دودھ کی تھیلی
” کاشف، دودھ، کاشف۔“
یہ سوچ سوچ کر تیس سالہ خوبرو خدیجہ کا سر پھٹا جا رہا تھا۔
”ایک کاشف جس نے دودھ کے گلاس کو دھکیل دیا، اور دودھ کو چکھا تک نہیں۔ اور دوسرا کاشف چائے میں دودھ کی چند بوندوں کے لئے ترستا رہا۔“
پھر اس کا ذہن بیگم صاحبہ کی طرف چلا گیا۔ ”وہ بھی کوئی میری عمر ہی کے لگ بھگ ہو گی۔ جب پرسوں مجھے اس کے سامنے لے جا کر زمیں پہ بٹھایا گیا تو مجھے کس طرح گھور گھور کر دیکھ رہی تھی، اپنی تیز نظروں سے میری جانچ پڑتال کر رہی تھی۔ اور میں اس کے سامنے زمین پہ بیٹھی ہوئی نگاہیں جھکا کر صرف کنکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ میں نے اسے گھور کر کیوں نہیں دیکھا؟“ پھر خیالوں کی چکّی اس کی نیند اڑا کر لے گئی۔
آخر رات کے تیسرے پہر خدیجہ کی آنکھ لگی لیکن خوابوں اور خیالوں میں وہ اس تکون سے باہر نہ نکل پائی۔ صبح چھ بجے وہ اٹھی تو پھر اسی تکون نے اس کے ذہن کو دبوچ لیا۔ ”کاشف، دودھ، کاشف۔ آخر ایسا کیوں ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے، شہر والے، ملک والے، کرسی والے، سارے انسان!“
اس نے اس بوسیدہ مکان میں سورج کی پہلی کرن کے داخل ہوتے ہی سر کو جھٹکایا جیسے وہ سارا بوجھ اس کرن کے حوالے کر رہی ہو۔
خدیجہ ٹھیک نو بجے بنگلے میں پہنچ گئی۔ یہ اس کی ملازمت کا دوسرا دن تھا۔ اب کاشف اس کے ساتھ قدرے مانوس ہو گیا تھا۔ دس بجے کاشف کے لیے ناشتے کی ٹرے آئی تو دودھ کا گلاس دیکھ کر خدیجہ کا ذہن بکھر گیا اور وہ چند لمحوں کے لیے اسی کو گھورتی رہی۔ ”یہ دودھ کتنا زندگی سے بھرپور ہے، کتنا دل کش ہے، کتنا سندر ہے، کہتے ہیں کہ خدا کا نور ہے۔ قدرت نے اسے ایک عام چیز بنایا ہے، لاکھوں جانور روز انسانوں کو اپنا دودھ مہیا کرتے ہیں لیکن بعض لوگوں کے لیے پھر بھی اتنا ہی نایاب ہے۔ یہ کاشف، وہ میرا کاشف، دودھ۔“ اس کا ذہن یہ تکون بناتا رہا اور توڑتا رہا۔ ”میرے کاشف کو کیوں دودھ نہیں مل سکتا؟ اس کا جرم کیا ہے؟ کاشف اور کاشف میں اتنا فرق کیوں ہے۔ ایک کاشف وزیر کا بیٹا اور میرا کاشف جس کا باپ کرونا وائرس سے چل بسا اور محض ایک سرکاری گنتی کا حصہ بن گیا جو روز ٹی وی، ریڈیو، اور اخبارات میں نشر یا شائع ہوتی ہے۔ “
جب کاشف نے دودھ پینے سے انکار کر دیا تو خدیجہ نے چھپ کر وہ دودھ ایک پلاسٹک کی تھیلی میں انڈیل دیا۔ یہ دودھ کی تھیلی اس نے ایک کپڑے کے تھیلے میں چھپا دی جو وہ گھر سے لے کر آئی تھی اور اس کو پچھلے لان میں سائے میں رکھ دیا۔ ”اب یہ کاشف نہیں روئے گا اور نہ ہی میرا کاشف آج روئے گا۔“
شام سات بجے خدیجہ نے باورچی کو خدا حافظ کہا، پچھلے لان میں گئی، اور تھیلا اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑی۔
اندھیری رات تھی، کہیں کہیں ٹمٹماتا ہوا بلب دھیمی دھیمی روشنی دے رہا تھا۔ بلا سوچے اس نے دودھ کی تھیلے کو چھوا اور ایک مسرت کی لہر سر سے پاؤں تک دوڑ گئی۔ اس کے اپنے بچے اس کی انکھوں کے سامنے آنے لگے۔ ”کاشف چٹائی پر بیٹھا ہوا خوشی خوشی دودھ پی رہا ہے۔“ اب پھر خدیجہ کی انگلیاں دودھ کی تھیلی سے کھیلنے لگیں اور اس کے قدم اور لمبے ہو گئے۔ اتنے میں ایک چھوٹے ٹرک کی ہیڈ لائٹ کی روشنیوں نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا اس کا پیر ایک کھڑی ہوئی سائیکل کے پہیے میں پھنسا، مگر گرنے سے پہلے ہی اس نے خود کو سنبھال لیا۔ کچھ سیکنڈوں کے لیے رک کر خدیجہ پیر کو سہلانے لگی، پھر اچانک اس نے دودھ کی تھیلی کو چھوا مگر اس دفعہ ایک فکر کی لہر اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔ اس نے دودھ کی تھیلی کو قریب پڑے ہوئے کوڑے کے ڈرم میں پھینک دیا۔
وہ کچھ قدم اٹھا کر رک گئی، اور واپس کوڑے کے ڈرم کی طرف چل دی۔ ہلکی ہلکی روشنی میں اسے کوڑے میں پڑی ہوئی دودھ کی تھیلی نظر آئی اور اس کا ذہن پھر بکھر گیا۔ خدیجہ وہیں منجمد ہو گئی۔



Impressive emotional story