5: ٹرین ٹو کوئٹہ، ایک مسافر کی داستان۔
شام کے چھ بجے کوئٹہ اترتے ہی ہم نے اپنے چمن کے ہم سفر ساتھیوں کو الوداع کہا اور تصاویر اتروائیں۔ میرا ارادہ اس بار ٹرین سے چمن جانے کا تھا لیکن راستے میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے چمن میں دھرنا اور ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے ٹرین بھی بند ہے۔ یہی بات بعد میں بھی کنفرم ہو گئی۔ اصل میں تو ٹرین کا سفر کرنا مقصود تھا جب وہ ہی بند تھی تو چمن جانے کا پلان کینسل کیا اور زیارت جانے کا پروگرام بنایا۔
وقت پہ پہنچنے کا فائدہ یہ ہوا کہ میں نے اور انوار بھائی نے آرام سے ایک اچھا ہوٹل ڈھونڈا (محمد علی جناح روڈ پہ لائن میں اچھے اور سستے ہوٹل آپ کو مل جائیں گے ) جو انتہائی مناسب داموں مل گیا اور وہاں سامان رکھ کے فریش ہوئے۔
انوار بھائی کے جہاں مجھے کئی اور فائدے ہوئے وہاں ایک ان کا خوش خوراک ہونا بھی تھا۔ میرے نہانے تک موصوف نے وی لاگز کی مدد سے کوئٹہ کے بہترین ہوٹل ڈھونڈ لیے اور پہلی رات ہم نے ”شاہ ولی“ جانے کا فائنل کیا۔
شاہ ولی ریسٹورنٹ، میزان چوک کے پاس سورج گنج بازار میں واقع ایک مصروف ترین ریستوران ہے جہاں کوئٹہ کے تقریباً تمام روایتی کھانے سرو کیے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے منفرد بات ان کا بیٹھنے کا انتظام اور خوبصورت ماحول ہے۔ یہاں چھت پہ عوام کے لیے غالیچے اور گاؤ تکیے لگائے گئے ہیں۔ یہاں ہم نے کابلی پلاؤ، روش اور افغانی بوٹی کا آرڈر دیا۔ قیمتیں وہی پنجاب والی ہی ہیں لیکن ذائقہ مختلف تھا۔ روش کے ساتھ یخنی کی بجائے دال سرو کی گئی اور ختم ہونے پر روغن زیتون ساتھ دیا۔ میں چونکہ گوشت زیادہ نہیں کھاتا سو انوار بھائی نے روش سے انصاف کیا اور اسے بہتر بتایا۔
کوئٹہ میں میرے دوست فیض شیخ کے مطابق ٹیکسی زیارت جا کر وہاں کے اہم مقامات دیکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے اور ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی۔ زیارت کے لیے ہم نے دس ہزار میں ٹیکسی فائنل کی جس نے ہمیں زیارت کے اندر بھی کچھ دوسری جگہوں پہ لے جانا تھا۔ یہاں سے ہم سرینا پہنچے اور وہاں کی کافی پی جو انوار بھائی کے مطابق ان کے معیار کے مطابق نا تھی، چونکہ انوار بھائی ایک زبردست فوڈ لور ہیں سو ان کی بات پہ میں آنکھ بند کر کے یقین کر سکتا ہوں۔
صبح تیار ہو کہ قریبی چائے خانہ کم دکان سے لذیذ بل والے پراٹھے اور سبز مرچ کے آملیٹ کا ناشتہ کیا۔ اتنے میں گاڑی والے چاچا اور فیض بھائی بھی پہنچ گئے۔ ہم نے چائے پی اور اکٹھے زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔
فیض محمد شیخ کا تعلق کچھی کے علاقے بھاگ سے ہے لیکن وہ عرصہ دراز سے تعلیم و روزگار کے سلسلے میں کوئٹہ مقیم ہیں۔ پیشے سے ایک گرافک ڈیزائنر اور پبلشر ہیں۔ عجائب گھروں پر میری دوسری کتاب ”حیرت سرائے پاکستان“ بھی ان کے ادارے ”ایلاف“ نے چھاپی ہے۔ فیض کو اس سفر میں ساتھ شامل کرنے کا ایک مقصد ان کو جاننا بھی تھا۔
زیارت کی زیارت۔
کوئٹہ سے نکلے تو گرمی بتدریج کم ہوتی محسوس ہوئی۔ ویسے کوئٹہ میں بھی گرمی زیادہ نہیں تھی۔ کچلاک، بوستان، ولگئی، غڑکی اور وام سے ہو کر ہم بابِ زیارت کے سامنے پہنچ گئے۔ یہاں زبردست قسم کی ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ بابِ زیارت شہر کا خوبصورت دروازہ ہے جس کے پاس ہی الہجرہ کالج واقع ہے جس کی تفصیل آگے پیش کی جائے گی۔
سبی ڈویژن کا ٹھنڈا ضلع زیارت، کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور دُکی، لورالائی، ہرنائی، کوئٹہ اور پشین کے اضلاع سے گھرا ہوا ہے۔
کبھی بھی گرمی نا دیکھنے والا یہ شہر پاکستان اور بلوچستان کے پُر فضا سیاحتی مقامات میں شامل ہے جہاں ملک کے بیشر حصوں سے لوگ گرمیوں میں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں۔
یہ علاقہ اپنے قدرتی حسن کی بدولت انیسویں صدی کے وسط میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ کی نظر میں آ گیا اور اسے گرمائی مقام تجویز کیا گیا۔ 1882 میں یہاں ریذیڈنسی بنا دی گئی اور 1887 میں اسے برطانوی حکومت نے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
زیارت کا پرانا نام غوسکی/کوشکی تھا۔ اٹھارہویں صدی میں یہاں ایک بزرگ بابا خرواری رہے تھے جن کی وفات کے بعد ان کا مزار تعمیر کیا گیا۔ لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے، جس کی وجہ سے اس کا نام زیارت پڑ گیا۔ 1886 میں اسے باقاعدہ زیارت کا نام دے دیا گیا۔ 1903 میں اس جگہ کو بلوچستان کے گرم ترین ضلع، سبی کا گرمائی صدر مقام قرار دیا گیا۔ 1974 میں اسے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا اور 1986 میں علیحدہ ضلع بنا دیا گیا۔ اس کی دو تحصیلوں میں سنجاوی اور زیارت شامل ہیں۔ آبادی لگ بھگ ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب ہے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع میں زیارت، انسانی ترقی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔
پاکستان کے سرد ترین شہر کا اعزاز بھی زیارت کے پاس ہے جو سطح سمندر سے لگ بھگ 2400 میٹر بلند ہے۔ 11 فروری 2009 ء کو اس شہر کا درجہ حرارت منفی 50 ڈگری کو چھُو رہا تھا جو پاکستان کہ کسی بھی شہر کا اب تک کا ریکارڈ کیا گیا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔
زیارت بنیادی طور پر پشتونوں کا علاقہ ہے۔ زیارت میں سارنگزئی، پانیزئی، کاکڑ، ترین اور دوتانی پشتون آباد ہیں جبکہ سنجاوی میں، دمڑ، غلزئی، پیچئی، ونیچئی، سید اور تارن مقیم ہیں۔
یہاں کے بیشتر لوگ نوکری، زراعت اور سیاحت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ یوں تو زیارت کی پیداوار میں سیب، انار، چیری، خوبانی، آڑو اور بادام شامل ہیں لیکن لال چیری سے لدے خوبصورت باغ خاص طور پر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیارت کا شمار بلوچستان کے سرسبز ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صنوبر کے وسیع جنگلات ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چلغوزہ بھی پایا جاتا ہے۔
زیارت میں جمعیت العلما اسلام (ف) کا زیادہ اثر رسوخ ہے اور اکثر نمائندے اُن ہی کے منتخب ہو کر پارلیمان میں آتے ہیں۔ جگہ جگہ دیواروں پر "زیارت کا ضلع جمعیت کا قلعہ“ کے نعرے لکھے ملتے ہیں۔ یہاں پر دوسری بڑی سیاسی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔ زیارت میں ہمارا سب سے پہلا پڑاؤ قائد کی ریزیڈنسی تھی۔
قائداعظم ریزیڈنسی۔
15 جون 2013 میرے لیے ایک دکھ بھرا دن ثابت ہوا۔ زیارت ریزیڈنسی پر بی ایل اے کے دہشت گردانہ حملے کا سن کہ افسوس ہوا لیکن جب معلوم ہوا کہ ظالموں نے راکٹوں سے بلوچستان کی نمائندہ عمارت ہی تباہ کر دی ہے تو دل جیسے بند ہونے کو آ گیا۔ میرے قائد کی یادگار جو اب تک میں نے دیکھی بھی نا تھی۔ یہ قوم کا ایک بہت بڑا نقصان تھا۔
ایک لمبی جدوجہد کے بعد قائد اعظم کا تھکنا اور بیمار ہونا کوئی اچنبھے کی بات نا تھی، لیکن آخری وقت میں ان کا بر وقت اسپتال نا پہنچ سکنا قوم کو اب بھی کھلتا ہے۔ نوزائیدہ مملکت کے گورنر جنرل نے ریاست کے تمام کاموں کی سرپرستی کا بیڑہ اٹھایا اور دن رات ایک کرنے کی وجہ سے خود کی صحت پہ توجہ نا دے سکے۔ ٹی بی کی تشخیص کے بعد آپ کے ذاتی معالج ڈاکٹر کرنل الہیٰ بخش نے آپ کو آرام کا مشورہ دیا تو قائد نے زیارت آنے کا فیصلہ کیا اور زندگی کے آخری دو ماہ دس دن یہیں قیام کیا۔
بھائی کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والی ان کی و فا شعار بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ایک نرس مس اے۔ ایس نتھینئل بھی ان کے ساتھ یہیں قیام پذیر ہوئیں۔
گھنے درختوں کے بیچ، لکڑی سے بنائی گئی یہ خوبصورت عمارت 1890 کی دہائی میں بنائی گئی تھی جہاں تاجِ برطانیہ کے بندوبست کے لیے آنے والے افسران بھی ٹھہرتے تھے۔ یہ عمارت کس نے بنائی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
قائد اعظم کے انتقال کے بعد اسے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے ”قائداعظم ریزیڈنسی“ کا نام دے دیا گیا اور عجائب گھر میں تبدیل کر کے قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی اشیاء کو نمائش کے لیے ر کھا گیا۔ یوں یہ عمارت بلوچستان کی پہچان بن گئی۔
پاکستان ٹیلیویژن سمیت دیگر چینلز پر مختلف پروگراموں میں یہی سبز عمارت بلوچستان کی نمائندگی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں سو روپے کے بینک نوٹ پر بھی یہی عمارت جلوہ افروز ہے۔
عمارت کا نقشہ بالکل سادہ ہے۔ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی راہداری کے دونوں طرف دو دو کمرے ہیں اور سامنے ایک زینہ۔ اوپر بھی اسی طرح کا نقشہ ہے۔ یوں اس عمارت میں کل چار کمروں سمیت اوپر نیچے دو برآمدے ہیں۔
عمارت کے بیرونی اطراف میں لکڑی کے ستون ہیں اور عمارت کے اندرونی حصے میں بھی لکڑی کا استعمال بہت ہی خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔
نیچے دائیں ہاتھ پر کھانے کا کمرہ اور دوسرا غالباً سٹڈی روم ہے۔ جبکہ اوپر دائیں ہاتھ پہلا کمرہ قائد اعظم کا ہے۔ آرام دہ کرسی اور وال کلاک اصلی ہیں جبکہ بقیہ سامان کو آگ لگنے کے بعد دوبارہ اسی انداز میں بنوایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ درمیان میں دروازہ ہے اور ساتھ متصل کمرہ بانی پاکستان کے معالج کا ہے۔
دونوں کمرے نہایت نفاست سے سجے تھے۔ کمرے کے ساتھ گیلری اور پھر بائیں جانب مہمانوں اور محترمہ فاطمہ جناح کا کمرہ ہے جس کے واش روم میں خوبصورت ٹب سمیت تانبے کی اصلی اور پرانی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہیں۔
رہائش گاہ میں قائد اعظم کے زیر استعمال کمروں میں ایسی کئی تصاویر آویزاں ہیں جو قائد اعظم نے اپنی بیٹی، بہن، بلوچستان کے قبائلی عمائدین اور دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ کھنچوائی تھیں۔
2008 کے زلزلے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا جس کا ازالہ اسی وقت کر دیا گیا لیکن 2013 کے مسلح حملے میں ملک دشمنوں نے اس عمارت کو بموں سے تباہ کر دیا۔ میں ایسے لوگوں کو ملک سے بھی زیادہ انسانیت دشمن سمجھتا ہوں لیکن یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ریزیڈنسی کے قریب گورنر اور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سمیت اہم سرکاری دفاتر اور رہائش گاہیں واقع ہیں تو اتنی آسانی سے کیسے کوئی اتنے اہم ورثے کو تباہ کر سکتا ہے اس رات سکیورٹی والے کہاں تھےریزیڈنسی کو فوراً کیوں نا بچایا گیا؟
یہ سوال بھی میرے عظیم قائد کی موت کی طرح ہنوز جواب طلب ہیں۔
اچھی بات یہ کہ حکومت پاکستان نے اس عمارت کی اہمیت کے پیش نظر اسے ریکارڈ وقت میں ہو بہو شکل میں بحال کیا اور 14 اگست 2014 میں افتتاح کے بعد دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا۔







