آغا شورش: وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں


آغا شورش کاشمیری بلا شبہ وہ نابغہ روزگار شخصیت ہیں جب تک وہ زندہ رہے انہوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا علم تھامے رکھا۔ انگریز کا عہد ہو یا اس کے بعد انگریز کے کاسہ لیسوں کا دور انہوں نے جو عقوبتیں برداشت کیں ان کا تذکرہ پڑھتے ہوئے انسان کا پتہ پانی ہوجاتا ہے۔ شورش ان لوگوں میں سے ہیں کہ :

”جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں“ ۔

”موت سے واپسی“ انہی کی 240 صفحات پر مشتمل تصنیف ہے جس میں ان کی 232 دن کی اسیری کی ان صعوبتوں کی داستان ہے جو انہوں نے جرات اور دلیری سے برداشت کیں۔ اس کوہ استقامت نے عزیمت کی ایسی نادر مثال قائم کی جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ ”موت سے واپسی“ نہایت دلچسپ کتاب ہے جس کو پڑھتے ہوئے شورش کی حمیت اور ظلم و سفاکیت کے خلاف ڈٹ جانے کی اسلاف کی رسم تابندہ کی جھلک ملتی ہے۔ علامہ عبدالستار عاصم نے یہ کتاب ارسال کی جو ان کے ادارے قلم فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے۔ انہوں نے یہ نوید جانفزا بھی سنائی ہے کہ وہ شورش کی تمام تصانیف دوبارہ شائع کریں گے۔ کتاب کی متروکیت کے دور میں کتابیں شائع کرنا خاصا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اللہ انہیں ہمت و استقامت دے۔

دنیا کا نظام ہی ایسا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جنہیں زمانہ شوق سے سن رہا ہوتا ہے وہ داستاں کہتے کہتے سو جاتے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان کے بعد اردو ادب و صحافت میں آغا شورش ایسی شخصیت پیدا نہیں ہوئی۔ شورش کو زمانے نے وہ مقام عطا نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ ترقی پسند تحریک کی اردو ادب کی خدمات اپنی جگہ مگر اس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آغا شورش کاشمیری جیسے بڑے ادیب ان کی نظریاتی تیر افگنی کا شکار ہوئے۔ حالانکہ ان کے پائے کی خوبصورت نثر لکھنے والے ہمارے ہاں شاید چند لوگ اور ہوں۔ شورش کی نثری تصانیف ایک درجن سے زیادہ ہیں۔

ظلم کے خلاف بغاوت شورش کی سرشت تھی، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ شورش کو شب عروسی کے موقع پر انگریز پولیس نے گرفتار کر کے زنداں میں ڈال دیا۔ شورش نے جو اذیتیں سہیں ان کے تصور ہی سے دل کانپ جاتا ہے۔ دی جانے والی اذیتوں میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے منہ پر غلاظت باندھ دی جاتی تھی لیکن یہ مرد حر انگریز کے خلاف اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ قیام پاکستان کے بعد اس نابغہ روز گار شاعر، ادیب اور صحافی نے عوام کے نئے آقاؤں کے خلاف مورچے لگائے اور اس کے نتیجے میں انہیں قید و بند کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس قید کے دوران انہیں شوگر، بلڈ پریشر اور دوسرے امراض لاحق ہوئے اور ان موذی امراض نے انہیں ہم سے بہت جلد جدا کر دیا۔

