ناول گمشدہ میراث از گلزار ملک کا تجزیاتی مطالعہ
فیصل آباد میں اردو زبان و ادب کی قابل و معتبر شخصیات نے اپنی منفرد اور الگ پہچان بنائی ان میں سے ایک قابل شخصیت گلزار ملک ہیں۔ فیصل آباد میں اردو فکشن میں اپنا نام اور پہچان بنانے میں انہوں نے نہایت لگن اور محنت سے اپنے شوق کو پروان چڑھایا۔ گلزار ملک کی پیدائش کے وقت اُن کا نام کرامت علی رکھا گیا۔ بعد میں گلزار احمد اندراج کروایا گیا۔ بارہ بہن بھائیوں میں گلزار ملک بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ والد صاحب سبزی منڈی میں پھلوں کی ریڑھی لگاتے تھے۔
وہ تعلیم کی اہمیت و افادیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خواہاں تھے۔ سب بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور برسرِ روزگار ہو گئے۔ گلزار ملک نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول گٹی سے حاصل کی۔ 1986ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1989ء میں نان میڈیکل ایف۔ ایس۔ سی گورنمنٹ کالج آف سائنس فیصل آباد سے پاس کی۔ تنگ دستی کی وجہ سے کئی بار تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا۔ لیکن سچی لگن اور خواہش دوبارہ تعلیم کے ساتھ رابطہ بحال کر دیتی۔ 1993ء میں بی۔ ایس۔ سی گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے کی۔ 1998ء میں ایم۔ ایس۔ سی گورنمنٹ کالج آف سائنس فیصل آباد سے کی۔ درجہ چہارم کی ملازمت سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ پھوپھی زاد سے شادی ہوئی۔ اُن کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
پڑھنے لکھنے کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔ وقت اور حالات نے اس شوق کو جلا بخشی۔ اُن کے اب تک تین اردو افسانوی مجموعے جن میں ”آزادی کے لیے ایک مزدور کی موت، آگ، اندھوں کی بستی میں محبت“ اور پنجابی افسانوں کا ایک مجموعہ ”کڑی جیہڑی ندی سی“ منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ اِن کے تین ناول ”صدی کی آخری محبت، گمشدہ میراث اور مٹی کے خدا“ شائع ہوچکے ہیں۔ اپنے اندازِ تحریر کی وجہ سے اپنے حلقۂ احباب میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ”گمشدہ میراث“ ان کا دوسرا ناول ہے۔ ”گمشدہ میراث“ کا سرِورق سفر کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں چلتے قدموں کے نشانات اور اونٹ نظر آتے ہیں ساتھ ہی ایک صراحی ہے۔ اُس کے اندر کیا ہے گم شدہ میراث یا کوئی خزانہ۔
پیش لفظ:
میں مصنف نے اپنی زندگی کے گزشتہ سفر کو کچھ اس انداز سے پیش کیا ہے کہ وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ہمارے لیے ایک Motivation ہے۔ اپنے خوابوں کی تعمیر کے لئے ہر دُکھ تکلیف اور اذیت کے ساتھ خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے کا درس ہے۔ ناول ”گمشدہ میراث“ کی بات کرتے ہیں تو یہ کہانی ایک لوہار کی ہے۔ ایک عام آدمی کی جو خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے۔ نانگے لوہار کے پاس سوائے ایک نقش کے جو اُسے اسحاق نے دیا ہے اور کوئی زادِ راہ نہیں ہے۔
وہ اپنے گھر بار بیوی بچے سب کچھ چھوڑ کر گمشدہ میراث کو پانے کے لئے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کہ اگر گمشدہ میراث کی معنویت کو پانا ہو تو سدھارتھ اور الکیمسٹ کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں ساتھ ہی سیف الملوک داستان پر بھی ایک طائرانہ نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ کیونکہ اس ناول کا انداز داستان کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ خالد فتح محمد کے مطابق گلزار ملک نے اس (خزانے ) کی تلاش میں زندگی کی تمام کٹھنائیاں اس طرح سموئی ہیں۔ کہ وہ خزانے کی بجائے زندگی کی تلاش محسوس ہوتی ہیں۔ گمشدہ میراث کی قصہ گوئی میں ایک تسلسل ہے، کہیں بھی بیانیہ غیر واضح نہیں ہوتا۔
ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب ہے ”نیا“ ، ”انوکھا“ گمشدہ میراث کو اگر ہم ناول کہتے ہیں تو اس میں نیا اور انوکھا پن کیموفلاج ہے۔ اس میں داستان کا رنگ گہرا نظر آتا ہے۔ پھر اسے داستان کا Revival سمجھیں یا ناول میں داستان کی آمیزش، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناول اور داستان کو ملا کر ایک نئی صنف ”ناولستان“ ایجاد کی گئی ہو۔ بہر کیف ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف ماضی کے گم اوراق کو حال سے جوڑنے اور انہیں شاندار مستقبل دینے کے لیے سرگرداں ہے۔
یہ کوشش ناول میں نفسیاتی کشمکش بھی پیدا کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ناول لکھنا مصنف کی مجبوری نہیں شعوری تسکین ہے۔ جو انہیں وقت کی قید سے باہر لے جاتی ہے اور وہ Time and space سے باہر نکل کر زمانہ قدیم میں چلے جاتے ہیں۔ نانگے لوہار کا باپ ”جانا لوہار“ سونے سے بھری ایک تھیلی کی حفاظت کرتے ہوئے وہ ایک عام آدمی سے ”ولی“ بن جاتا ہے۔ نانگے کا باپ کہا کرتا تھا:
”اللہ کے بندے اس لیے اللہ والے ہوتے ہیں کیونکہ ان میں آسمانی صفات ہوتی ہیں۔ وہ چرواہوں کی طرح خدائی صفات کی نگہبانی کرتے ہیں اور ان پر پہرہ دیتے ہیں۔“ (1)
بیٹا ان صفات کے لیے جوگ لینے کی ضرورت نہیں۔ اور نہ ہی وہ زیادہ پراسرار ہوتی ہیں۔ سچ بولیے پورا تو لیے۔ امین رہیے مسکین یتیم کی سرپرستی کیجیے اور محبوب کو اپنے تصوّر میں رکھیے۔ نانگا لوہار تک جب اسحاق پہنچتا ہے۔ اور خزانے کی بابت ذکر کرتا ہے۔ تو خزانے کی تلاش میں وہ اور اس کی بیوی آمنہ سارے دالان کی کھدائی کرتے ہیں لیکن خزانہ ندارد۔ نقش کو سمجھنے اور خزانے کو پانے کے لیے وہ اَن دیکھے سفر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔
راستے میں مختلف لوگوں سے ملتا، مناظرِ فطرت کو دیکھتا اور محسوس کرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ راستے میں اسے مست، فقیر، سادہ لوح انسان حتیٰ کہ صحرائی قزاق بھی ملتے ہیں۔ ان میں قزاقوں کا سردار ساوؤان، اسحاق، اس کے باپ اور لوہار کو قید کر لیتا ہے۔ قید سے رہائی پانے کے بعد راستے کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے جب وہ گھر واپس پہنچتا ہے تو وہ پہلے جیسا نانگا لوہار نہیں رہتا۔
رومانوی انداز:
سارے ناول میں روایتی رومانوی انداز نہیں ملتا۔ لوہار اور ماریہ کچھ وقت ساتھ سفر کرتے ہیں۔ لوہار اس کے لیے نرم گوشہ تو رکھتا ہے لیکن راہِ مقصد میں حائل نہیں ہونے دیتا۔
”کیا ہوا لوہار بولا“ کیا ہوا ”وہ دوبارہ بولا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان نم ناک آنکھوں میں اتر گیا۔ جن میں اس لمحے بیدِ مجنوں اور سرکنڈوں کے ہزاروں جگنو جل بجھ رہے تھے۔“ (2)
اس ناول میں کچھ مقامات پر Monologue خود کلامی کی تکنیک بھی ملتی ہے۔ جیسے لوہار خود سے کہتا ہے :
”اپنی راہ پر چلتے رہو تیرا اس لڑکی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اپنی راہ پر چلتے رہو۔ اپنی پر چلتے رہو۔“ (3)
قزاق ماریہ کا کردار نفسانی خواہش کی طرف بھی ایک اشارہ ہے۔ راہِ طریقت میں سالک کو خواہشات کے انبار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ نفسانی خواہشات پر قابو نہیں پا لیتا انہیں اپنا مطیع نہیں کر لیتا وہ کامیاب نہیں ہو پاتا۔ جیسے ماریہ قزاق ساوؤان سے بیزار ہو کر اسے قتل کر دیتی ہے اور لوہار کی ہم راہی ہو جاتی ہے۔ گمشدہ میراث کا حسن تجسس میں ہے۔ قاری ناول کی پہلی سطر سے خزانے کا تجسس رکھتا ہے۔ لوہار کے ساتھ ساتھ سفر کرتا راہ میں آنے والی کٹھنائیوں اور اذیتوں پر دکھی ہوتا ’کبھی اس کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ ناول میں خزانے کے بارے میں ایک مبہم سا اشارہ ہوتا ہے۔ ذرا سی خزانے کی جھلک نظر آتی محسوس ہوتی ہے لیکن خزانے کی نوعیت قاری پر چھوڑ دی جاتی ہے اور آخر میں خزانہ ملتا ہے۔ خود کلامی کا ایک اور انداز دیکھیں :
