کیا عمران خان واقعی پاکستان کا ہیرو ہے


اولمپک گیمز 2024 میں نیزہ بازی کے کھیل میں پاکستان کے لیے تین دہائیوں کے بعد ایتھلیٹ ارشد ندیم نے سونے کا تمغا حاصل کیا تو ملک میں سوشل میڈیا پر اصلی اور نقلی ہیرو کی بحث چھڑ گئی۔

تحریک انصاف کے کچھ ہمدردوں اور یوٹیوبرز نے عمران خان کی تصاویر لگا کر انہیں نہ صرف قوم کا اصل ہیرو کہا بلکہ یہاں تک کہا کہ اب عمران خان ارشد ندیم کا ریکارڈ توڑیں گے اور سو میٹرز کا جیولن تھرو پھینکیں گے جو سیدھا حکومت کے سینے میں پیوست ہو گا۔

اب عمرانی کلٹ سے کوئی پوچھے کہ ارشد ندیم کی جانب سے عدم سہولیات اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود اتنی بڑی اچیومنٹ پہ جب پوری قوم خوشیاں منا رہی ہے، پڑوسی ملک بھی ارشد ندیم کے کارنامے پہ دنگ ہے، اس کی جد و جہد پہ سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ کہانیاں دکھا رہا ہے وہاں قومِ یوتھ بجائے قومی ہیرو کے عظیم کارنامے کو سیلیبریٹ کرنے کے اس کی ٹرولنگ کرتا رہا اور میمز بناتا رہا۔

عمران خان قومی ہیرو ہے یا نہیں مگر ارشد ندیم قومی ہیرو ضرور ہے۔ ارشد ندیم نے انتہائی محدود سہولیات و وسائل اور مشکل حالات کے باوجود اپنی انتھک محنت لگن اور اللہ تعالیٰ کی مدد و مہربانی سے پاکستان کا نام روشن کیا اور ایک سو سالہ قدیم اولمپک ریکارڈ توڑ کر نیا ریکارڈ پاکستان کے نام کیا اور تاریخ رقم کی۔

اصل میں ہیرو کیا ہے اور کسے ہیرو کہا جانا چاہیے تو میرے خیال میں لفظ ”ہیرو“ سے مراد وہ شخص ہے جس کی ہمت، شاندار کامیابیوں، یا اعلیٰ خصوصیات کی وجہ سے تعریف کی جاتی ہے یا مثالی بنایا جاتا ہے۔ ہیروز کو اکثر رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور ان کے اعمال یا کامیابیوں کو متاثر کن، بے لوث یا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

۔ وہ شخص جس نے جان بچائی ہو یا کسی آفت کو روکا ہو۔ وہ شخص جس نے خطرے کے وقت غیر معمولی ہمت یا بہادری کا مظاہرہ کیا ہو۔

۔ کہانی، ڈرامے یا فلم کا ایک کردار جو بہادری کی خوبیوں کو مجسم کرتا ہے۔

وہ شخص جس نے اپنے شعبے میں کوئی غیر معمولی کام کیا یو، نام کمایا ہو یا پھر اپنی خصوصی پہچان بنائی ہو۔

وہ شخص کی وجہ سے اس کی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہو، جس نے اپنی قوم کو کامیابی، سربلندی اور ترقی کی راہ پہ گامزن کیا ہو۔

”ہیرو“ کی اصطلاح کو کسی ایسے شخص کی وضاحت کے لیے استعاراتی طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس نے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے مثبت اثر ڈالا ہو یا قابل ذکر طاقت یا لچک دکھائی ہو یا معاشروں میں انقلاب برپا کیا ہو۔

اب اگر عمران خان کی زندگی پہ نظر ڈالیں گے تو ان کی زندگی کے دو ادوار ہیں ایک بحیثیت کرکٹر اور ایک بحیثیت سیاستدان۔ عمران خان بحیثیت کرکٹر یقیناً ایک اچھا متوازن کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کے آئیڈیل رہے، ملک کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ مگر وہ کرکٹ ورلڈ کپ اکیلے عمران خان نے نہیں بلکہ ٹیم کے چودہ کھلاڑیوں، ٹیم اور مینجمنٹ کی اجتماعی محنت ٹیم ورک نے جیتا، مگر چونکہ عمران خان ٹیم کے کپتان تھے تو اس کا کریڈٹ وہ اکیلے لینے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔

ان کا دوسرا دور بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر ہے جو کسی صورت متاثر کن یا قابلِ فخر نہیں کہا جا سکتا۔ دوسرے لفظوں عمران خان صاحب ہیرو اس اعتبار سے نہیں ہو سکتے کہ ان کے کریڈٹ پر ایسا کوئی کارنامہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر انہیں قوم کا اصلی ہیرو کہا جائے۔

عمران خان کی طرح ملک کے قومی کھیل ہاکی، اسکواش میں ملک کو گولڈ میڈلز جتوانے اور اپنے عظیم کارناموں کے ذریعے پاکستان کو اقوامِ عالم میں ممتاز مقام دلانے والے کئی ہیروز کا ذکر کرنا لوگ بھول جاتے ہیں۔

سکواش میں ہاشم خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، قمر زمان نے پاکستان کو دنیا میں سکواش کے ٹیلنٹ سے مالا مال ملک کے طور پر روشناس کرایا۔ ان لازوال کھلاڑیوں نے ملک کو کھیلوں کی دنیا میں نہ صرف اونچے مقام پہ پہنچایا بلکہ دنیا میں سکواش کے حوالے سے ایک پہچان دلائی۔ جہانگیر خان نے مسلسل 555 میچوں میں حصہ لے کر جیت کے تسلسل کو قائم رکھ کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروایا۔ اسی طرح جان شیر خان ورلڈ اوپن سمیت برٹش اوپن اور کئی عالمی ٹورنامنٹس میں کئی سال تک ناقابلِ شکست رہے اور تاریخ رقم کی۔

اسی طرح ہاکی جو پاکستان کا قومی کھیل ہے اس کے اگر ہیروز کا ذکر کریں تو شاید کئی نام ہمیں یاد ہی نہ ہوں۔ ہاکی یقیناً اس وقت روبہ زوال ہے مگر ہاکی سے وابستہ کئی لیجنڈز جن میں حنیف خان، حسن سردار، منظور جونیئر، منصور علی، شہباز سینیئر، سہیل عباس، سمیع اللہ، کلیم اللہ، شہناز شیخ، اصلاح الدین اور ان جیسے کئی مایا ناز قیمتی ہیرے آج بھی قوم کے ہیروز ہیں جن کی وجہ سے دنیا ہاکی میں پاکستان روز روشن کی طرح چمکتا دمکتا رہے گا۔

عمران خان کا کرکٹ کیرئیر ان کی تیز ترین گیندوں اور ان کی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے شاندار رہا، وہ اپنے اسی کرکٹ کیرئیر کی وجہ سے سیاسی میدان میں بھی جا نے اور مانے گئے مگر جس طرح جھوٹ اور صرف جھوٹ کی بنیاد پہ ان کی مسیحائی، شرافت، ایمانداری اور حب الوطنی کا بیانیہ بنا کر انہیں اقتدار میں لایا گیا اور ایک ایسا گروہ تشکیل دیا گیا جس نے محض چند سال میں پاکستان کے اسلامی معاشرے کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ ملک کی اخلاقی سیاسی معاشرتی اقدار کو ملیامیٹ کر دیا اس کی مثال پاکستان کی اٹھتر سالہ تاریخ میں نہیں ملتا۔

اب جب جیولن تھرو میں پاکستان کے لیے کئی دہائیوں بعد ارشد ندیم سونے کا تمغا جیتا کر وطن لوٹے تو احساس ہوا کہ قوم کا اصل ہیرو ارشد ندیم جیسا ایتھلیٹ ہو سکتا ہے، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے اسکواش کورٹ کے چیتے ہو سکتے ہیں، ہاکی میں ٹیم کو ورلڈ کپ، اولمپک، چیمپیئنز ٹرافی جیسے ٹورنامنٹس میں کئی کئی بار وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا کرنے والے پینتھرز ہو سکتے ہیں، ظہیر عباس، یونس خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، فضل محمود، سعید انور، وقار یونس جیسے شاہین ہو سکتے ہیں مگر پاکستان کے خلاف 9 مئی کروانے والا اور دنیا بھر میں پاکستان کی رسوائیوں کا سبب بننے والا عمران احمد خان نیازی ہرگز ہرگز قوم کا ہیرو نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS