ظلم و جبر کی بدترین صورتحال میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی الیکشن کی حیثیت


مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی کے الیکشن ایسی صورتحال میں کرانے کا اعلان کیا گیا ہے کہ جب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پر امن، منصفانہ طور پر حل کرنے کا مطالبہ کرنے والی تمام آزادی پسند جماعتوں کے رہنما مختلف الزامات میں سالہا سال سے جیلوں میں قید ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ہٹ دھرمی، دھونس کی مخالفت اور مذمت کرنے پر گرفتار اور قید کر دیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جس پر مخالفانہ بات کرنے کا شک بھی ہو، اسے بھی گرفتار کے کے جیل میں قید کر دیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں کو بھارت کی دور دراز علاقوں کی جیلوں میں بری حالت میں قید رکھا گیا ہے۔ آزادی کی مزاحمتی تحریک میں شامل افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا سیاہ قانون نافذ کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد رہائشی، کمرشل عمارات اور اراضی مستقل طور پر ضبط کی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ دس لاکھ کے قریب بھارتی فوجیوں، نیم فوجی دستوں کو نہتے کشمیریوں کے خلاف حالت جنگ کی طرح متحرک کرتے ہوئے کشمیریوں کو بندوق کی نوک پہ رکھا گیا ہے۔ خود بھارتی میڈیا اور عالمی اداروں و تنظیموں نے کشمیریوں کو بندوق کی نوک پر خاموش رکھنے کی صورتحال کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جموں کے پہاڑی اضلاع میں کشمیریوں کی مسلح مزاحمتی تحریک میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور ان کے مختلف حملوں میں متعدد افسران سمیت 60 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی اسمبلی کی 90 سیٹوں کے الیکشن تین مراحل میں 18 ستمبر، 25 ستمبر اور یکم اکتوبر کو کرائے جائیں گے۔ پولنگ کے پہلے مرحلے میں 18 ستمبر کو پلوامہ، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، رام بن، کشتواڑ اور ڈوڈہ میں 24 سیٹوں پر الیکشن کرائے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں 26 سیٹوں پر 25 ستمبر کو گاندربل، سرینگر، بڈگام، پونچھ، ریاسی اور راجوری اور یکم اکتوبر کو آخری مرحلے میں 40 سیٹوں پر بانڈی پورہ، کپوارہ، بارہمولہ، ادھم پور، جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں الیکشن ہوں گے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی کی نشستوں کی مجموعی تعداد 119 ہے۔ ان میں سے پانچ کو نامزدگی کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے جب کہ 24 نشستیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔

5اگست 2019 کے اقدام کے بعد گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وفاقی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے کئی قوانین میں ترمیم کی ہے اور متعدد ایسے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے اختیارات میں مزید کمی آ گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر وفاق کا زیرِ انتطام علاقہ رہے گا وہ اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ جمعے کو جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوا تو مرکز کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سوا مقبوضہ کشمیر کی تمام بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق و زیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جانا چاہیے تاکہ قانون سازی کے اختیارات مکمل طور پر ریاستی اسمبلی کو لوٹائے جا سکیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت جموں و کشمیر کے لیے قوانین بھارتی پارلیمان میں بنائے یا ترمیم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے لیے سالانہ بجٹ نئی دہلی میں پارلیمنٹ میں پاس ہوتا ہے اور دیگر اہم انتظامی فیصلے بھی یا تو وفاقی حکومت کرتی ہے یا حکومت کا مقرر کردہ لیفٹننٹ گورنر اس کا مجاز ہوتا ہے۔

