امیدِ فردا: تعلیم کے ساتھ کھلواڑ بند کرو


تعلیم کے پیشہ سے وابستہ تمام افراد اس حقیقت کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ تعلیمی تنزلی کا آغاز مشرف کے دور میں ہوا، جب ہمارے اعلیٰ عہدوں پر متمکن افراد کو ہمارے تعلیمی نظام میں مین میخ نکالنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی، نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ نصاب کو جدید بنانے کے بہانے، ہماری آنے والی نسلوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑانے والا نصاب پکڑا دیا گیا۔ عمران خان کے دور میں بچوں کو کرونا کے بہانے وقفے وقفے سے گھر بٹھانے کا ایسا احمقانہ سلسلہ شروع ہوا جس کی آج تک نظیر نہیں مل سکی۔ موسم کی شدت کے بہانے موسم سرما کی تعطیلات کا دورانیہ ایک ماہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی عمل پہ تجربات کا جو سلسلہ اس دور میں شروع ہوا اس نے ہمارے نظام تعلیم پہ ایسی ضرب لگائی ہے جس کی وجہ سے بچے تو بچے خود والدین کا دل نہیں کرتا کہ وہ اپنے بچے کو سکول بھیجیں۔ اس دور کے اختتام کے بعد اہلِ دل اور قوم کا درد رکھنے والے مجھ جیسے اکثر افراد کو مسلم لیگ نون کی حکومت سے امید تھی کہ وہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ دیر سکول میں پابند رکھے گی تاکہ سابقہ ادوار میں بچوں کا جو تعلیمی حرج ہوا تھا اس کو پورا کیا جا سکے۔ 24 مئی تا 15 اگست کی طویل تعطیلات ابھی گزری نہیں تھیں کہ موجودہ صوبائی وزیر تعلیم نے بغیر سوچے سمجھے، سوشل میڈیا پہ موجود احمقوں کے ٹولے کی فرمائش پر بچوں کے لئے ہفتہ کی چھٹی لازمی قرار دے دی۔ اس تعلیم دشمن ٹولے کے پاس اساتذہ پر کام کے بوجھ کا بہانہ تھا، وہ اساتذہ جو سردی گرمی مختلف محکمہ جات کے کام کا بوجھ اٹھاتے ہیں ان پہ تعلیمی بوجھ کم کرنے کے لئے بچوں کو گھر بٹھانے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا اور اساتذہ کو ٹریننگ کے نام پر تین گھنٹے کے لئے سکول پابند کیا گیا۔ یاد رہے کہ ٹریننگ کے نام پر ہمارے صوبہ پنجاب میں جو ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، وہ بھی قابل مذمت ہے۔ حال ہی میں ایک این جی او کے تعاون سے ECCE ٹریننگ کے نام پر ایک معقول معاوضے پر پرائمری سکولوں کے سربراہ معلمین کے لئے مخلوط تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں سوائے آئیں بائیں شائیں اور مخلوط گروپ بنا کر مختلف سرگرمیوں اور لنچ کا ایک احمقانہ سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہی حال اساتذہ کی آن لائن تربیت کا ہے جس کی سند آپ یا تو کسی کو پیسے دے کر نکلوا سکتے ہیں یا پھر لنک میں اپنی آئی ڈی پیسٹ کر کے بغیر کوئی کام کیے ، اپنا سرٹیفکیٹ نکال سکتے ہیں۔

بات کی جائے اساتذہ پر کام کے بوجھ کی تو زمینی حقائق کے مطابق اگر دیکھا جائے تو اصل میں ہمارے بچے سکول 365 دنوں میں سے صرف 170 سے 180 دن سکول جاتے ہیں جو کہ بمشکل سال کا آدھا بنتا ہے۔ اب اگر ہفتے کو بھی سکول بند کر دیا جائے گا تو ہمارے بچے صرف 140 دن سکول کا منہ دیکھیں گے۔ یاد رہے کہ اس میں اگر ہر استاد کی 25 رخصت اتفاقیہ اور بچے کی 30 سالانہ رخصت اتفاقیہ شمار کریں تو یہ عرصہ صرف 90 دن تک جا پہنچتا ہے۔ یاد رہے کہ اس میں جمعۃ المبارک کی آدھے دن کی تعطیل کو شمار نہیں کیا گیا، اگر تین گھنٹے جمعۃ المبارک کے بھی شمار کیے جائیں تو ہمارے بچے صرف دو ماہ ہی مکمل طور پر سکول کا منہ دیکھتے ہیں کجا یہ کہ تعلیم دشمنی میں اس کے 48 دن اور بھی کم کیے جا رہے ہیں۔

مجھے تو فی الحال یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم دین اسلام کی پیروی کر رہے ہیں یا مغرب کی، اگر ہم دین َ اسلام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو ترتیب دیتے تو اسلام تعلیم پہ جتنا زور دیتا ہے دنیا کا کوئی مذہب اس کی ہمسری کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا اور اگر مغرب کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانا چاہتے ہیں تو ذرا ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مختلف ریاستوں کے سکولوں کے نظام الاوقات کی ایک جھلک دیکھ لیں، اوریگون ریاست کے بچے، اسکول میں 172 دن جاتے ہیں اور روزانہ اوسطاً 6.57 گھنٹے اسکول میں گزارتے ہیں، نیشنل سینٹر فار ایجوکیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم دن کے حساب سے، ریاست جارجیا کے طلباء اسکول میں 181 دن گزارتے ہیں، اوسطاً 6.79 گھنٹے فی دن جبکہ فلوریڈا کے طلباء اسکول میں اوسطاً 184 دن گزارتے ہیں۔ یاد رہے کہ پورے امریکہ میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل چھٹی بھی ہوتی ہے۔