پاکستان کے پہلے فوجی آمر ایوب خان کے خلاف شورش نے صدائے احتجاج بلند کی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، انہوں نے ایک موقع پر بھوک ہڑتال کی۔ یہ ایوب خان کے آخری دن تھے اور بھٹو اعلان تاشقند کے حوالے سے ایوب خان کے خلاف مورچہ لگا چکے تھے۔ شورش کی حالت بگڑنے لگے حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے وارننگ دے دی کہ اگر یہ بھوک ہڑتال ختم نہ ہوئی تو شورش کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس پر شورش کے دوستوں اور مداحوں نے بڑی کوشش کی کہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں مگر وہ نہ مانے۔ دوستوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ وہ شورش کو ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کریں۔ بھٹو نے کہا شورش کو مر جانے دو اس کی موت سے تحریک زور پکڑے گی۔ سیاست شاید اتنی ہی سفاک ہوتی ہے مگر ادب کو تو اتنا سفاک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی جینوئن شخص کو محض دھڑے بندی کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دے۔ شورش جیسے لوگ مرا نہیں کرتے وہ صورت خورشید جیتے ہیں ”ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے“ کے مصداق جلد یا بدیر ابھر کر سامنے آ جایا کرتے ہیں۔ ایوبی آمریت میں رہائی ملی تو ”موت سے واپسی“ میں لکھتے ہیں کہ میں نے رہائی کے فوراً بعد چٹان کی ادارت سنبھالتے ہی ”کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے“ کے زیر عنوان اداریہ میں لکھا تھا کہ

1۔ میں قلم کو ہمیشہ ضمیر کی آواز پر اٹھاتا ہوں، لہذا کسی لفظ پر اس لحاظ سے ندامت نہیں ہوتی کہ اس میں کوئی مخفی اشارہ ہے یا اس پر کسی اور کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

”صدر ایوب کیا کریں“ کے متعلق صدر کو فسانہ سازوں نے یہ تاثر دیا تھا کہ اس اداریہ کے محرک ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان تھے اور ان کی سبکدوشی کی چارج شیٹ میں ایک جرم یہ بھی تھا۔

2۔ کسی ماں نے آج تک وہ بچہ ہی نہیں جنا جو میرے قلم و زبان کو خرید سکے میرے نزدیک قلم فروشی عصمت فروشی سے کم نہیں بلکہ اس سے بھی قبیح اور مکروہ ہے۔ قدرت نے قلم اس لیے نہیں دیا کہ بیچا جائے، اس سے بہتر ہے کہ ہاتھ شل ہو جائیں زبان اس لیے نہیں بخشی کہ مرہون غیر ہو، ایسی زبان پر فالج گر جائے تو خدا کا احسان ہے۔

3۔ میں نے جو کچھ لکھا وہی لکھا جو خود محسوس کیا، میں زبان و بیان میں ٹھوکر کھا سکتا ہوں لیکن ضمیر مطمئن رہتا ہے کہ آواز اس کی اپنی ہوتی ہے وہ لوگ جو قلم کا کاروبار کرتے ہیں میں انہیں شرالدواب عند اللہ سمجھتا ہوں، میرے نزدیک وہ تمام ادیب، شاعر، صحافی، واعظ، مقرر اور خطیب بالا خانوں کی مخلوق ہیں جنہوں نے جوہر قلم اور جوہر زبان کو بازار کی جنس بنا دیا ہے اور جن کا خیال ہے کہ انہیں دربار کی چوکھٹ پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے، تاریخ میں اسی کا نام عبرت ہے۔

