ہم سب پر سنچری
میں نے جب پہلی مرتبہ ہم سب پر اپنا پہلا مضمون بھیجا تھا تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ ایک دن یہ سلسلہ اتنا طویل ہو جائے گا کہ میں اس پر اپنے آرٹیکلز کے سلسلے کی سنچری مکمل کروں گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میرا پہلا مضمون ”میں کیوں لکھتا ہوں“ 18 مئی 2019 کو ”ہم سب“ پر شائع ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی، کیونکہ اس سے قبل میں چھوٹے چھوٹے اخباروں میں لکھ رہا تھا اور مجھے یہ لگتا تھا کہ میری تحریریں شاید اس قابل نہیں ہیں کہ وہ کسی معروف اور بڑے اخبار میں شائع ہو سکتی ہیں، کیونکہ نہ کوئی استاد اور نہ رہنما تھا، اس لیے اس ضمن میں کوئی بھی معلومات نہیں تھی، آخر کہیں سے ”ہم سب“ کے بارے میں علم ہوا، تو میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی پہلی تحریر بھیج دی، کچھ دنوں کے بعد جب یہ تحریر شائع ہوئی تو مجھے اب بھی وہ لمحہ یاد ہے کہ میں اپنے آفس میں اپنے اسٹاف کے سامنے ہی خوشی کے مارے اچھل پڑا۔ میرے لیے خود اعتمادی کا یہ پہلا قدم تھا جس نے میرے تحریری سفر کو تقویت بخشی۔
"ہم سب” نے مسلسل لکھنے کی جستجو اور تحریک دی۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ احساس بڑی شدت سے مجھے یاد دلاتا ہے کہ "ہم سب” کا میرے تحریری سفر میں نمایاں کردار ہے۔ ہم سب پر جہاں نہ صرف میری تحریریں شائع ہوئیں بلکہ مجھے نئے قارئین ملے۔ جنہوں نے میری تحریروں کو سراہا اور مجھے حوصلہ دیا، میری بھرپور پذیرائی ہوئی اور میرا تخلیقی کام بھی محفوظ ہوا۔ میرا "ہم سب” کے ذریعے نئے لکھنے والوں سے تعارف ہوا اور کئی منفرد اور مستند لکھاریوں کی تحریروں کو پڑھنے اور ان سے تبادلہ خیال کرنے کا بھی موقع ملا۔
اس ضمن میں، میں”ہم سب“ کی پوری ٹیم بالخصوص جناب وجاہت مسعود اور اور عدنان کاکڑ صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری تحریروں کو "ہم سب” پر شائع کیا ہے۔ "ہم سب” ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم ہے جس نے نئے لکھنے والوں کو ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہا ہے اور انہیں مناسب رہنمائی کے ساتھ جگہ بھی دی ہے۔
پہلے آرٹیکل سے لے کر سوویں آرٹیکل تک لکھنے کا سفر آسان نہیں ہے، مجھے ذاتی، پیشہ ورانہ اور خاندانی زندگی میں ان چند برسوں میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وسائل محدود تھے اور مسائل بے شمار، اپنوں اور پرایوں کے رویوں نے بھی شدید متاثر کیا، مشکلات نے چاروں طرف سے گھیرا اور اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ میں ایک بے سمت اور بے مقصد زندگی بسر کر رہا ہوں، لیکن ان مشکل حالات کے باوجود میں نے اپنے تخلیقی اور تحریری سفر کو رکنے نہیں دیا، ہاں یہ سفر سست رہا اور بعض دفعہ منقطع بھی ہوا لیکن کسی نہ کسی طریقے سے میں "ہم سب” کے ساتھ جڑا رہا۔
میری خوش قسمتی ہے کہ قدرت نے مجھے ہمت نہ ہارنے، مشکلات میں ڈٹے رہنے، اور لوگوں کا ساتھ نہ دینے کے باوجود بھی آگے بڑھنے کی جستجو اور ہمت دی ہے۔
میں نے اپنی تخلیقی اور تحریری صلاحیتوں کو اپنے قارئین کے سامنے بڑی جانفشانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مجھے اپنی تحریری سفر میں بہت قربانیاں دینی پڑی ہیں، جس کا اندازہ شاید عام قاری کو نہ ہو سکے۔ مجھے اپنے پہلے آرٹیکل سے لے کر آج تک ہر آرٹیکل کا اسی شدت کے ساتھ شائع ہونے کا انتظار رہتا ہے جو پہلی مرتبہ تھا۔
یقینی طور پر کسی بھی ادیب کے لیے، قارئین کی رائے سب سے قیمتی اور اہم چیز ہوتی ہے۔ لیکن میری نظر میں اس سے کہیں اہم لکھاری کا اپنی ذات کے ساتھ وہ وعدہ ہے جو اس نے اپنی تحریری سفر کے آغاز میں کیا ہوتا ہے۔
میرے لیے یہ تحریری سفر کسی اعزاز سے کم نہیں، ہاں شروع میں لوگوں کی رائے اور نقطہ نظر کی طلب ہوتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ کم ہو گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرا اپنا فیصلہ اور سفر ہے جس کے لیے مجھے خود کو بہتر سے بہتر بنانا، اور اظہار کے نئے طریقے ڈھونڈنے ہیں اور اپنی سوچ خیالات تجربات اور زندگی کے براہ راست مشاہدات کو عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔
یقینی طور پر اس ارٹیکل کو پڑھ کر بے شمار لوگ مبارکباد دیں گے لیکن میں سوچتا ہوں کہ اگر آج میری زندگی کے سب سے بڑے مینٹور میرے دادا حیات ہوتے تو وہ مجھے شاباش دینے کے ساتھ انعام بھی دیتے اور ان کے چہرے پر خوشی دیکھنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہوتا لیکن نہ جانے کیوں مجھے اب بھی یہ احساس بڑی شدت سے ہوتا ہے کہ وہ میرے کہیں آس پاس ہی ہیں، اور جب میں ان کو یہ بتاتا ہوں کہ میں نے سو آرٹیکل لکھ لیے ہیں تو تو وہ آہستہ سے میرے کندھے پر تھپکی دیتے اور مجھے شاباش دیتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کر رہے ہیں شاباش ایاز، ابھی اس سفر کا آغاز ہے، تم نے اس سو کے آگے ایک صفر اور لگانا ہے۔ اس لیے مسلسل لکھتے جاؤ۔


