ڈاکٹر مومیتا کیس۔ پاکستانی سماج کا المیہ


dr tehreem javaid

مرد نا بڑی پیاری چیز ہے۔ آپ اس کی ایک سنو نا، وہ دس سنے گا۔
دو ٹکے کی عورت۔
سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔

یہ اور اس سے ملتے جلتے جملے آپ نے اکثر سنے ہوں گے۔ #NotAllMen جیسے ٹرینڈ بھی کوئی پرانی بات نہیں ہیں۔ بھارت میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہوا واقعہ سامنے آیا تو پاکستان کے بھی کئی ایسے واقعات یاد آ گئے۔ سرجری کی ہاؤس جاب میں اکثر سینئر پی جی آرز رات کے آخری پہر جب رش کم ہو جاتا تھا تو فیمیل ڈاکٹرز کو وارڈ بھیج دیا کرتے تھے اور یہ ہدایت بھی تھی کہ ایمرجنسی کے سوا جب تک کوئی اور ڈاکٹر دروازہ نا بجائے، رات کو دروازہ نہیں کھولنا۔ میل ڈاکٹر ہی دیکھے گا۔ اس لیے یہ بھاشن کہ پاکستان میں سب اچھا ہے بالکل ہی جھوٹ ہے۔

ڈاکٹر مومیتا کیس کے حقائق ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ لیکن ریپ کو جتنا آسان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دیکھ کر گھن آتی ہے۔ سینکڑوں پوسٹ مارٹم کیس رپورٹ کرنے کے بعد میں یہ دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ جنسی زیادتی کے کیسز میں بھی یہ ایک بہت ہی غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس قدر اذیت کے ساتھ مارا گیا ہے کہ تصور بھی محال ہے۔ اس سے کچھ دن پہلے چکوال کا ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔ جس میں دو بچوں کی ماں کو تشدد کر کے شوہر نے مار ڈالا تھا۔ وجہ بدچلنی بنائی گئی تھی۔ تو پاکستان ہو یا بھارت۔ گندگی کا درجہ مختلف نہیں۔

اصل فرق یا تکلیف جس بات کی محسوس ہوتی ہے وہ عورت کے بارے میں اس سماج کا رویہ ہے۔ آپ کوئی پوسٹ کر کے دیکھ لیں ایک درجن لوگ آ جائیں گے کہ جی ہمارے گھر تو سب اچھا ہے۔ آپ عورتوں کا دماغ خراب کرتی ہیں۔ پھر یہ سب جرائم کون کر رہا ہے۔ کیا عورتیں؟ مسئلے کا آغاز تب ہوتا ہے جب مار پیٹ کی تاویل کی جاتی ہے اس کی زبان بہت چلتی ہے اس لیے مار کھاتی ہے۔ نہیں۔ اس کا جرم عورت ہونا ہے ورنہ زبان کیا ہاتھ بھی چلاتی تو نردوش رہتی۔

ایک استاد نے ایک بار بتایا بیٹا اس سماج میں شریف وہ ہے جسے موقعہ نہیں ملا۔ اس جملے کی سچائی بار بار سامنے آئی۔ یہاں بات صرف موقع مل جانے کی ہے۔ مومیتا کی تصویروں کے نیچے بھی کمنٹ کیا جاتا رہا ہے کہ کاش میں بھی مزہ لے لیتا۔ کیا لطف ہے کسی بے بس پہ طاقت دکھانے کا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی جگہ عورت کی عزت کر پانے کے قابل نہیں ہوتے۔ نا گھر میں نا باہر کوئی عورت ان کو منہ نہیں لگاتی ہے۔ مزہ یہ زبردستی ہی لے سکتے ہیں۔ یہی فینٹسی ان کے دماغ میں رہتی ہے۔

رنڈی گشتی کہنے والے انہی رنڈیوں کے ساتھ سونے کو بے چین ہوتے ہیں۔ نا یقین آئے تو کسی بھی پاکستانی اداکارہ کے انسٹا پہ کمنٹس دیکھ آئیں۔ کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ یہ تو لازمی ملے گا۔ کمال یہ ہے کہ وہ اداکارائیں جب سامنے نظر آئیں گی تو چھونے کے لیے مر رہے ہوں گے۔ یہ منافقت مذہبی شدت پسندی کی دین ہے۔ جہاں مذہبی علماء حوروں کی لمبائیاں بتاتے ہیں تو کبھی انہی اداکاراؤں کو سیدھی راہ دکھانے کا وعدہ کرتے فوٹو بنواتے ہیں۔ لیکن پاکباز کے پاکباز ہی رہتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے سگریٹ پینے سے مرد کا پھپھڑہ اور عورت کا کردار خراب ہوتا ہے۔

عورت اور مرد کا تعلق اتنا متنازع اتنا کراہت آمیز بنا دیا گیا ہے کہ پاک و ہند کے نوجوان عورت کے ساتھ کوئی بھی صحت مند تعلق بنانے کے قابل نہیں رہے۔ کمال یہ ہے کہ اس سب بندوبست کے بعد بھی معاشرے کی اخلاقیات ٹھیک نہیں ہو رہیں۔ یہ مسائل تو زمانہ از قبل انٹرنیٹ بھی موجود تھے۔ تو اب کیسے غائب ہو سکتے ہیں۔

گھریلو تشدد کا یہ حل پیش کیا جاتا تھا کہ بچی کو پڑھا لکھا کہ اپنے قابل بناؤ۔ نور مقدم۔ سارا انعام۔ ڈاکٹر مومیتا کے بعد یہ غلط فہمی بھی دور ہو جانی چاہیے۔ کیا کام کی جگہ بھی غیر محفوظ ہے۔ جی بالکل ہے۔ ایمرجنسی جہاں انسان آتا ہی شدید تکلیف میں ہے وہاں بھی اپنی عورتوں کی تکلیف بھول کر پاکستانی مرد ڈاکٹروں کی تکلیف میں اضافہ کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔

ریپ تو جی مغرب میں بھی ہوتا ہے۔ ایک بیانیہ۔ ہوتا ہے لیکن اتنے فخر کا اظہار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص پہ معاشرہ تھوکتا ہی ہے۔ ہلا شیری نہیں دیتا۔ امریکی صدارتی انتخاب میں کھڑے شخص کے بارے میں بھی کوئی عورت کہہ دے کہ دس سال پہلے زیادتی کی تھی تو سارے کیریئر کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ یہاں ایسا تصور بھی کیا جا سکتا ہے کیا۔ زیادہ تر کیسز میں مرد کو ہشیاری آ گئی تھی کہہ کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ اکا دکا کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ پھر فورینزک جانچ میں سیمن مل جائے، میچ بھی ہو جائے، جس کے لیے تین دن کے اندر سیپمل بچانا ضروری ہوتا ہے تو بھی عدالتوں کو شواہد نا کافی لگتے ہیں۔ مغرب سے موازنہ آپ کا بنتا نہیں ہے۔

ضرورت صرف قانون سازی کی نہیں ہے۔ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ غلط کو کم سے کم غلط تو سمجھیں۔ اتنے پاکستانی مرد اچھے ہوتے تو باقی دنیا کی طرح یہاں بھی عورتیں باہر نظر آتیں۔ پختونخوا اور پنجاب میں عورت کو گھر میں تالہ لگانے کی شدت پسندی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ باہر صرف دو کلو کا برقعہ لپیٹ کر جا سکتی ہیں کیونکہ خطرہ ہے نا باہر۔ کس سے۔ مردوں سے جو بہت اچھے اور پیارے ہیں۔ کسی بھی وقت جھپٹ سکتے ہیں۔ اتنے پردے کے بعد بھی غیر محفوظ ہیں تو مسئلہ تو کہیں اور ہوا۔ لیکن مسئلے کو ماننے کی بجائے ہمیں اسے چھپانا ہے۔ یہاں صرف عورت نہیں بچے اور لڑکے بھی غیر محفوظ ہیں۔

ہمارے طارق جمیل جب تک بہن بیٹی کے جائیداد میں حصے کی بجائے حور کی لمبائی فیتہ لے کر ناپتے رہیں گے عورت پر جھپٹنے کی خواہش دم نہیں توڑے گی۔ یہاں عمران ریاض مرنے والی نور مقدم کی کیا کیا غلطی تھی وہ کرنے کیا گئی تھی اس پہ روشنی ڈالتے ہیں تو کولکتہ کے مرد عورتیں مومیتا کو انصاف دلوانے باہر نکلتے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے۔

Facebook Comments HS