اب ذرا دوسرے مغربی ممالک کو بھی دیکھ لیں، جن کی مثالیں دیتے اور تعریفیں کرتے ہمارے اہل علم کا منہ نہیں تھکتا۔ فن لینڈ کو دنیا کی بہترین تعلیم میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، عام طور پر ، فن لینڈ کے اسکول کا دن صبح 9 سے 9.45 بجے تک شروع ہوتا ہے، اور طلباء عام طور پر دن میں تقریباً پانچ گھنٹے کلاس روم میں گزارتے ہیں۔ مزید یہ کہ فن لینڈ کے طلباء کے پاس عام طور پر کوئی ہوم ورک نہیں ہوتا ہے۔ جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے۔ فن لینڈ کے اساتذہ اپنے امریکی ہم منصبوں کے مقابلے میں اسکول کی عمارت میں نمایاں طور پر کم وقت گزارتے ہیں، اور انہیں حکومت کی طرف سے شامل ٹیوشن کے ساتھ ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم کے لحاظ سے افریقی ممالک میں سرفہرست، کینیا عام طور پر اپنے بچوں کو صبح آٹھ بجے سے دوپہر ساڑھے تین بجے کے درمیان تعلیم دیتا ہے۔ کھیلوں اور کلبوں کے لیے ایک اضافی گھنٹہ بھی دیا جاتا ہے۔ مجھے مختلف نجی تعلیمی اداروں کا نظم و نسق سنبھالتے 25 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

میرے مشاہدے کے مطابق تعلیمی تنزّلی کا سب سے اہم محرک ہمارے افسران اور حکمت عملی ہے کہ نہ کہ اساتذہ، حالانکہ خراب نتائج اور بچوں کی تعلیم میں عدم دلچسپی اور بچوں کے ڈراپ آؤٹ کا مورد الزام ہمارے اساتذہ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ نجی سکول اپنے نصاب کا سو فیصد ماہ دسمبر سے قبل ہی مکمل کر لیتے ہیں اور دہرائی کے لئے ان کے پاس تین ماہ کا ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، جس کے دوران وہ تعلیمی طور پر کمزور طلباء کے ساتھ ساتھ ذہین طلباء کی بھی رہنمائی کر لیتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں پبلک سکول کبھی ثقافتی ڈے، کبھی مینا بازار تو کبھی الیکشن کے ساتھ ساتھ مختلف فضول سرگرمیوں میں بچوں کا وقت ضائع کرتے ہیں اگر ان سرگرمیوں کے لئے روزانہ 30 سے 45 منٹ رکھ دیے جاتے تو سب سے بہتر تھا، اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پرویز الہی کے دور کے بعد عرصہ چھ، یا سات سال میں، کبھی بھی طلباء کو وقت پر مفت کتابیں مہیا نہیں کی جاتی۔ یہ کتابیں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں تک پہنچتی ہیں۔

صوبہ پنجاب کے جماعت نہم کے نتائج اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ طلباء کی درست انداز میں راہنمائی نہیں کی جا رہی جس کی بنیادی وجہ جماعت پنجم اور ہشتم کے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے امتحانات کا نہ ہونا ہے۔ یہ امتحانات دراصل ایک چھلنی اور بیرونی نظام امتحان کی تیاری کا ایک مربوط طریقہ تھے۔ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن اس وقت اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے تمام جماعتوں کے آن لائن پرچہ جات مہیا کرنے کے علاوہ کوئی خاص کارنامہ سر انجام نہیں دے پا رہا۔ سالانہ امتحانات کے دوران اساتذہ یہ پرچہ جات اکثر بچوں کو خود حل کرواتے ہیں یا اپنے ہاتھ سے حل کر کے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اوپر سے خصوصی ہدایات آتی ہیں کہ یہ پرچہ جات کسی بھی وقت کوئی افسر چیک کر سکتا ہے، لیکن ان کا معائنہ کرنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوتی۔ بچہ اسی طرح اساتذہ کے بھر پور تعاون سے جماعت در جماعت سیڑھیاں طے کرتا جب نہم میں پہنچتا ہے اور کمرہ امتحان میں اس کا کوئی خاص مددگار نہیں ہوتا تو بچہ اردو اور اسلامیات جیسے مضامین میں بھی کامیاب نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم مسئلہ اساتذہ کے تربیتی پروگرامز کا ہے، مجھ ناچیز کی رائے میں یہ سوائے QAED کے وجود کو برقرار رکھنے اور اساتذہ کو الجھانے کے کچھ بھی نہیں ہے۔ تعلیم اور تعلّم ایک عملی مضمون ہے۔ دوران تربیت ہمارے پاس کوئی تجربہ گاہ نہیں ہوتی سوائے ٹرینر اور ٹرینی کے، ایسی تربیت کا کیا فائدہ، جس میں فاعل تو موجود ہو مفعول اپنے گھر میں یا کمرہ جماعت میں مزے سے بیٹھا ہو۔ اگر دیکھا جائے تو مغربی نظریات سے متاثرہ ان تربیتی ورکشاپس کا سوائے افسران کی جیبیں بھرنے کے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ ابھی EASTE کے پانچ ماڈیول کی آن لائن تربیت ہو چکی ہے۔ اور یہ تمام ماڈیول، برٹش کونسل نے تیار کر کے دیے ہیں، اندر کی کہانی خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن ہمارے اساتذہ اور طلباء کے لئے اس تربیت کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آ رہا۔

Facebook Comments HS