مقبوضہ جموں، کشمیر و لداخ اسمبلی کے آخری انتخابات 2014 میں ہوئے تھے جبکہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم اور ریاست کو بھارت کی مرکزی حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے طور پر جموں و کشمیر اور لداخ کے دو الگ حصوں میں تقسیم بھی کیا گیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی اسمبلی کے الیکشن 10 سال کے بعد کرائے جا رہے ہیں۔ 19 جون 2018 کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت سے تنگ آ کر اپنی حکومت ختم کردی تھی، اس پر بھارتی گورنر نے بھارتی حکومت کی ایماء پہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بجائے گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں ( جموں وکشمیر اور لداخ) میں تقسیم اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت دے دی تھی۔ اس اقدام کے لئے بھارتی حکومت نے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں تین لاکھ سے زائد سیکورٹی فورسز بھارت سے مقبوضہ کشمیر متعین کی جہاں پہلے ہی تقریباً دس لاکھ فوج متعین تھی۔ بھارتی حکومت نے اس اقدام سے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی، سماجی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں کو قید کر دیا جو ایک سال سے زائد عرصہ قید میں رہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں 1986۔ 87 میں آزادی پسند جماعتوں کے اتحاد مسلم متحدہ محاذ نے اس عہد کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا کہ الیکشن میں کامیابی اور حکومت کی تشکیل کے بعد مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی بھارت سے الحاق کی نام نہاد قرار داد کو ختم کر دیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر کے نوے فیصد شہری مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم پہ متحد ہو گئے۔ کشمیریوں کی مسلح مزاحمتی تحریک کی تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے موجودہ سربراہ سید محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین مسلم متحدہ محاذ کے ایک امیدوار تھے اور یاسین ملک سمیت مسلح مزاحمتی تحریک کے کئی کمانڈر ان کے باڈی گارڈ تھے۔ بھارتی حکومت نے اس الیکشن میں بدترین دھاندلی کرتے ہوئے مسلم متحدہ محاذ کے امیدواروں کو الیکشن میں ہروایا اور بھارت نواز جماعت کے امیدواروں کے کامیاب ہونے کا اعلان کرایا۔ اس پہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی سیاسی تحریک شروع ہو گئی اور بھارت کے خلاف لاکھوں کے جلوس، مظاہرے اور جلسے ہونے لگے۔ اس پہ بھارتی حکومت نے فورسز کے ظالمانہ استعمال سے کشمیریوں کو دبانے کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس صورتحال میں کشمیریوں نے بھارت کے خلاف سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مسلح مزاحمتی تحریک بھی شروع کر دی۔ کشمیریوں کی یہ تحریک اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ حل کے مطالبے کے ساتھ بھارت کے خلاف تحریک شروع ہوئی جو گزشتہ 38 سال سے مسلسل جاری و ساری ہے۔

اس دوران اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے ہر علاقے میں شہداء کے قبرستان قائم ہوئے، مختلف علاقوں میں کشمیریوں کی سینکڑوں اجتماعی قبریں ہیں جنہیں بھارتی فوج نے شہید کرنے کے بعد انہیں خفیہ طور پر اجتماعی قبروں میں دفن کیا، بڑی تعداد میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پیش آئے جس میں کننپوش پورہ کا واقعہ بھی شامل ہے جس میں کننپوش پورہ نامی گاؤں کا بھارتی فوج نے محاصرہ کرتے ہوئے سات سال کی معصوم بچی سے لے کر ستر سال کی ضعیف خاتون کی عصمت دری کی، ہزاروں بھارتی تشدد سے معذور، ہزاروں ٹارچر سیلز اور ہزاروں جیلوں میں قید کیے گئے، بھارتی فورسز کے ہاتھوں اجتماعی قتل عام کے درجنوں واقعات پیش آئے۔ بھارت کے ان انسانیت سوز بھیانک مظالم، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے مسلسل سلسلے کے خلاف اقوام متحدہ، عالمی تنظیموں سمیت کئی یورپی ملکوں کی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔

بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے اقدام کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر اور مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پہ متنازعہ حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ اپنی فوجی طاقت کے بھر پور اور ظالمانہ استعمال سے حل کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیموگرافک چینجز کے ذریعے مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کے مرحلہ وار منصوبے پر عمل بھی کر رہی ہے۔ کشمیر میں شہریوں کے خلاف متعدد غیر منصفانہ، غیر انسانی قوانین اور فورسز کے ظالمانہ استعمال سے بندوق کی نوک پر خاموش اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ بھارت جس طرح مسئلہ کشمیر، کشمیر کے عوام کی رائے دہی سے حل کیے جانے کے اقوام متحدہ، عالمی برادری سے کیے گئے اپنے عہد سے مکر گیا۔ پھر بھارت نے کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے پر امن اور منصفانہ طور پر حل کرنے کا عہد کیا لیکن پھر مختلف بہانے بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتا آ رہا ہے۔ عالمی برادری سے بھی بھارت یہی کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے حل کیا جائے گا لیکن بھارت کے اس عہد کو بھی پچاس سال ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارت ظلم و جبر، قتل و غارت گری، سیاسی و دیگر سازشوں کا ہر حربہ استعمال کرنے کے باوجود کشمیر کو ہتھیانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے لیکن بھارت اپنی بڑی فوجی طاقت کے زعم میں کشمیر کا مسئلہ بندوق کی نوک پر حل کرنا چاہتا ہے۔ آزادی کے لئے کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک عشروں سے، نسل در نسل جاری ہے۔

Facebook Comments HS