نیکرو فیلیا (لاشوں سے جنسی عمل) کے بڑھتے ہوئے جرائم
پچھلے ہفتے جمعے کی شام 9 اگست کو کورنگی کے قبرستان میں ایک شخص جو قبرستان میں مردہ عورت سے جنسی عمل کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ پاکستان میں اس طرح کے کئی واقعات ماضی میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
اس طرح کے افراد کو نیکرو فیلیا کے مریض کہا جاتا ہے۔ نیکرو فیلیا ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس کی خصوصیت لاشوں کی طرف شدید اور مستقل جنسی کشش ہے۔ عملی طور پر تمام معاشروں میں اسے قانونی اور اخلاقی طور پر ایک مجرمانہ عمل قرار دیا گیا ہے۔
ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں مردوں نے مبینہ طور پر قبرستانوں سے خواتین کی لاشیں نکال کر ان پر جنسی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خاندانوں نے اس طرح پوسٹ مارٹم ریپ کو روکنے کے لیے اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کی قبروں پر دھاتی سلاخیں اور تالے لگا دیے۔
پاکستان میں عصمت دری کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ہر دو گھنٹے بعد ایک ریپ ہوتا ہے اور اس رحجان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نیکرو فیلیا کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسے واقعات کی ایک پریشان کن تاریخ ہے۔ جہاں خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ ، سب سے ہولناک واقعہ 2011 میں پیش آیا، جب محمد رضوان نامی ایک قبرستان کے گورکن نے 48 خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کا انکشاف کیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح کے واقعات پاکستان کے دیگر صوبوں اور شہروں میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 2013 میں، پنجاب گوجرانوالہ میں ایک 15 سالہ لڑکی کی کرنٹ لگنے سے موت کے بعد ، اس کی لاش کو قبر سے باہر نکالا گیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔
2017 میں اوکاڑہ میں ایک شخص خواتین کی لاشوں سے زیادتی کرتے ہوئے پکڑا گیا مبینہ طور پر ملزم کی شناخت اشرف کے نام سے ہوئی جسے مقامی باشندوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
2019 میں نامعلوم افراد کے گروپ نے کراچی اسماعیل گوٹھ کے ایک قبرستان سے ایک خاتون کی قبر کھود کر لاش کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
2021 میں ٹھٹھہ میں ایک 14 سالہ بچی کی قبر کشائی کے بعد بے حرمتی کی گئی۔
مئی 2022 میں، پاکستان کے پنجاب کے علاقے میں نیکرو فیلیا کا ایک ایسا ہی کیس سامنے آیا تھا جب ایک 20 سالہ معذور لڑکی کی لاش لاپتہ ہو گئی تھی۔
سال بہ سال جب پاکستان میں اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی چونکا دینے والی اور غیر معمولی نوعیت کی وجہ سے میڈیا کی خاص توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ تاہم، یہ عام واقعات نہیں انتہائی غیر معمولی ہیں۔
نیکرو فیلیا کیا ہے؟
نیکرو فیلیا ایک پیچیدہ اور نایاب عارضہ ہے، اور اس کی وجوہات پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ سکتی ہیں۔ تاہم، اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کئی نظریات تجویز کیے گئے ہیں کہ کچھ افراد میں نیکرو فیلک رحجانات کیوں پیدا ہو سکتے ہیں۔ رحجانات والے افراد کے علاج میں بنیادی نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے نفسیاتی علاج اور ہدایات شامل ہوتی ہے، بشمول تھراپی اور بعض اوقات ادویات کا استعمال بھی۔
یہ ذہنی بیماری انتہائی نایاب ہے اور اکثر دماغی صحت کے دیگر شدید مسائل سے منسلک ہوتی ہے۔
پاکستان میں ابھی نیکرو فیلیا کے کچھ کیسز جو رپورٹ ہوئے ہیں اور ایسے کئی اور کیسز بھی ہمارے نظروں سے پوشیدہ ہیں گویا نیکرو فیلیا کے اس طرح بڑھتے ہوئے کیسز بہت ہوش ربا اور پریشان کن ہیں اگرچہ ملک خداداد میں کئی ایسے گھناونے جرائم ہیں جن میں اضافہ ہوش ربا ہے لیکن نیکرو فیلیا کے یہ کیسز دنیا میں بہت کم ہیں اور اس کے پیچھے کئی نفسیاتی وجوہات ہیں۔ لیکن پاکستان میں ہونے والے نیکرو فیلیا کے کیسز دیگر ممالک کے نیکرو فیلیا کیسز سے مختلف ہیں۔
پیرا فیلیا ایک اصطلاح ہے جو کسی بھی جنسی رویے یا دلچسپی کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں مسلسل اور متواتر جنسی دلچسپیاں، خواہشات، تصورات، یا ایسا طرز عمل جن میں اشیاء، سرگرمیاں، یہاں تک کہ ایسی صورت حال شامل ہیں جو فطرت میں غیر معمولی ہیں۔ ، جس سے مراد غیر معمولی جنسی رویوں یا تحریکوں کی ایک حد ہوتی ہے جن کی خصوصیت شدید جنسی خیالوں اور خواہشات سے ہوتی ہے جو مستقل ہوتے رہتے ہیں۔ پیرا فیلک رحجانات کے حامل افراد کو ”کنکی“ یا ”خراب“ کا لیبل لگایا جا تا ہے۔
پیرا فیلیا عوارض کی آٹھ اقسام ہیں جو دنیا بھر میں رپورٹ ہوئی ہیں اور نیکرو فیلیا ان میں سے ایک قسم ہے۔
سونگھنے کو معمولی یا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ان کی خوشبو سے بیدار ہو سکتے ہیں اور اس کے بارے میں خیالی تصور کر سکتے ہیں یا اس کے ساتھ جنسی سرگرمی میں مشغول ہو سکتے ہیں۔ جس میں زندہ افراد کے کسی لاش کو دیکھنے، چھونے یا خوشبو سے۔
زیادہ تر ممالک نیکرو فیلیا کو جرم سمجھتے ہیں، اور اسے اخلاقی طور پر ناگوار اور غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ لاش کے ساتھ کسی بھی جنسی عمل میں ملوث ہونا غیر قانونی ہے اور یہ میت کے پیاروں کو جذباتی تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیکرو فیلیا کے زیادہ تر رپورٹ ہونے والے کیسز میں خواتین کی بہ نسبت مرد شامل ہوتے ہیں۔ یہ طے کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ نیکرو فیلیا کے کیس کو نفسیاتی عارضہ سمجھا جانا چاہیے یا مجرمانہ فعل۔
نیکرو فیلیا کا لفظ یونانی الفاظ نیکروز (لاش ) فیلیا ( محبت یا محسوس کرنا ) سے ماخوذ ہے۔
انیسویں صدی میں یہ اصطلاح سب سے پہلے بیلجیئم کے ماہر نفسیات جوزف گوسلین نے استعمال کی ”یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں ایک شخص مردہ جسموں میں جنسی تسکین پاتا ہے یا اس کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس سے مراد کسی لاش کے ساتھ جنسی سرگرمی میں مشغول ہونے کی خواہش ہے یا کسی سے جنسی طور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
انھوں نے اس کے پیچھے جو وجوہات پیش کیں ان میں کنٹرول اور پاور کی وجہ سے یہ افراد لاشوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور انھیں ان پر مکمل کنٹرول کا احساس ہوتا ہے، مردہ مسترد اور مزاحمت نہیں کر سکتا اور یہ احساس ان کی کم خود اعتمادی اور کم غلبہ جیسے محرکات کو سکون دیتا ہے۔
صدمہ اور نفسیاتی خلل، مریض کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور مرنے والے سے گہری وابستگی اور محبت بھی اس کی وجہ میں شامل ہو سکتی ہے۔
ہائی پروفائل کیسز کو بھی اس زمرے میں لایا جاتا ہے۔ ، ان میں اکثر مردہ خانوں، جنازہ گاہوں اور قبرستان میں کام کرنے والے افراد شامل ہوتے ہیں، جن کی میت تک رسائی زیادہ آسان ہے۔ مثال کے طور پر ، برطانیہ، سویڈن اور جرمنی جیسے ممالک میں الگ تھلگ مقدمات درج ہیں، جہاں مجرموں کے خلاف مختلف قوانین کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔
مجموعی طور پر نیکرو فیلیا کے کیس معاشرے پر بدنما داغ ہیں، ماضی میں یورپ اور دیگر ممالک میں بھی جتنے کیسز سامنے آئے ہیں ان کے بارے میں درست اعداد و شمار فراہم کرنا مشکل ہے۔ زیادہ تر واقعات ممکنہ طور پر قانونی اور ذہنی صحت کے نظام کے اندر خاموشی سے نمٹائے جاتے ہیں، تفصیلات شاذ و نادر ہی عام کی جاتی ہیں، جب تک کہ ان میں مجرمانہ کارروائی یا سنسنی خیز خبروں کی کوریج شامل نہ ہونا پریشان کن ہے، یورپ میں بھی اکثر مردہ خانے یا گورکن کے طور پر کام کرنے وا لے افراد کو ان میں ملوث دیکھا گیا ہے۔ اس عمل کو وہ اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں نیکرو فیلیا کے بہت سے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، اور جو لوگ اس طرح کے اعمال کے مرتکب پائے گئے انہیں یا تو علاج کے لیے نفسیاتی اداروں میں بھیجا جاتا تھا یا کیس کی شدت کے لحاظ سے جیل بھیج دیا جاتا تھا۔
وکٹر انٹوئن آرڈیسن اور ایوا پیرون کا کیس 19 ویں صدی سے نیکرو فیلیا کی مشہور مثالیں ہیں۔ 1937 میں ”نانکنگ کی عصمت دری“ میں جاپانی فوجیوں نے چینی خواتین کی عصمت دری اور قتل کیا، اور پھر چینی مردوں کو ان کی لاشوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے پر مجبور کیا۔
21 ویں صدی میں بھارت کے شہر نوئیڈا میں نٹھاری کیس سریندر کولی خواتین اور بچوں کا سلسلہ وار قتل اور عصمت دری کے لیے بدنام تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران کولی نے آدم خوری اور مردہ جسموں کے ساتھ جنسی تعلقات کا اعتراف کیا تھا۔
سر جان پرائس۔ 18 ویں صدی کے و یلش بیرونیٹ جس کی دو فوت شدہ بیویاں تھیں، اور انہیں اپنے بستر کے دونوں طرف رکھا۔ اپنی تیسری بیوی کی موت کے بعد بھی یہ عمل کرنے کی کوشش کی
سارجنٹ فرانسوا ریس برٹرینڈ ( 1823۔ 1878 ) ۔ جسے ”Vampire of Montparnasse کی عرفیت سے جانا جاتا ہے۔ فرانسیسی فوج میں ایک سارجنٹ تھا۔ جسے نیکرو فیلیا کا جرم مرتکب ہونے پر، ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔
وکٹر آرڈیسن ( 1872۔ 1944 ) ۔ ”ویمپائر آف میو“ کے نام سے مشہور آرڈیسن ایک فرانسیسی قبر کشائی کرنے والا اور نیکرو فیلیاک تھا، جس نے سو سے زیادہ لاشوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔
1886 ہنری جیمز بلاٹ نے متعدد لاشوں سے جنسی عمل کیا۔ ہنری جمیز بلاٹ نے اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ ”ہر آدمی اپنے ذوق کے مطابق، مشغلے اختیار کرتا ہے میرا لاشوں کے لیے ہے“۔
کارل تنزلر ( 1877۔ 1952 ) ویسٹ فلوریڈا میں میرین۔ ہسپتال سروس میں ایک جرمن نژاد امریکی تپ دق کی مریضہ کے عاشق تھے اس کی موت کے تقریباً دو سال بعد تنزلر نے اس کی لاش کو اس کے مقبرے سے نکالا، اور اسے اپنے ساتھ رکھا 1940 میں ہویوس کے رشتہ داروں اور حکام کے ذریعے اس کی لاش کی دریافت ممکن ہوئی وہ سات سال تک لاش کے ساتھ اپنے گھر میں مقیم رہے۔
یہ تمام کیسز ماضی سے تعلق رکھتے تھے، دیگر ممالک میں ان کیسز کی تعداد بہت کم تھی۔ ڈیوڈ فلر کا کیس حالیہ مشہور زمانہ کیس ہے اس نے کم از کم سو عورتوں کے ساتھ مردہ خانے میں زیادتی کی تھی، جو ہسپتال کے ٹرسٹ میں الیکٹریکل مینٹینس منیجر کے طور پر کام کرتا تھا۔
یورپ اور دیگر ممالک کے مجرمان کی اگر کیس ہسٹری اٹھائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں نوے فی صد سیریل کلر بھی ہیں۔ اس سلسلے میں وکی پیڈیا نے بھی نیکرو فیلیا کے کئی سو افراد کی لسٹ جاری کی وہ سیریل کلر بھی تھے۔
(جاری ہے)۔


