واہگہ بارڈر کی تقریب: قومی شناخت، تشدد، اور امن کی ضرورت
17 اگست 1947 کو، آزادی کے دو دن بعد ، ریڈکلف باؤنڈری ایوارڈ کا اعلان ہوا، جس نے دونوں نئے ممالک کی سرحدوں کا حتمی تعین کیا۔ ریڈکلف لائن نے شمالی ہندوستان کے صوبہ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، لاہور میں موجود اس لائن کا ایک حصہ سولہویں صدی کی اہم سڑک، گرینڈ ٹرنک روڈ سے گزرتا ہے، جہاں بھارت کی طرف اٹاری اور پاکستان کی طرف واہگہ نامی گاؤں واقع ہیں۔ جسے اٹاری واہگہ سرحدی چوکی کہا جا تا ہے۔ یہ سرحدی چوکی 11 اکتوبر 1947 کو برگیڈیئر مہندر سنگھ چوپڑا اور برگیڈیئر نذیر احمد نے قائم کی۔
یہاں اس کا نشان تین ڈھول، گرینڈ ٹرنک روڈ پر ایک چاک سے کھینچی گئی لائن، اور ایک چیک پوسٹ تھی۔ دونوں جانب کچھ خیمے لگائے گئے تھے، پہریداروں کے لیے دو چھوٹے ڈبے ہر ایک ملک کے قومی رنگوں میں رنگے گئے، اور پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک گیٹ لگایا گیا تھا۔ دونوں طرف جھنڈے لگانے کے لیے دو ستون بھی نصب کیے گئے اور اس تاریخی موقع کی یادگار کے طور پر ایک پیتل کی تختی لگائی گئی جس پر دونوں بانیوں کے نام درج تھے۔
1960 کی دہائی سے پہلے یہاں بہت سے ایسے واقعات پیش آئے جو دونوں ممالک کے بیچ کشیدگی کی وجہ بن رہے تھے۔ 1953 میں ایک ایسا واقعہ ڈھانوئی گاؤں کے قریب واہگہ میں پیش آیا جہاں سکھ گاؤں والوں نے مویشیوں کو گھیر لیا۔ دونوں طرف کی پولیس نے ایک دوسرے پر فائرنگ کے بعد پاکستانی جانوروں کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر ایوب خان کے دور میں واہگہ بارڈر سے ہونے والی ہر قسم کی تجارت کو روک دیا گیا تھا۔ 1960 کی دہائی میں شروع ہونے والی واہگہ بارڈر پر تقریب کا مقصد انہی بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کو امن میں تبدیل کرنا تھا۔ لیکن آج کل اس مقام کا دورہ کرنا بہت سے بھارتیوں اور پاکستانیوں کے لیے ایک قسم کا مذہبی فریضہ بن چکا ہے، اور واہگہ رفتہ رفتہ حب الوطنی کی ایک زیارت گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
واہگہ سرحد پر ہر روز ہونے والی یہ تقریب نو آبادیاتی دور میں جنگ کے دوران روزانہ دن کے اختتام پر جنگ بندی کا اشارہ ہوتا تھا۔ اس عمل میں متحارب فریقوں کی جانب سے ڈنڈے بجانے کی آواز پر پرچم (جھنڈے ) نیچے کیے جاتے تھے تاکہ سپاہی لڑائی ختم کر کے اپنے بیرکوں میں واپس جا سکیں اور مردوں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ لیکن اب پرچم اُتارنے کی یہ تقریب تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہتی ہے، اور سرحد کے دونوں جانب ایک جشن کا ماحول ہوتا ہے جہاں منائی جانے والی چیز قومیت یا قومی شناخت ہوتی ہے۔
لیکن یہ حب الوطنی کا جذبہ جلد ہی خطرناک علامتی تشدد میں بدل جاتا ہے، جب ایک طرف سے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور دوسری طرف سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے گونجتے ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے سے زیادہ بلند آواز میں نعرہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ؛ آوازیں بلند ہوتی جاتی ہیں اور ماحول میں تناؤ بڑھتا جاتا ہے جیسے کہ ابھی کوئی جنگ چھڑ جائے گی۔ واہگہ کی تقریب، ایک واقعہ کے طور پر، صرف مقررہ وقت اور جگہ تک محدود نہیں رہتی؛ اس کی وراثت تقسیم کے دنوں کی فرقہ ورانہ سیاست اور تقسیم کے بعد کے فرقہ ورانہ تشدد تک جاتی ہے۔
واہگہ پر قومی/فرقہ ورانہ سرحد خود ایک افسوسناک یاد دہانی ہے برصغیر کے لوگوں کی نقل مکانی اور مشکلات کے صدمات کی، اور واہگہ کی تقریب اس صدمے کے تجربے کو برقرار رکھتی ہے کیونکہ اس کی خطرناک تشدد کی کوریوگرافی دشمنی کے جذبات کو واپس لاتی ہے اور دو قوموں کے درمیان کسی بھی قسم کے میل جول کے امکانات کو روکتی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں اس طرح کے بڑھتے ہوئے خطرناک تشدد کو روکنے کے لیے ہمیں واہگہ پر امن میوزیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ امن میوزیم مختلف دوروں اور معاشروں میں کبھی نہ کبھی موجود رہے ہیں، جیسے مندر، مسجدیں، چرچ، گوردوارے، اور دوسرے عبادت گاہیں، جو امن کے مراکز کی طرح ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے تناظر میں، آشرم، گاندھی فاؤنڈیشنز، شانتی نکیتن، مذہبی مدارس، عوامی فلاحی ادارے، اور امن کی کہانیاں بھی امن کے نمونے ہیں۔ مگر، کچھ مندر، مسجدیں، اور مدارس بھارت اور پاکستان میں نفرت اور فرقہ ورانہ تشدد پھیلانے کے لیے استعمال ہوئے ہیں، اور کچھ گاندھی میوزیم بھی امن کی بجائے انتہا پسندی کو فروغ دینے پر توجہ دیتے ہیں۔
امن میوزیم بنیادی طور پر جنگ کے خلاف ہوتا ہے۔ کیوٹو میوزیم آف ورلڈ پیس کے ڈائریکٹر ایکورو انزائی کے مطابق، امن میوزیم وہ ادارے ہیں جو کمیونٹی کو امن کی اقدار سکھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

