سوشل میڈیا جنگ


حکومت نیشنل سکیورٹی کے پیرامیٹرز کے تحت پاکستان آنے والی انٹرنیٹ کی ٹریفک کے راستے میں ایک حفاظتی حصار بنا رہی ہے۔ ہر قسم کی ٹریفک یہاں سے فلٹر ہو کے آگے جائے گی۔ یہ ایک طرح کا سائبر سکیورٹی نیٹ ورک ہے جسے فائر وال کا نام دیا جاتا ہے۔

”فائر وال اصل میں ایک ایسا سافٹ ویئر یا ہارڈویئر ہوتا ہے جو کسی بھی نیٹ ورک پر آنے والی اور اس سے باہر جانے والی ٹریفک کو فراہم کیے گئے رولز کے حساب سے بلاک کرتا ہے یا اجازت دیتا ہے“ ۔

فائر وال کا نام ایمرجنسی صورتحال میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کھڑی کی جانے والی کنکریٹ کی دیواروں سے لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کے فلٹر سے جھوٹے پروپیگنڈے، فساد اور شر پسندی کی آگ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ پروپیگنڈے کا سب سے موثر میدان سوشل میڈیا ہے۔ یہاں تک کہ اب تو جنگیں بھی سوشل میڈیا کے میدان میں لڑی جاتی ہیں۔ فیک نیوز اور ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا پاکستان کی قومی سلامتی کی حدود پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ”سائبر کرائم“ اور ”ڈیجیٹل دہشت گردی“ کی اصطلاحیں اسی حوالے سے استعمال کی جاتی ہیں۔ فائر وال شیئر کی ہوئی پوسٹوں کو ڈیلیٹ نہیں کر سکتا۔ ان پوسٹوں کو متعلقہ سوشل میڈیا ایپ کی مینجمنٹ ہی ڈیلیٹ کر سکتی ہے۔

دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے اپنی ملکی حدود میں آنے والی انٹرنیٹ ٹریفک پر سکیورٹی چیک کے طور پر فائر وال انسٹال کی ہوئی ہے ان میں چیں سر فہرست ہے۔ چین نے فائر وال کا نام ہی اپنی گریٹ چائنا وال کے طرز پر چائنا گریٹ فائر وال رکھا ہے۔ چین نے سوشل میڈیا کی مقبول و معروف ایپس کو بھی اپنے ملک میں بین کیا ہوا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر۔ واٹس ایپ پر چین میں پابندی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چینی سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے یا وہ آپس میں سماجی روابط نہیں بناتے۔ چین نے اپنے سوشل میڈیا کی ایپس ڈیویلپ کی ہیں جو چین میں استعمال کی جاتی ہیں۔ عرب سپرنگ کے بعد مصر اور الجزائر میں جو افراتفری پیدا ہوئی اسے کنٹرول کرنے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے فی الفور فائر وال انسٹال کی وٹس ایپ اور وی پی این ان ممالک میں نہیں چلتے باقی انٹرنیٹ ٹریفک فائر وال سے گزر کے آتی ہے۔ کوئی بھی ایسی چیز جو ان ممالک کے سکیورٹی پیرامیٹرز کے خلاف ہے وہ اسے بلاک اور سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے سے روکتے ہیں۔ ایران اور ترکی میں بھی فائر وال انسٹال ہے۔ پاکستان بھی انہی بیرونی قوتوں کے نشانے پر ہے مگر ہمارے بزرجمہر ہمیشہ اس وقت ہی توجہ دیتے ہیں جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔

”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“ کی کیفیت ہماری مقتدرین کی فطرت ہے۔ یہ کام دس برس پہلے ہو جاتا تو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی انارکی سے ملک و قوم محفوظ رہتے۔ اس وقت اندرونی اور بیرونی قوتوں نے دہشت گردی کا جو نیٹ ورک قائم کر لیا ہے اور ملکی اور قومی سلامتی کے ادارے جس طرح نشانے پر ہیں اس کی وجہ سے عالم یہ ہے :

کہ خود اپنی ہی صورت پہچانی نہیں جاتی۔

فائر وال کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے ایسے مواد کو جو ملک کے سکیورٹی پیرامیٹرز سے اختلاف رکھتا ہو موثر سائبر سکیورٹی سسٹم کے ذریعے اسے بلاک اور اس شخص کو بھی ٹریس کرنا ہوتا ہے جو ایسا مواد شیئر کر رہا ہے۔ 1994 میں چین میں انٹرنیٹ کا استعمال عام ہوا تو چائینز ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ حکومت نے انفارمیشن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکنالوجی ایکسپرٹ بٹھائے، انٹرنیٹ کمپنیوں نے اس کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک کے بہاؤ پر کچھ فلٹر انسٹال کرنے کا مشورہ دیا۔

چین نے 1998 سے 2006 تک پہلے مرحلے میں انٹرنیٹ پر فائر وال انسٹال کی اور 2013 تک دوسرا مرحلہ مکمل ہوا۔ فائر وال میں ایک چیز سب سے اہم ہے وہ ڈیپ پیکٹ انسپیکشن ( DPI ) ہے۔ انٹرنیٹ پر انفارمیشن کا تبادلہ Packets (لفافہ) کی صورت میں ہوتا ہے جس میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک پیکٹ ہیڈر اور دوسرا پیکٹ پے لوڈ۔ پہلے میں بھیجنے اور موصول کرنے والے کا ایڈریس، پروٹوکول، پورٹ اور سکیورٹی انفارمیشن ہوتی ہے جبکہ پے لوڈ میں اصل میسج یا بھیجی گئی معلومات ہوتی ہیں۔ عام طور پر فلٹر یا فائر وال میں پیکٹ کا صرف ہیڈر چیک کیا جاتا ہے اور اس پر ٹریفک رولز کے حساب سے عمل کیا جاتا ہے اس کو شیلو پیکٹ انسپکشن کہا جاتا ہے۔ میسج کے اندر کیا ہے وہ چیک نہیں کیا جاتا لیکن DPI کی صورت میں پیکٹ کا اصل میسج بھی چیک ہوتا ہے۔ ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کے لیے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں (ISPs) کے آلات میں مخصوص سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر انسٹال کیے جاتے ہیں۔ ڈی پی آئی کا مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کی جانچ سے کوالٹی کو بہتر بنانا، دشمن وائرسز اور غیر ریاستی عناصر کا کھوج لگانا ہے۔

ایک اور چیز انکرپشن ہے مثلاً وٹس ایپ، انکرپشن کا استعمال کر کے چیٹ کرنے والوں کے درمیان معلومات کو ایسے انکوڈ کرتا ہے کہ ان دونوں کے سوا کوئی اس کو پڑھ نہیں سکتا۔ انٹرنیٹ پر معلومات کا محفوظ تبادلہ انکرپشن کے ذریعے ممکن بنایا جاتا ہے۔ ابھی تک وٹس ایپ کی انکرپشن کو انتہائی محفوظ مانا جاتا ہے کیونکہ ایف بی آئی کئی بار وٹس ایپ کی کمپنی میٹا کو عدالت کے ذریعے درخواست کر چکی ہے کہ اسے انکریپٹڈ انفارمیشن تک رسائی دی جائے لیکن وٹس ایپ نے انکار کر دیا۔ ایسی محفوظ ایپلیکیشنز کا حل ان پر پابندی لگانا اور اس کی جگہ اپنی بنائی گئی ایپ لانچ کرنا ہے جس کی نگرانی آسان ہو، جیسے چین میں وی چیٹ ہے، یوٹیوب، انسٹاگرام اور سرچ انجن کے متبادل بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر ہم مزید جدت کی بات کریں تو ڈی پی آئی پرانی ہو چکی ہے اس کی جگہ انکریپٹڈ ٹریفک انٹیلیجنس لے رہی ہے جس میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کا کافی کردار ہے۔

فائر وال انسپکشن سے ملک میں انٹرنیٹ پر چلتے ٹرینڈز، مخصوص ایپلیکیشن اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص الفاظ سے مخصوص ویب سائٹس تک رسائی، اور سوشل میڈیا پر چلتے ٹرینڈ کو روک کر اور ایپلیکیشن کو سست بنا کر عوام کو ایک حصار میں بند کیا جاتا ہے۔

مشہور میڈیا ہاؤس فوربز کے مطابق پاکستان میں وی پی این کا استعمال ٹویٹر کی بندش کے بعد 400 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ جب کوئی وی پی این استعمال کرتا ہے تو اس کی ساری ٹریفک ان کرپٹڈ حالت میں وی پی این سرور کی طرف جاتی ہے۔ وی پی این کے استعمال سے بلاک کی گئی سروس کو تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے انٹرنیٹ کی کارکردگی بہت متاثر ہوتی ہے۔ فیس بک اور یوٹیوب چینل بار بار نیا آئی پی ملنے سے سپیم میں جا سکتے ہیں۔

ہمارے جیسے ملک میں وٹس ایپ یا دوسری سوشل میڈیا ایپس کو لمبے عرصے تک بند رکھنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہ کمپنی لاکھوں کروڑوں صارفین سے محروم ہو جاتی ہے۔

ملک میں ڈیجیٹل بزنس کرنے والوں اور بیرون ملک ڈیجیٹل مصنوعات ایکسپورٹ کرنے والے فری لانسرز کو اس صورتحال میں بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فائر وال شر پسند عناصر کے اس پروپیگنڈے پر بند باندھتی ہے جو حساس مذہبی مسلکی و سیاسی مواد سوشل میڈیا پر پھیلا کر لوگوں میں بے چینی پیدا کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا بہت موثر طاقت ہے جسے شر پسند عناصر بخوبی سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ آسانی کے ساتھ پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ یہ جنگ کا وہ میدان ہے جسے شر پسندوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا لیکن اس حوالے سے سکیورٹی اقدامات اٹھاتے ہوئے کروڑوں صارفین کے حقوق کا خیال بھی رکھنا چاہیے جو ان پلیٹ فارمز کو سماجی رابطوں اور اپنے کاروبار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر کام کرنے والے چھوٹے بڑے کاروباریوں اور عالمی منڈیوں میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے انٹرنیٹ کی بندش اور سست روی ذہنی اذیت اور معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔

Facebook Comments HS