شاہ عبدالطیف بھٹائی
آج ہم نہایت احترام اور احسان و عجز کے ساتھ سندھ کے آفاقی پیغام اور فکر رکھنے والے صوفی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمت اللہ علیہ کے 281 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں۔ دنیا میں بہت کم شاعر ایسے ہوں گے جن کو اپنے علاقے کے رہنے والوں نے اس قدر عقیدت، محبت اور احترام دیا ہو جیسا شاہ لطیف کو اہل سندھ نے دیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شاہ لطیف نے اپنی بلند پایہ شاعری اور دل گداز افکار سے خود سندھی زبان کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ زندگی کی جن ہمہ گیر حقیقتوں کو انہوں نے اپنی شاعری میں سمویا ہے وہ اظہار بیان اور لطافت زبان کا ایک معجزہ ہے۔ شاہ لطیف نے اپنے افکار کے ذریعے قرآن کی صداقتوں، حدیث پاک کی ہدایتوں اور تصوف کی لطافتوں کو نہایت موثر اور دلکش انداز میں پیش کیا ہے اور اس طرح انہوں نے خدا کی وحدانیت، اس کے آخری رسولﷺ کی رسالت اور قرآن حکیم کی حقانیت سمجھنے کی جانب انسانوں کی رہنمائی کی ہے۔
شاہ لطیف کی شاعری سندھ کی ثقافت کی آئینہ دار ہے۔ یوں تو شاہ لطیف کا تعلق شہری شرفا کے کلچر سے تھا اور وہ عربی اور فارسی کے عالم بھی تھے لیکن انھوں نے اپنی شاعری کا آہنگ اور لہجہ غریب اور مجبور عوام سے لیا ہے اور اسی لہجے اور آہنگ میں انہوں نے عام آدمی کے دکھوں، محبتوں اور محرومیوں کے گیت گائے ہیں۔ انہوں نے اپنے دکھ کے حوالے سے اپنے عوام کے دکھوں کا احساس کیا اور اسی احساس کا اگلا مرحلہ ساری انسانیت کے غموں اور محرومیوں کا ادراک تھا جس نے ان کے کلام کو آفاقی جہت عطا کی ہے۔ دوسری طرف یہ شاہ سائیں کی شخصیت کا اثر اور ان کے کلام کی تاثیر تھی کہ عام لوگ اسلام کی صحیح اور سچی تعلیم سے واقف ہونے لگے۔ بہت سے غیر اسلامی طریقے رفتہ رفتہ ختم ہونے لگے۔ ذات پات کی تمیز ختم ہوئی اور لوگوں کی زندگیوں میں اسلامی مساوات اور اخوت کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔
شاہ لطیف نے عالم انسانیت کو ایک پیغام دیا ہے اور پیغام یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان سارے اختلافات اور قوموں کے درمیان سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر افراد اور اقوام خود پسندی کی روش ترک کر دیں اور ان اخلاقی قدروں کو اپنا رہنما بنا لیں جن کی روشنی خالق کائنات پر ایمان کے حوالے سے حاصل ہوتی ہے۔ شاہ لطیف نے عالم انسانیت کو محبت کا پیغام دیا ہے اور اس محبت میں سندھ کے صحرا کی وسعت اور دریا کی نمی کا لمس شامل ہے۔ دراصل یہ کہنا مبالغہ نہیں بلکہ اظہار حقیقت ہے کہ سندھ کی سرزمین اور شاہ لطیف کی شاعری ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔ اور ان کا کلام سندھ کی عالمی پہچان کا ایک بڑا اہم وسیلہ بن گیا ہے۔
شاہ لطیف کا پیغام عمل یوں تو ہمیشہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے لیکن آج جبکہ ہم ان کے عرس کی تقریبات کے ذریعے ان کی عظمت کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں یہ ضروری ہے کہ ہم ایک بار پھر پورے صدق دل سے ان کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کریں کیونکہ یہی ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ آج ہمارے لئے شاہ لطیف کے پیام محبت پر عمل پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کیونکہ آج ہم مختلف نوعیت کے باہمی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں اور رواداری اور مساوات کا وہ سبق بھول بیٹھے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کی بنیاد ہیں اور جن کی تابانی سے شاہ سائیں کی پوری زندگی اور پورا کلام منور ہے۔
شاہ سائیں کا کلام درحقیقت مثبت و منضبط حرکت و عمل کا پیام ہے جو بے عملی، غفلت شعاری، کوتاہ اندیشی، ناشناسی اور پست ہمتی سے کوئی سروکار نہیں رکھتا بلکہ یہ ہمیں سخت کوشی، نظم و ضبط، اتحاد و یگانگت، ایثار و قربانی، صبر و رضا، تلاش و تجسس، علم و عرفان، خود اعتمادی، خود نگری، خود احتسابی اور تعمیری سرگرمیوں میں ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔
شاہ لطیف کے پیغام کا اصل مقصد یہ ہے کہ سندھ کی سر زمین پر امن و سلامتی، خوشحالی اور محبت و رواداری کا بول بالا ہو اور انسان، انسان کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو جائے۔