”دن ڈھلنے تک وہ اسحاق کو زمین میں دفن کر چکے تھے لیکن مٹی ڈالنے سے پہلے لوہار نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا تھا۔“ اسحاق میرے بھائی۔ اس راہ میں تیری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ”(4)
منظر نگاری:
گاؤں کی ثقافت رہن سہن کو نانگا لوہار بیان کرتا ہے، وہ اپنے سفر پر گامزن ہے۔ لیکن مصنف نانگے لوہار کے ذریعے گاؤں کی ایسی تصویر کشی کرتا ہے کہ ہم خود کو اسی گاؤں میں پاتے ہیں۔ جیسے :
”مٹی گارے سے لیپا پوتھی کر کے بنائے ہوئے گھروندے اور دالان کی نکڑ میں بنائے گئے گرم چولہوں سے اٹھتا دھواں صاف اور تازہ ہوا میں گھل رہا تھا۔ مٹی پر سفیدی سے رنگے قطار اندر قطار کھڑے مکان سر سبز لہلہاتے کھیتوں میں گرے ہوئے عجیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔“ (5)
سادہ اور عام فہم زبان:
جدید اور قدیم طرز کو ملا کر لکھا گیا ناول اپنے اندر سادہ زبان اور عام فہم لہجہ کی خوبی بھی رکھتا ہے۔ مصنف نے اپنی قابلیت ظاہر کرنے کے لیے ثقیلِ لفظی سے کام نہیں لیا۔ بلکہ اس میں ایسی زبان اور سادہ لیکن بامعنی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ پڑھنے والے کو پڑھتے ہوئے معنی کو سمجھنے اور لفظ کی ادائیگی میں دِقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ مصنف کی تحریری خوبی ہوتی ہے کہ وہ ایک عام فہم اور قابلِ ذوق دونوں طرح کے قارئین کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ زبان کی سادگی اور روانی کی مثال دیکھیں :
” نانگے لوہار تم نے بالکل درست سوچا۔ سخاوت ہی وہ خدائی برتن ہے جس میں الوہی نعمتیں بسیرا کرتی ہیں۔“ مست سرخ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا بولا تھا۔ مست کے جملے پر لوہار کے بدن میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔ اس کی کرامت کا یہ پہلا مظاہرہ تھا۔ لوہار کا بدن اس کی عقیدت سے لبریز ہو گیا۔ ” (6)
داستان کا ایک اہم جزو مہم جوئی ہوتا ہے۔ سفر کرنا مہم کو سر کرنے کی سر توڑ کوشش کرنا۔ سفر کے دوران خوف ’ڈر ایک لازمی امر ہے۔ لوہار اپنے خوف کو دور کرنے کے لیے اندھیرے میں روشنی ڈھونڈنے کے لیے اولیاء سے مدد مانگتا ہے۔ گمشدہ میراث میں لوہار دورانِ سفر شاہین کو اڑتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ:
”شاہین کی آزادی سے اس کے اندر کہیں گہرائی میں ایک شدید اور توانا جذبے نے جنم لیا۔ جس سے مغلوب ہو کر اس کی نگاہیں دھندلا سی گئیں۔ یہ جذبہ یقیناً حسد کا جذبہ تھا یا پھر محرومی کا۔“ (7)
شاہین کی طرح انسان نے پرواز تو کی جہاز، راکٹ، میزائل وغیرہ شاہین ہی کی طرح پرواز کرتے جھپٹتے، پلٹتے اور اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ مصنف کی مراد شاہین کی صفات انسانوں خاص طور پر نوجوانوں کے اندر بیدار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ جو کم ہی نوجوانوں میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن مصنف اپنے پورے ناول میں کہیں بھی مایوس نہیں ہوتا۔ لوہار نے ٹھیک کہا:
” انسان سے کچھ بھی بعید نہیں ممکن ہے کل وہ اس اڑان کے بھی قابل ہو جائے۔“ (8)
کردار نگاری اور مکالمہ نگاری:
مصنف کو کردار نگاری میں ملکہ حاصل ہے۔ لوہار کا کردار چار جماعتیں پاس ہے۔ شروع سے آخر تک وہ اپنی زبان، عمل اور الفاظ کی ادائیگی میں ایک چار جماعتیں پاس لوہار ہی ہے۔ وہ علم کی بجائے دانش کی باتیں کرتا ہے۔ چونکہ وہ خزانے کی تلاش میں ہے تو دورانِ سفر مصنف اس کی کرداری تربیت کرتا بھی نظر آتا ہے۔ سچ بولیں، امین رہیں، ظلم نہ کریں۔ عاجزی سے پہاڑ کو سر کرنا سیکھیں وغیرہ۔ ساوؤان قزاق ہے۔ اس کا اندازِ گفتگو، نشست و برخاست ایک قزاق جیسی ہی ہے۔
