ہجرت زدوں کے نام
ہجرت انسانی تاریخ کا وہ سیاہ دکھ ہے جس کو چند انسانوں کی حرص اور لالچ نے کشید کیا۔ ہجرت خواہ جنگوں کے باعث ہو یا اس کی وجہ معاشی ہو، اس کا کرب وہی سمجھ سکتا ہے جو کبھی اس کیفیت سے گزرا ہو جسے یہ اذیت جھیلنی پڑی ہو۔ نقش لائلپوری کہتے ہیں
درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں
سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے۔
ہجرت کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے زرعی انقلاب کے بعد ہل کی ایجاد سے پیداواری سرپلس اور پھر ملکیت سے استحصال تک کا سفر انسانوں کی نقل مکانی سے طے ہوتا رہا۔ انسان کو اپنے جیسے انسان سے آج اتنا خطرہ ہے جتنا اسے شاید کسی دوسری نوع سے کبھی نہیں، رہا ہے آج کا ”سروائیول آف دی فٹسٹ“ بین الانسان ہے۔
یوں جنگوں میں مرنے یا جنگوں کے نتیجے میں جبری بے دخل یا نقل مکانی ہو یا بھوک اور معاشی مشکلات کے باعث معاشی جلاوطنی ہو اس کے پیچھے طاقت کا وہ عدم توازن جس نے انسانوں کو طبقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ذرائع پیداوار پر دسترس حاصل کیے دن بدن طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور اسے دوام بخشنے کے لیے طاقت کے نشے میں بدمست جبر کے تمام حیلے اپنا رہا ہے جبکہ دوسرا زر کی افراط کے باوجود بھوک اور تنگدستی سے دوچار ہے ہر دن زندگی سے بیگانہ ہوتا جا رہا ہے۔
آج کے عہد میں طاقت اور سرمائے کی جنگ نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے بات سرحدی تنازعوں اور جھڑپوں سے نکل کر جنگوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور ہر دن جنگ کی آگ ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے دوسری طرف سرمائے اور دولت کا سرپلس کئی دہائیوں تک کافی ہونے کے باوجود، دنیا کی اکثریتی آبادی روٹی کے سوال سے پریشان ہے۔ 2008 کی عالمی اقتصادی مندی کے بعد آج پھر دوبارہ سے لبرل اکانومسٹس خود اس کے غالب امکان کی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس عالمی افراتفری، بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت میں ہم کہاں کھڑے ہیں، کیا چاہتے ہیں اور کس صورت اپنی بقا کو ممکن بنا سکیں گے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ڈھونڈے بغیر ہماری نجات ممکن نہ ہو گی نوجوان نسل کی اکثریت اس بات پر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قائل ہے کہ یہاں سے نقل مکانی کرنا یا معاشی طور پر خود کو جلاوطن کر دینا ہی شاید ممکنہ حل ہے اس لیے وسط ایشاء سے یورپ، اور امریکہ تک معاشی جلا وطنی کا سلسلہ پچھلے چند سالوں میں واضح طور پر بڑھا ہے اوسطا سات لاکھ لوگ سالانہ معاشی مشکلات کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں یہاں تک کے غیر قانونی طور پر نقل مکانی کی کوشش میں ہر سال سینکڑوں لوگ مر رہے ہیں۔ اور قانونی طور پر بھی مستقل ہجرت کرنے والے یا معاشی مقاصد کے لیے ہجرت کرنے والے اپنی باقی کی زندگی ایک پنڈولم کی طرح دو خطوط کے درمیان لٹکتے ہوئے گزارتے ہیں جس میں ہجر، بیگانگی اور شناختی بحران کی اذیت ہے اور ان میں سے کتنے زندگی کا اختتام خودکشی کی صورت میں کرتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں ایشاء کے ڈاکٹروں کا ہر تین ہفتے میں ایک جبکہ نرسوں کا ہر ہفتے ایک خودکشی کا واقعہ رپورٹ ہوتا ہے۔
تو آخر کیوں اس حسین مگر دلفریب خواب کی تعبیر اتنی بھیانک ہے؟ کیا ان کے اپنے ملکوں میں وسائل نہیں ہیں؟ کیا ان کی دھرتی بنجر ہو گئی ہے؟ کیا ان کے لیے اناج ناکافی ہو چکا ہے؟ یا پھر اس سب کی دستیابی سے وہ محروم ہیں یا کر دیے جاتے ہیں؟ مسئلہ وسائل کی دستیابی میں ہے یا منصفانہ تقسیم میں؟ اور یہ تقسیم کیسے اور کون ممکن بنائے گا؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا مستقبل کی بے یقینی کے خوف کی نجات ہجرت میں ہے یا سماج کی اس تعمیر میں ہے جس میں انسانوں کی بقاء ہے اب ہمارے پاس زندگی گزارنے کے دو راستے ہیں یا ہجرت کر کے جلا وطنی کی اذیت میں رہیں اور آنے والی نسلوں کو تاریک مستقبل میں دھکیل دیں یا پھر ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی تعمیر کی جدوجہد کرتے ہوئے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔


