خواجہ سراؤں کے لیے تعلیم: کیا خیبرپختونخوا میں یہ ممکن ہے؟
پاکستان میں خواجہ سراؤں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بنیادی انسانی حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہیں جنسی، جسمانی، نفسیاتی اور سماجی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں، پدرشاہی نظام، مضبوط مذہبی عقائد، ثقافتی اصول اور اقدار کے ارد گرد بنایا گیا معاشرہ یہ بتاتا ہے کہ خواجہ سراء افراد کو اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ یہ ان کے خاندان کی طرف سے کیے گئے اہم فیصلوں سے شروع ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے اولاد کو خواجہ سراء کی شکل میں قبول کریں یا انہیں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
یہ کسی بھی خواجہ سراء کی زندگی میں مشکل لمحات ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ، یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پسماندہ برادری کو تعلیم، تحفظ اور مدد فراہم کرے۔ تاہم، ایک ایسے ملک میں جہاں قانون ساز اکثر مذہبی جنونی کی نگاہ سے پالیسیوں کو دیکھتے ہیں وہاں پر خواجہ سراؤں کے بنیادی انسانی حقوق کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی اور انہیں دیگر شہریوں کے برعکس نظر انداز کیا جاتا ہے۔
خواجہ سراؤں کے سب سے اہم حقوق میں سے ایک تعلیم ہے تاہم انہیں انتہائی کم تعلیمی سہولیات فراہم کیے جاتے ہیں۔ جس کے باعث شعور اور آگاہی نہ ہونے کے وجہ سے وہ اپنے حقوق کے لئے موثر طریقے سے آواز نہیں اٹھا پاتے۔ پشتون آبادی والے صوبہ خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جہاں ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔
یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، خیبرپختونخوا میں 2015 سے 2023 تک 2000 سے زائد خواجہ سراؤں کو جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 93 خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا پولیس کے رپورٹ کے مطابق 2023 میں پشاور میں جسمانی تشدد کے 27 واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں 4 خواجہ سراؤں کو قتل جبکہ 14 زخمی ہوئے۔ اسی طرح سال 2024 میں اب تک آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے جس میں ایک خواجہ سراء قتل جبکہ 9 کو زخمی کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار خواجہ سراؤں سے متعلق بگڑتی ہوئی حالات کو عیاں کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی خواجہ سراء کمیونٹی کی صدر آرزو خان بتاتی ہیں، ”حکومت کی جانب سے ہمارے بنیادی انسانی اور شہری حقوق پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہمارے لیے اہم مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم، تحفظ اور سماجی مدد کی ناکافی ہونے کی وجہ سے، ہمیں نشانہ بنانے کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے اگر حکومت حفاظتی پناہی گاہیں تعلیمی ادارے اور ہنر مندی کے مراکز مہیا کرے تو ہمارے لئے مختلف پیشوں کے لیے دروازے کھل جائیں گے اور ایک ترقی پسند معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے خواجہ سراؤں کے لیے ایک بھی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا۔ اس کے برعکس، صوبہ پنجاب نے امید کی کرن نوید سنائی ہے۔ جہاں پر خواجہ سراؤں کے لیے 2021 کے بعد سے آٹھ اسکول تیار کیے گئے ہیں جو تعلیم کے ساتھ خواجہ سراؤں کو مختلف ہنر بھی سکھاتے ہیں۔ یہ سکول پنجاب کے آٹھ مختلف ڈویژنوں میں واقع ہیں : ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، اور سرگودھا، یہ سب محکمہ تعلیم، پنجاب کے زیر انتظام ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملتان کو دنیا کا پہلا ٹرانسجینڈر اسکول بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔
علیشہ شیرازی، پی ایچ ڈی سکالر اور ملتان ٹرانسجینڈر سکول کی لیکچرر بتاتی ہیں کہ، ”ملتان ٹرانسجینڈر سکول میں 112 خواجہ سراء تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ دیگر سکولوں میں بھی 700 سے زائد طلباء نے اجتماعی طور پر داخلہ لیا ہے۔“ علیشا پر امید ہیں کہ یہ سکول خواجہ سراء برادری کے بارے میں سماجی تصورات کو تبدیل کر رہے ہیں۔ مزید برآں، علیشا کو توقع ہے کہ یہ اسکول بالآخر خواجہ سراء افراد کو مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں مہارت حاصل کرنے، معاشی طور پر مستحکم ہونے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے قابل بنائیں گے۔
علیشہ پر امید ہے کہ یہ اسکولز خواجہ سراء افراد کے لیے مساوات کا ایک معیار قائم کرے گا اور ریاست خواجہ سراؤں کو دیگر شہریوں کی طرح حقوق فراہم کرے گا۔ ان اسکولز کے بننے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے میں کسی بھی طبقے سے منسلک منفی رویوں اور سوچ کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
آرزو خان اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت کو خواجہ سراؤں کے لیے تعلیمی ادارے، حفاظتی پناہ گاہیں اور ہنر مندی کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے، جو کہ صنفی مساوات اور ان کے بنیادی حقوق کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
اگر خیبرپختونخوا حکومت بھی پنجاب کی طرح خواجہ سراؤں کے لیے اسکولز بنائے اور ان کے لئے ہنر مندی کے فروغ کے مراکز اور حفاظتی پناہ گاہیں تیار کرے تو یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہو گا۔ یہ نہ صرف خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق فراہم کرے گا بلکہ ان کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرے گا اور انہیں ہمارے معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر مربوط کرے گا۔ تاہم، اس کے لیے قانون سازوں اور پالیسی سازوں کی جانب سے ایسے ترقی پسند فیصلوں پر قدامت پسند عناصر کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اہم کوششوں کی ضرورت ہوگی، جس سے ایک ایسے معاشرے کو فروغ ملے جہاں تشدد کا خاتمہ ہو اور امن، ہم آہنگی اور محبت پروان چڑھے۔