4۔ چٹان یکم جنوری 1948 ء کو نکلا تھا، شروع سال 1949 ء سے باقاعدہ ہو گیا، آج اس کو 19 سال ہوتے ہیں اس پہلی تاریخ سے اس کا بیسواں سال شروع ہو گیا ہے، پہلے دن بھی اس کا طغرائے امتیاز یہی تھا کہ جس بات کو حق سمجھو اس کو بے کم و کاست کہہ ڈالو آج بھی اس کا شیوہ افتخار یہی ہے کہ حق کا ساتھ دو ، خواہ وہ مسجد کے فرش پر ہو یا میکدہ کی چوکھٹ پر ، ہم اجتماعی طور پر ذاتی حیثیت سے جو محسوس کرتے ہیں وہ حوالہ قلم کرتے ہیں، کوشش یہی ہے کہ کلمۃ الحق کی پشت بانی ہو، اس کے لیے ہم نے ماضی مرحوم سے لے کر اب تک بے شمار صعوبتیں اٹھائی ہیں اور جو کچھ حاصل کیا وہ قوت بازو سے حاصل کیا، اس پر آج تک کسی دوسرے کے انعام و احسان کی مہر نہیں لگی، صرف اللہ تعالی کا لطف و کرم شریک حال رہا ہے چٹان کسی تنظیم کا پرچہ نہیں، نہ مستعمل معنوں میں وہ کسی مکتب خیال کا نمائندہ ہے یا اس کے حلقے بگوشوں میں ہے وہ ایک آزاد خیال ہفتہ وار ہے جس کا دل لوگوں کے دلوں کی اجتماعی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، اس کا ہمیشہ ہی وہ شعار رہا ہے کہ سیاسی مجاوروں، ادبی نٹ کھٹوں، شرعی جیب تراشوں اور مجلسی تضدروں کا پردہ چاک کیا جائے، قیمت اس کی خواہ کچھ ہی ادا کرنی پڑے۔ جب تک ان لوگوں کا وجود باقی ہے اور چٹان بفضل تعالیٰ زندہ ہے سیاسی عجائب گھروں کی مورتیوں، ادبی بتکدوں کے کھلونوں، منبر و محراب کے آوارہ مصرعوں اور مجلسی روز بازار کے مہنتوں کی باز پرس جاری رہے گی۔ ”ٹوٹ تو سکتے ہیں لیکن ہم لچک سکتے نہیں۔“

5۔ جس دن چٹان نہ رہا اور اس کے ایڈیٹر کا سفر دنیا پورا ہو گیا۔ اس دن یہ تعاقب بھی ختم ہو جائے گا اللہ کی کائنات کسی بھی انسان کی محتاج نہیں لوگ اپنا اپنا سفر پورا کر کے دارالبقا کو پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں ہر شخص یکساں ہے اور اپنے اعمال و افکار کے لیے جواب دہ۔ البتہ ان کی جو اب دہی ذرا زیادہ سخت ہوگی جو مخلوق خدا کے اجارہ دار تھے لیکن مخلوق خدا ہی کی تجارت کرتے تھے۔

جب تک دریاؤں میں پانی بہتا ہے، پہاڑوں کی سینے تنے ہوئے ہیں، سورج نکلتا ہے، ستارے چمکتے ہیں، چاند دمکتا ہے، ہوائیں چلتی ہیں، کائنات قائم ہے خدا کا نام لیا ہی جائے گا، آزادی کی حفاظت کی جائے گی، جنگ کے دنوں میں ملک کی اور امن کے دنوں میں ضمیر کی، زندہ قوموں کا یہی شعار رہا ہے کہ وہ دشمن سر پہ ہو تو اپنے ملک کی حفاظت کرتی ہیں اور زمانہ امن میں اپنے حقوق کی، ان کے حقوق کی بحالی کا نام ہی قومی آزادی ہے۔ انسان فانی ہے نہ کسی انسان کی مصیبت ہمیشہ رہتی ہے نہ اقتدار۔

شورش کاشمیری کا اپنا شعر ہے :

قیامت آ رہی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے
خدا کو اپنی دھرتی کے نگہبانوں سے شکوہ ہے۔

انہوں نے اپنی موت سے قبل جو الفاظ لکھے وہ آغا شورش کاشمیری جیسا انسان ہی لکھ سکتا ہے جس نے کانٹوں بھرے راستے پر صبر و استقامت کے ساتھ سفر کیا۔ کسی اور میں یہ جرآت رندانہ کہاں؟ ملاحظہ فرمائیں۔

”میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد وہ شخص مجھے غسل دے جس نے منبر و محراب کی عظمت کو داغدار نہ کیا ہو جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہو۔“ ”مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو“ ۔ ”مجھے وہ اشخاص کندھا دیں جو ظلم و جور کے خلاف لڑتے رہے“ ۔ ”میرا قلم اس شخص کو دیا جائے جو اس کو تیشہ کوہ کن بنا سکے جس کو لہو سے لکھنے کا سلیقہ آتا ہو“ ۔ کوئی حکمران میری قبر پر فاتحہ نہ پڑھے۔

Facebook Comments HS