بھلے ہی وہ بھی گمشدہ میراث کو پانے کا متمنی ہے لیکن اس کے معیار پہ صرف اپنے لالچ، تکبر اور خود غرضی کی وجہ سے نہیں پہنچ پاتا۔ ماریہ اور اس کی ماں کو قزاق نے قید کر رکھا ہے۔ ماریہ ایک خوبصورت خوش گفتار دوشیزہ ہے۔ جو اپنے موجودہ ماحول سے بے زار ہے۔ وہ اپنے اندر جاری کشمکش کو لوہار کے سامنے بیان کرتی ہے۔ لیکن لوہار بھی اس کو حل نہیں کر سکتا۔ ماریہ ہمارے سماج ہی کا ایک حصّہ معلوم ہوتی ہے۔ مصنف نے اس کے حسن و خوبصورتی کو بیان کرتے ہوئے حسن کا پیکر تراشا ہے۔
”کمر ہرنی کی مانند، غزالی آنکھیں اور شہد سے لبریز لب لوہار اپنی آنکھیں جھپکنا ہی بھول گیا۔“ (9)
لوہار کی سنگت سے آہستہ آہستہ اس کی فراست میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر وہ ابلیس سے جان چھڑوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ آمنہ، اسحاق اور اسحاق کا باپ ضمنی کردار ہیں۔ جو اپنے حصّے کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماریہ لوہار کے اچھے خصائل کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہوتی ہے۔ ظاہری طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ لوہار بھی متوجہ ہو جاتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ ماریہ اور لوہار کا ایک تربیتی دور ہے کہ اپنے مقصد کو پانے کے لیے ہمیں ہم نوا ’ہم خیال ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔
کہانی کو لوہار بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ واقعات میں تسلسل اور روانی پائی جاتی ہے۔ اندازِ بیان اس تسلسل و روانی کو تقویت دیتا ہے۔ قاری سرِورق کو دیکھتے دیکھتے ناول واپس رکھتا اس وقت ہے جب نانگا لوہار کہہ دیتا ہے کہ میں نے نقش پڑھ لیا۔ نقش پر لکھا تھا:
”خزانہ اولیاء کے قدموں تلے ہے۔“ (10)
اور یہی جملہ اس ناول کی بنیاد ہے۔ اس کا پلاٹ سادہ اور مربوط ہے۔ سارے ناول میں ہمیں واقعات تسلسل کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ہر کردار اپنے حصّے کا کردار ادا کر کے ایک بہتر انداز سے منظر سے ہٹ جاتا ہے۔ اور دوسرا کردار بھرپور انداز سے اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ آغاز سے عروج اور عروج سے مسائل کو حل کرنے اور الجھنے سلجھانے کا عمل مصنف کے پختہ قلم کی نشاندہی کرتا نظر آتا ہے۔
اصل میں یہ ناول مادیت میں پھنسے ہوئے، مادیت سے جڑے ہوئے، خوشحالیوں میں مگن، روحانی موت سے دو چار انسانوں کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ اس کوشش کورنگ ان کے اندازِ بیان نے لگا دیے ہیں۔ بعض اوقات یہ سارا کچھ خواب سا محسوس ہوتا ہے کیونکہ آج AI کے دور میں گمشدہ میراث جیسا ناول لکھنا لکھاری کے ذوق کے ساتھ ساتھ ان کے Time and space کی تکنیک کو استعمال کرنا بھی ظاہر کرتا ہے۔ نانگا لوہار تمام مہمات سر کر کے واپس آ جاتا ہے۔
لیکن اس کے گھر کا ماحول، گاؤں کے حالات و واقعات اور اس کا بیٹا اسی عمر کا ہے۔ سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے۔ نہ کوئی ترقی نظر آتی ہے نہ تنزلی۔ جیسے نانگے نے کوئی طویل خواب دیکھا ہو۔ اور اسے چند منٹ لگے ہوں اور ساری مہمات سر ہو گئیں ہوں۔ لیکن اس کے باوجود سارے کردار جیتے جاگتے مصروفِ عمل ہیں۔ اور ہر عمل کا ایک رد عمل بھی موجود ہے۔
(حوالہ جات)
1۔ گلزار ملک، گمشدہ میراث، لاہور:فکشن ہاؤس، 2021، ص:23
2۔ ایضاً، ص:118
3۔ ایضاً، ص:93
4۔ ایضاً، ص:209
5۔ ایضاً، ص:95
6۔ ایضاً، ص:100
7۔ ایضاً، ص:95
8۔ ایضاً، ص:94
9۔ ایضاً، ص:182
10۔ ایضاً، ص:239


