٹھا۔ مقرر کا خروش بھی بڑھ گیا اور اُس نے یورپ اور امریکہ کی بنائی ہوئی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔

حاضرین پر اس کے اعلان کا خاطر خواہ اثر ہوا اور کیمرے والے پاگل وہاں سے ہٹ گئے۔ پاگل مقرر نے قریب کھڑے ایک پاگل سے پوچھا ”یہ کیمرے والے کہاں چلے گئے ہیں؟ ویڈیو کیوں نہیں بن رہی؟ میری تقریر تو براہِ راست سوشل میڈیا پر پہنچنی چاہیے“ جواب ملا ”جناب کیمرہ تو یورپ والوں کی ایجاد ہے، اس لئے ہٹا لیا گیا ہے“ ۔ چند لمحوں بعد مائک بھی غائب ہو گیا۔ اب مقرر کو اونچی آواز میں بولنا پڑ رہا تھا۔ دُور بیٹھے پاگلوں تک اُس کی آواز نہیں جا رہی تھی۔ اُس نے پھر ایک اور پاگل سے پوچھا ”یہ مائک کون لے گیا ہے؟“

وہ بولا ”حضور! وہ مغرب کے سائنسدانوں نے بنایا تھا، وہ لے گئے ہیں“ ۔ تھوڑی دیر میں روشنی بھی گل ہو گئی تو مقرر چیخا ”ارے کوئی لائٹ تو آن کرو“ ۔ ہال سے آواز آئی ”جناب بلب تو ایک امریکن تھامس ایڈیسن کی محنت کا نتیجہ تھا۔ اس لئے امریکہ والے اپنا بلب نکال کر لے گئے ہیں“ ۔

مقرر پاگلوں کی طرح بلند آواز میں بولا ”پاگلو! میں تو تقریر کر رہا تھا، اور تقریر تو بس تقریر ہوتی ہے۔ تم نے تو عمل ہی کرنا شروع کر دیا۔ لعنت ہو تم پر“ ۔ اور ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اُٹھا۔

Facebook Comments HS